کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بکریوں پر کب اور کتنی زکوٰۃ فرض ہے؟
حدیث نمبر: 10229
١٠٢٢٩ - حدثنا عباد بن عوام عن سفيان بن حسين عن الزهري عن سالم عن ابن عمر (قال) (١): قال: كتب رسول اللَّه ﷺ كتاب الصدقة، فقرنه بسيفه، أو قال بوصيته ولم يخرجه إلى عماله حتى قبض، ثم عمل به أبو بكر حتى هلك، وعمل به عمر في صدقة الغنم، في كل أربعين شاة شاة إلى عشرين ومائة، فإن زادت (فشاتان) (٢) إلى مائتين، (فإن) (٣) زادت (فثلاث) (٤) إلى ثلاثمائة، فإن زادت ففي كل مائة (شاة) (٥) شاة ليس فيها شيء حتى (تبلغ) (٦) المائة، ولا يفرق بين مجتمع ولا (يجمع) (٧) بين (مفترق) (٨)، وما كان من خليطين فإنهما (يتراجعان) (٩) بالسوية (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ کے احکامات لکھے اور ان کو اپنی تلوار کے ساتھ رکھ لیا اور اسکو زکوٰۃ وصول کرنے والوں کیلئے نہیں نکالا یہاں تک کہ آپ دار فانی سے دارالبقاء کی طرف کوچ کر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صدیق اکبر اس پر عمل پیرا رہے یہاں کہ وہ دار فانی سے ہجرت کر گئے، اور آپ کے بعد پھر حضرت عمر اس پر عمل پیرا رہے۔ اس میں بکریوں کی زکوٰۃ سے متعلق تحریر تھا کہ چالیس بکریوں پر ایک بکری زکوٰۃ ہے ایک سو بیس بکریوں تک، پھر اگر ایک سو بیس سے زائد ہوجائیں تو اس پر دو بکریاں ہیں دو سو تک۔ پھر اگر دو سو سے زائد ہوجائیں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں۔ پھر اگر اس پر ایک بکری زائد ہوجائے تو ہر سو بکریوں پہ ایک بکری ہے اور پھر کچھ نہیں ہے (درمیانی عدد پر) یہاں تک کہ پھر سو ہوجائیں۔ اور مجتمع کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا اور الگ الگ کو مجتمع نہیں کیا جائے گا، اور اگر دو شریک ہوں تو وہ بعد میں آپس میں ایک دوسرے سے برابر رجوع کرلیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10229
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية سفيان بن حسين عن الزهري ضعيفة، أخرجه أحمد (٤٦٣٢)، وأبو داود (١٥٦٨)، والترمذي (٦٢١)، وابن ماجه (١٧٩٨)، وابن خزيمة (٢٢٦٧)، والحاكم ١/ ٣٩٢، وأبو يعلى (٥٤٧٠)، والبيهقي ٤/ ٨٨، والدارمي ١/ ٣٨٢، وأبو عبيد في الأموال (٩٣٥)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٨٢٠) وابن عدي ٣/ ١١٣٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10229، ترقيم محمد عوامة 10057)
حدیث نمبر: 10230
١٠٢٣٠ - حدثنا (أبو بكر) (١) (عن أبي) (٢) الأحوص عن أبي إسحاق عن عاصم ابن ضمرة عن علي قال: في كل أربعين شاة شاة إلى عشرين ومائة، فإن زادت ففيها شاتان إلى مائتين، فإن زادت ففيها ثلاث شياه إلى ثلاثمائة، فإن كثرت الغنم ففي كل مائة شاة شاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ چالیس بکریوں پر ایک بکری زکوٰۃ ہے ایک سو بیس تک، اگر اس سے زائد ہو جائں ٨ تو دو بکریاں ہیں دو سو تک، پھر اگر دو سو سے زائد ہوجائیں تو تین بکریاں ہیں تین سو تک، پھر اگر بکریاں (اس سے بھی) زیادہ ہوجائیں تو ہر سو پر ایک بکری واجب ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10230
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عاصم بن ضمرة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10230، ترقيم محمد عوامة 10058)
حدیث نمبر: 10231
١٠٢٣١ - (حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: في كل أربعين شاة شاة) (١) إلى عشرين ومائة، (فإن) (٢) زادت (شاة) (٣) واحدة ففيها شاتان إلى مائتين، فإن زادت شاة (٤) ففيها ثلاث شياه إلى ثلاثمائة [في كل مائة شاة شاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ چالیس بکریوں پہ زکوٰۃ ایک بکری ہے ایک سو بیس تک (ایک ہی بکری ہے) پھر جب ایک سو بیس سے بکریاں زائد ہوجائیں تو دو بکریاں ہیں دو سو تک، اور جب دو سو سے ایک بکری زائد ہوگی تو تین بکریاں ہیں تین سو تک، اس کے بعد ہر سو پر ایک بکری ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10231
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10231، ترقيم محمد عوامة 10059)
حدیث نمبر: 10232
