کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ’’گائے کی زکوٰۃ کتنی ہے اس کا بیان‘‘
حدیث نمبر: 10184
١٠١٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن خصيف عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه عن النبي ﷺ قال: "في ثلاثين من البقر تبيع أو تبيعة وفي أربعين (مسنة) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تیس گائے ہوجائیں تو اس پر زکوٰۃ ایک تبیع (ایک سالہ نر) یا تبیعہ (یا ایک سال کا مادہ) ہے اور چالیس گائے پہ ایک مسنہ (گائے کا بچہ جو دو سال کا ہوجائے) ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10184
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10184، ترقيم محمد عوامة 10013)
حدیث نمبر: 10185
١٠١٨٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن مسروق قال: لما بعث رسول اللَّه ﷺ معاذًا إلى اليمن أمره أن يأخذ من كل ثلاثين من البقر تبيعًا أو تبيعة و (من) (١) كل أربعين مسنة ومن كل حالم دينارًا أو عدله (معافري) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ کو جب یمن بھیجا تو ان کو حکم دیا کہ تیس گائیوں پہ ایک تبیع یا تبیعہ زکوٰۃ وصول کرنا اور چالیس پر ایک مسنہ وصول کرنا اور ہر بالغ شخص سے ایک دینار لینا یا دینار کے بدلے کوئی اور چیز وصول کرنا جسکی قتمْ معافر کے کپڑوں کے برابر ہو۔ (معافر یمن کے ایک مقام کا نام ہے اسکی طرف نسبت ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10185
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، أخرجه أبو يوسف في الخراج ص ٧٧ والطيالسي (٥٦٧) وأبو عبيد في الأموال (٦٤) والشاشي (١٣٤٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10185، ترقيم محمد عوامة 10014)
حدیث نمبر: 10186
١٠١٨٦ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي قال: كتب رسول اللَّه ﷺ إلى اليمن أن: "يؤخذ من ثلاثين من البقر (تبيع) (١) أو تبيعة وفي [كل أربعين مسنة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن لکھ کر بھیجا کہ : تیس گائے پر ایک تبیع یا تبیعہ وصول کرو اور چالیس پر مسنہ وصول کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10186
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10186، ترقيم محمد عوامة 10015)
حدیث نمبر: 10187
١٠١٨٧ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم وأبي] (١) وائل (قالا) (٢): بعث النبي ﷺ معاذًا إلى اليمن وأمره أن يأخذ [(من البقر) (٣) من كل ثلاثين تبيعًا أو تبيعة (ومن أربعين مسنة) (٤) ومن كل حالم دينارًا أو عدله من] (٥) (المعافر) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت ابو وائل سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ کو جب یمن بھیجا تو ان کو حکم دیا کہ تیس گائیوں پہ ایک تبیع یا تبیعہ زکوٰۃ وصول کرنا اور چالیس پر ایک مسنہ وصول کرنا اور ہر بالغ شخص سے ایک دینار لینا یا دینار کے بدلے کوئی اور چزچ وصول کرنا جس کی قیمت معافر کے کپڑوں کے برابر ہو۔ (معافر یمن کے ایک مقام کا نام ہے اسکی طرف نسبت ہے)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10187
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ إبراهيم وأبو وائل تابعيان، وأخرجه متصلًا من حديث معاذ أحمد (٢٢٠١٣) وأبو داود (١٥٧٨) والترمذي (٦٢٣) والنسائي ٥/ ٢٥ وابن خزيمة (٢٢٦٨) وابن حبان (٤٨٨٦) والحاكم ١/ ٣٩٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10187، ترقيم محمد عوامة 10016)
حدیث نمبر: 10188
١٠١٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن أبي إسحاق عن عاصم (بن) (١) ضمرة عن علي قال: (٢) إذا بلغت ثلاثين ففيها (تبيع) (٣) (أو) (٤) تبيعة (حولى) (٥) فإذا بلغت أربعين ففيها مسنة (ثنية فصاعدًا) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ جب تیس گائے ہوجائیں تو ایک تبیع یا تبیعہ جو ایک سالہ ہو دے گا اور جب چالیس ہوجائیں تو مسنہ جو دو سالہ یا اس سے بڑا ہو دے گا۔ (جس کے اوپر یا نیچے والے دو دانت ظاہر ہوں)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10188
