کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوٰۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
حدیث نمبر: 10353
١٠٣٥٣ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا) (١) علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن عبد (الكريم) (٢) عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي ﷺ قال: "ما سقي سيحًا ففيه العشر وما سقي (بالغرب) (٣) ففيه نصف العشر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمروبن شعیب اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس زمین کو جاری پانی سے سیراب کیا ہو اس پر عشر ہے اور جس زمین کو اونٹوں سے پانی نکال کر سیراب کیا ہو اس پر نصف عشر ہے۔
حدیث نمبر: 10354
١٠٣٥٤ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي (عن أبيه) (١) قال: كتب رسول اللَّه ﷺ إلى اليمن: "يؤخذ مما سقت السماء (وسقى) (٢) (بالغيل) (٣) من الحنطة والشعير والتمر والزبيب العشر، وما سقي (بالسواني) (٤) نصف العشر" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن والوں کو لکھا کہ : جس زمین کو آسمان سیراب کرے یا جاری پانی سیراب کرے، گندم، جو، کشمش اور کھجور ہوں تو اس پر عشر ہے اور جس زمین کو اونٹوں کے ذریعہ پانی نکال کر سیراب کیا گیا ہو اس پر نصف عشر ہے۔
حدیث نمبر: 10355
١٠٣٥٥ - حدثنا جرير عن منصور عن الحكم قال: (١) كتب رسول اللَّه ﷺ إلى ⦗٢٢٣⦘ معاذ باليمن: "أن فيما سقت السماء أو سقي (غيلًا) (٢) العشر وفيما سقي (بالغرب) (٣) والدالية نصف العشر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن میں لکھا : جس زمین کو آسمان یا جاری پانی سیراب کرے اس پر عشر ہے اور جس زمین کو اونٹوں کے ذریعہ یا ڈولوں کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس پر نصف عشر ہے۔
حدیث نمبر: 10356
١٠٣٥٦ - حدثنا وكيع (عن همام) (١) عن قتادة عن صالح أبي الخليل قال: سن رسول اللَّه ﷺ فيما سقت السماء (أو) (٢) العين (السائحة) (٣) (و) (٤) (ماء) (٥) (الغيل) (٦) أو كان (بعلا) (٧) العشر كاملًا، وما سقي (بالرشاء) (٨) (فنصف) (٩) العشر (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح بن ابو الخلیل سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طریقہ جاری فرمایا کہ جس زمین کو آسمان کا پانی، یا جاری چشمہ، اونٹوں کے ذریعہ سیراب کیا جائے یا پھر اس زمین کو پانی کی ضرورت نہیں ہے وہ زمین کی تری سے پانی حاصل کرتی ہے ان سب پر کامل عشر ہے اور جس زمین کو رسی (ڈول) کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس زمین پر نصف عشر ہے۔
حدیث نمبر: 10357
١٠٣٥٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن (عاصم بن ضمرة) (١) عن علي قال: فيما سقت السماء أو كان (سيحًا) (٢) العشر، وما سقي بالدالية ⦗٢٢٤⦘ (فنصف) (٣) العشر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس زمین کو آسمان کا پانی یا جاری پانی سیراب کرے اس پر عشر ہے اور جس زمین کو ڈول کے ساتھ سیراب کیا جائے اس پر نصف عشر ہے۔
حدیث نمبر: 10358
١٠٣٥٨ - حدثنا ابن علية عن ابن (أبي) (١) (عروبة) (٢) عن قتادة قال: سن رسول اللَّه ﷺ فيما سقت السماء أو سقى (الغيل) (٣) (و) (٤) كان بعلًا العشر [كاملًا وما سقي بالرشاء فنصف العشر] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طریقہ جاری فرمایا کہ جس زمین کو بارش یا جاری چشمہ یا اونٹوں کے ذریعہ سیراب کیا جائے یا پھر اس زمین کو پانی کی ضرورت نہیں ہے وہ زمین کی تری سے پانی حاصل کرتی ہے ان سب پر کامل عشر ہے اور جس زمین کو رسی (ڈول) کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس زمین پر نصف عشر ہے اور حضرت قتادہ کہا کرتے تھے کہ جن پھلوں کو کیل کیا جاتا ہے ان میں عشر یا نصف عشر ہے۔
حدیث نمبر: 10359
١٠٣٥٩ - قال: وقال قتادة: وكان يقال فيما يكال من (الثمرة) (١) العشر ونصف العشر.
حدیث نمبر: 10360
١٠٣٦٠ - حدثنا محمد بن (١) بكر عن ابن (جريج) (٢) قال: أخبرني موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر أنه كان (يقول) (٣): صدقة الثمار والزرع وما كان من نخل أو زرع من حنطة أو شعير أو سلت (مما) (٤) كان بعلًا أو يسقي (بنهر) (٥) أو ⦗٢٢٥⦘ يسقي (بالعين) (٦) أو (عثريا) (٧)، (و) (٨) (ما) (٩) يسقي بالمطر ففيه العشر [(من) (١٠) كل عشرة واحد] (١١)، وما كان منه يسقى بالنضح ففيه نصف العشر (في) (١٢) كل عشرين واحد (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پھلوں پر زکوٰۃ اور کھیتی کی زکوٰۃ خواہ وہ کھجور ہو، گندم ہو یا جو ہو یا جو کی ہی کوئی نوع، یا پھر اسکو نہر سے سیراب کیا جاتا ہو یا چشمے کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہو یا اسکو بارش کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہو ان پر عشر ہے یعنی دس پر ایک، اور جس زمین کو ڈول سے سیراب کیا جاتا ہو اس پر نصف عشر ہے یعنی بیس پر ایک، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حارث بن عبد کلال اور دوسرے حضرات کو یمن میں لکھ کر بھیجا تھا کہ مؤمنین کے وہ اموال (زمین) جن کو چشمہ کے پانی سے سیراب کیا جائے یا آسمان کے پانی سے سیراب کیا جائے اس پر عشر ہے اور جس کو سیراب کیا جائے ڈول سے اس پر نصف عشر ہے۔
حدیث نمبر: 10361
١٠٣٦١ - وكتب النبي ﷺ إلى أهل اليمن إلى الحارث بن عبد (كلال) (١) ومن معه من أهل اليمن من معافر وهمدان: " (أن) (٢) على المؤمنين من صدقة أموالهم عشور ما سقت العين وسقت السماء العشر، وعلى ما يسقى (بالغرب) (٣) نصف (العشر) (٤) " (٥).