١٠٢٣٢ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: إلى أربعمائة] (١) فإن زادت واحدة (فإلى) (٢) خمسمائة ثم على هذا الحساب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ چار سو تک (یہی ہے) پھر اگر چار سو سے ایک بکری زائد ہوجائے تو پانچ بکریاں ہیں، پھر اسی حساب سے زکوٰۃ آئے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10232
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10232، ترقيم محمد عوامة 10060)
حدیث نمبر: 10233
١٠٢٣٣ - حدثنا حاتم بن وردان عن يونس عن الحسن قال: في أربعين شاة شاة إلى عشرين ومائة، فإذا جاوزت العشرين (و) (١) مائة فشاتان حتى (تبلغ) (٢) المائتين، وإذا جاوزت المائتين فثلاث شياه حتى (تبلغ) (٣) الثلاثمائة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ چالیس بکریوں پہ ایک بکری زکوٰۃ ہے ایک سو بیس تک، پھر جب ایک سو بیس سے بکریاں زائد ہوجائیں تو دو سو تک دو بکریاں ہیں، پھر جب دو سو سے زائد ہوجائیں تو تین بکریاں ہیں یہاں تک کہ تین سو بکریاں ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10233
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10233، ترقيم محمد عوامة 10061)
حدیث نمبر: 10234
١٠٢٣٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن [(محمد) (١) (بن) (٢)] (٣) سالم عن (عامر) (٤) عن علي في صدقة الغنم (قال) (٥): (إذا) (٦) بلغت أربعين ففيها شاة إلى عشرين ومائة فإذا زادت واحدة ففيها (شاتان إلى مائتين فإذا زادت واحدة ففيها ثلاث شياه إلى) (٧) ثلاثمائة فإذا زادت على ثلاثمائة [وكثرت ففي كل مائة شاة، شاة (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ چالیس سے لیکر ایک سو بیس بکریوں تک زکوٰۃ ایک بکری ہے اور جب ایک سو بیس سے زائد ہوجائیں تو دو سو تک دو بکریاں ہیں اور پھر دو سو سے زائد ہوجائیں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، پھر جب تین سو سے زائد ہوجائیں تو ہر سو پر ایک بکری ہے، حضرت عبد اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ تین سو تک۔ پھر جب تین سو سے زائد ہوجائیں تو چار سو تک چار بکریاں ہیں۔ پھر اسی حساب سے زکوٰۃ آئے گی۔ راوی حدیث محمد فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عامر نے بتایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ متفرق کو جمع نہیں کیا جائے گا اور جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10234
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا، محمد بن سالم متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10234، ترقيم محمد عوامة 10062)
حدیث نمبر: 10235
١٠٢٣٥ - وقال عبد اللَّه: مثل قول علي حتى (تبلغ) (١) ثلاثمائة ثم قال عبد اللَّه: فإذا زادت واحدة على ثلاثمائة] (٢) ففيها أربع إلى أربعمائة، ثم على هذا الحساب.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10235
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10235، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 10236
١٠٢٣٦ - قال محمد: أخبرنا عامر عن علي وعبد اللَّه قالا: (لا يجمع) (١) بين مفترق ولا يفرق بين مجتمع (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10236
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ محمد بن سالم متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10236، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 10237
١٠٢٣٧ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا بلغت أربعين ففيها شاة حتى (تبلغ) (١) عشرين ومائة فإذا زادت واحدة ففيها [شاتان إلى مائتين ⦗١٩٤⦘ فإذا زادت واحدة ففيها] (٢) ثلاث (شياه) (٣) إلى ثلاثمائة فإذا زادت ففي كل مائة شاة شاة (وسقطت) (٤) الأربعون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں پہ ایک بکری زکوٰۃ ہے، پھر جب ایک سو بیس سے زائد ہوجائیں تو اس پر دو بکریاں ہیں دو سو تک پھر اگر دو سو سے زائد ہوجائیں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، اور اگر بکریاں اس سے بھی زائد ہوجائیں تو ہر سو پر ایک بکری زکوٰۃ ہے، اور چالیس (سے کم) ساقط ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10237
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10237، ترقيم محمد عوامة 10063)