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عاصم صدوق،
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10188، ترقيم محمد عوامة 10017)
حدیث نمبر: 10189
١٠١٨٩ - حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع قال: بلغني أن معاذًا قال: (في ثلاثين تبيع) (١) وفي أربعين (بقرة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ مجھ تک حضرت معاذ کا یہ قول پہنچا ہے کہ تیس گائے پر ایک تبیع اور چالیس پر ایک بقرہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10189
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10189، ترقيم محمد عوامة 10018)
حدیث نمبر: 10190
١٠١٩٠ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: في ثلاثين من البقر تبيع أو تبيعة (١) (جذع) (٢) (٣) وفي أربعين مسنة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ تیس گائے پہ ایک تبیع یا تبیعہ، جذع (گائے کا بچہ جو تین سال کا ہو) جذعہ (مادہ) اور چالیس پر ایک مسنہ زکوٰۃ دے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10190
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10190، ترقيم محمد عوامة 10019)
حدیث نمبر: 10191
١٠١٩١ - حدثنا (١) ابن إدريس عن ليث عن (شهر) (٢) قال: في سائمة البقر في ⦗١٨٢⦘ كل ثلاثين تبيع (٣) وفي (كل) (٤) أربعين مسنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شہر فرماتے ہیں کہ چرنے والے گائے پر جب تیس ہوجائیں تو تبیع یا تبیعہ آئے گا اور چالیس پر مسنہ آئے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10191
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10191، ترقيم محمد عوامة 10020)
حدیث نمبر: 10192
١٠١٩٢ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ تیس گائے پر ایک تبیع یا تبیعہ ہے اور چالیس پر ایک مسنہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10192
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10192، ترقيم محمد عوامة 10021)
حدیث نمبر: 10193
١٠١٩٣ - وعن إسماعيل (بن) (١) أبي خالد عن الشعبي قال: في ثلاثين من البقر تبيع أو تبيعة وفي أربعين مسنة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10193
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10193، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 10194
١٠١٩٤ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن عكرمة بن خالد قال: استعملت على صدقات عك، فلقيت أشياخًا ممن صدق على عهد رسول اللَّه ﷺ، فاختلفوا علي، فمنهم من قال: اجعلها مثل صدقة الإبل، ومنهم من قال: في ثلاثين (بقرة) (١) (٢) تبيع (٣) أو تبيعة: جذع أو جذعة، وفي أربعين مسنة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ مجھے زکوٰۃ کی وصول یابی کا فریضہ سونپا گیا، میں ان بزرگوں سے ملا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں زکوٰۃ دیا کرتے تھے۔ ان حضرات نے اختلاف کیا، بعض نے فرمایا کہ اونٹوں کی زکوٰۃ کے مثل وصول کرو، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ تیس گائے پر ایک تبیع وصول کرو اور بعض نے کہا چالیس گائے پر ایک مسنہ وصول کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10194
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10194، ترقيم محمد عوامة 10022)
حدیث نمبر: 10195
١٠١٩٥ - [حدثنا حفص عن أشعث عن الشعبي قال: في ثلاثين (بقرة) (١) تبيع أو تبيعة جذع أو جذعة وفي أربعين مسنة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ تیس گائے پر تبیع یا تبیعہ، جذع یا جذعہ ہے اور چالیس پر مسنہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10195
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10195، ترقيم محمد عوامة 10023)
حدیث نمبر: 10196
١٠١٩٦ - حدثنا (زيد) (١) بن (حباب) (٢) عن معاوية بن صالح عن العلاء بن ⦗١٨٣⦘ الحارث عن مكحول قال: (البقر) (٣) إذا بلغت ثلاثين ففيها تبيع أو تبيعة فإذا بلغت (أربعين) (٤) ففيها مسنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب تیس ہوجائیں تو اس پر ایک تبیع یا تبیعہ ہے اور جب چالیس ہوجائیں تو اس پر ایک مسنہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10196