حدیث نمبر: 10362
١٠٣٦٢ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج) (١) قال: قلت لعطاء: فيما يسقى (بالكظائم) (٢) من نخل (أو) (٣) عنب أو (حب) (٤)؟ قال: العشر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ جس زمین کو کنوؤں کے پانی سے نالی نکال کر سیراب کیا جائے کھجور ہو، انگور ہو یا دوسری کھیتی (دانے) ہو اس کا ایک حکم ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا اس پر عشر ہے۔
حدیث نمبر: 10363
١٠٣٦٣ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج) (١) قال: أخبرني أبو الزبير عن جابر أنه سمعه يقول: فيها العشر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر سے سنا ہے کہ اس میں عشر ہے۔
حدیث نمبر: 10364
١٠٣٦٤ - [(حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال) (١): قلت لعطاء: (فكم) (٢) فيما كان بعلًا من نخل (أو) (٣) عثري من حب أو حرث؟ قال: العشر، قال] (٤): قلت: فيما يسقى غيلا من نخل أو عنب أوحب؟ قال: العشر، (قال) (٥): قلت: فيما يسقى بالدلو وبالناضح؟ قال: نصف العشر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ جس کھجور (کے باغ کو) کو بغیر مشقت کے سیراب کیا جائے یا کھیتی اور دانے کو بارش کے پانی سے سیراب کیا جائے اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے جواب ارشاد فرمایا کہ عشر۔ میں نے عرض کیا کہ کھجور، انگور اور دانے کو اگر جاری پانی سے سیراب کیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے جواب ارشاد فرمایا کہ عشر ہے، میں نے عرض کیا کہ جس زمین کو ڈول اور اونٹوں سے سیراب کیا جائے اس کا حکم ہے ؟ آپ نے جواب ارشاد فرمایا کہ نصف عشر۔
حدیث نمبر: 10365
١٠٣٦٥ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج) (١) قال: أخبرني أبو الزبير قال: أخبرني جابر بن عبد اللَّه أنه قال: نصف العشر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ ابو زبیر نے مجھے خبر دی کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نصف عشر ہے۔
حدیث نمبر: 10366
١٠٣٦٦ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه كان لا يوقت (في) (١) الثمرة شيئًا (ويقول) (٢): العشر ونصف العشر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر سے مروی ہے کہ حضرت امام زہری پھلوں میں کوئی چیز موقت نہیں فرماتے ۔ فرماتے ہیں کہ عشر یا نصف عشر ہے۔
حدیث نمبر: 10367
١٠٣٦٧ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن رجل عن مجاهد مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 10368
١٠٣٦٨ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر قال: كتب بذلك عمر بن عبد العزيز إلى أهل اليمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے یمن والوں کو بھی اسی طرح (کا حکم) لکھا تھا۔
حدیث نمبر: 10369
١٠٣٦٩ - حدثنا عبد الوهاب (بن) (١) عطاء عن يونس عن الحسن قال: في البر والشعير والتمر والعنب إذا كان خمسة أوساق وذلك ثلاثمائة صاع ففيه نصف العشر، إذا كان يسقى وما سقت السماء والعين ففيه (٢) العشر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ گندم، جو، کھجور اور انگور جب پانچ وسق ہوں، پانچ وسق تین سو صاع بنتے ہیں تو اگر ان کو خود سیراب کیا جاتا ہو تو ان پر نصف عشر ہے اور اگر آسمان یا چشمہ کے پانی سے سیراب ہوتے ہوں تو اس پر عشر ہے۔
حدیث نمبر: 10370
١٠٣٧٠ - حدثنا شبابة بن سوار عن ليث (بن) (١) سعد عن نافع أن عبد اللَّه كان (يفتي) (٢) في صدقة الزرع والثمار (و) (٣) ما كان (فيهما) (٤) يشرب بالنهر أو العين أو (عثري) (٥) أو (بعل) (٦) فإن (صدقته) (٧) العشور من كل عشرة (واحد) (٨)، و (ما) (٩) كان منها (يسقى) (١٠) (بالأنضاح) (١١) فإن صدقته نصف العشور في كل عشرين واحد (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ پھلوں اور کھیتی کی زکوٰۃ کے بارے میں فتوٰی دیا کرتے تھے کہ جس کو نہر یا چشمہ کے پانی یا بارش کے پانی سے یا اونٹ کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس پر زکوٰۃ عشر ہے یعنی ہر دس پر ایک اور جس کو تالاب کے ذریعہ سے سیراب کیا جائے (پانی اٹھا اٹھا کر لا کر سیراب کیا جائے) تو اس پر زکوٰۃ نصف عشر ہے یعنی ہر بیس پر ایک ہے۔