کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس شخص کی زکوٰۃ کے بارے میں کہ جو اپنی زمین سے اناج نکال لینے کے بعد زکوٰۃ ادا کر دیتا ہے کہ فقہاء اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں
حدیث نمبر: 10388
١٠٣٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن (المبارك) (١) عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه أنه كان يخرج له الطعام من أرضه فيزكيه، ثم (يمكث) (٢) عنده السنتين والثلاث فلا يزكيه وهو يريد أن يبيعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاوس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ زمین کی کھیتی جب نکالی جاتی تو وہ اس میں سے زکوٰۃ ادا کردیتے پھر اس کے بعد دو تین سال تک اسکو فروخت کرنے کے ارادے سے زکوٰۃ نہ نکالتے بلکہ ٹھہرے رہتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10388
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10388، ترقيم محمد عوامة 10204)
حدیث نمبر: 10389
١٠٣٨٩ - حدثنا ابن مبارك عن ابن لهيعة قال: حدثني عبد اللَّه بن أبي جعفر (أن) (١) (عمر بن عبد العزيز كتب: إذا أخذ) (٢) من الزرع العشر فليس فيه زكاة، (و) (٣) إن مكث عشر سنين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی جعفر سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے (زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو) لکھا جب کھیتی سے عشر وصول کرلیا جائے تو پھر اس پر زکوٰۃ نہیں ہے اگرچہ وہ دس سال تک ٹھہری رہے (باقی رہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10389
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10389، ترقيم محمد عوامة 10205)
حدیث نمبر: 10390
١٠٣٩٠ - حدثنا عبد السلام عن يونس عن الحسن قال: إذا أخرج صدقة الزرع والتمر وكل شيء أنبتت الأرض، فليس فيه زكاة حتى يحول (عليه) (١) الحول.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب کھیتی، کھجور اور ہر وہ چیز جو زمین اگاتی ہے اس پر عشر وصول کرلیا جائے تو پھر اس پر زکوٰۃ نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر سال گذر جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10390
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10390، ترقيم محمد عوامة 10206)
حدیث نمبر: 10391
١٠٣٩١ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج) (١) قال: قلت لعطاء: طعام أمسكه أريد أكله، فيحول عليه الحول، قال: ليس عليك فيه صدقة، لعمري إنا لنفعل ذلك، نبتاع الطعام (وما) (٢) (نزكيه) (٣)، (فإن) (٤) كنت تريد بيعه فزكه إذا (بعته) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ : ہم کھانا اپنے پاس جمع رکھتے ہیں کھانے کی نیت سے اس پر سال گذر جاتا ہے (اس کا کیا حکم ہے) ؟ آپ نے فرمایا اس کا آپ پر زکوٰۃ نہیں ہے پھر فرمایا میری زندگی کی قسم ہم لوگ اس طرح کرتے ہیں کہ کھانا خریدتے ہیں اور اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، جب آپ کھانا فروخت کرنے کی نیت سے خریدو تو اس پر زکوٰۃ ادا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10391
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10391، ترقيم محمد عوامة 10207)
حدیث نمبر: 10392
١٠٣٩٢ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج) (١) قال: قال لي عبد الكريم في الحرث: إذا أعطيت زكاته (أول مرة) (٢) فحال عليه (الحول) (٣) عندك فلا ⦗٢٣٤⦘ تزكه، (حسبك) (٤) الأولى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ مجھے عبد الکریم نے فرمایا : جب تم کھیتی کی زکوٰۃ ایک بار ادا کردو پھر تمہارے پاس پڑی پڑی اس پر سال گذر جائے تو اس پر دوبارہ زکوٰۃ ادا مت کرنا بلکہ وہ پہلی زکوٰۃ ہی آپ کیلئے کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10392
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10392، ترقيم محمد عوامة 10208)