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10196، ترقيم محمد عوامة 10024)
حدیث نمبر: 10197
١٠١٩٧ - حدثنا أبو بكر حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن (ابن) (١) طاوس عن أبيه أنه قال: في ثلاثين من البقر (تبيع) (٢) (جذع أو جذعة وفي كل أربعين بقرة بقرة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ تیس گائے پر ایک تبیع، جذع یا جذعہ ہے اور چالیس گائے پر ایک بقرہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10197
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10197، ترقيم محمد عوامة 10025)
حدیث نمبر: 10198
١٠١٩٨ - [حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن صالح بن دينار أن عمر بن عبد العزيز كتب إلى عثمان بن محمد بن أبي سويد: أن تأخذ من كل ثلاثين بقرة (تبيعًا) (١) ومن كل أربعين بقرة بقرة، ولم (يزد) (٢) على ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح بن دینار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے حضرت عثمان بن محمد بن ابی سوید کو لکھا کہ تیس گائے پر ایک تبیع لینا، اور چالیس گائیوں پر ایک بقرہ وصول کرنا اور اس سے زیادہ وصول نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10198
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10198، ترقيم محمد عوامة 10026)
حدیث نمبر: 10199
١٠١٩٩ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا فقالا: في ثلاثين جذع أو جذعة (وفي أربعين) (١) مسنة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حاکم اور حضرت حماد سے (گائے کی زکوٰۃ کے بارے میں) دریافت کیا تو انہوں نے نے فرمایا : تیس پر ایک جذع یا جذعہ ہے اور چالیس پر مسنہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10199
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10199، ترقيم محمد عوامة 10027)
حدیث نمبر: 10200
١٠٢٠٠ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج قال: أخبرني عمرو قال: ⦗١٨٤⦘ كان (عمال) (٢) [ابن الزبير (: ابن) (٣) أبي عوف وغيره] (٤) يأخذون من كل خمسين بقرة (بقرة) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ : مجھے حضرت عمرو نے خبر دی کہ حضرت عثمان بن زبیر بن ابو عوف وغیرہ پچاس گائیوں پر ایک بقرہ وصول کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10200
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10200، ترقيم محمد عوامة 10028)
حدیث نمبر: 10201
١٠٢٠١ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج عن سليمان (بن موسى) (٢) قال: إذا بلغت البقر ثلاثين ففيها تبيع (٣) (جذع) (٤) أو جذعة حتى تبلغ أربعين، فإذا بلغت أربعين (ففيها) (٥) بقرة مسنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ : جب تیس گائیں ہوجائیں تو ان پر زکوٰۃ ایک تبیع ہے، جذع یا جذعہ یہاں تک کہ چالیس ہوجائیں، جب چالیس گائیں ہوجائیں تو ان پر زکوٰۃ مسنہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10201
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10201، ترقيم محمد عوامة 10029)
حدیث نمبر: 10202
١٠٢٠٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن (يحيى بن سعيد عن محمد) (١) بن يحيى بن (حبان) (٢) أن نعيم بن سلامة أخبره -وهو الذي كان (خاتم) (٣) (عمر) (٤) بن عبد العزيز في يده- أن عمر بن عبد العزيز دعا بصحيفة زعموا أن رسول اللَّه ﷺ ⦗١٨٥⦘ كتب بها إلى معاذ (فقال) (٥) نعيم: فقرأت وأنا حاضر فإذا فيها: "من كل ثلاثين (تبيع) (٦) جذع أو جذعة ومن كل أريعين بقرة (بقرة) (٧) مسنة". قال نعيم: فقلت: تبيع (الجذع) (٨) فقال عمر: (بل) (٩) تبيع جذع (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ نعیم بن سلامہ نے مجھے خبر دی۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کی مہر ان کے پاس تھی، حضرت عمر بن عبد العزیز نے ایک صحیفہ منگوایا، لوگوں نے گمان کیا کہ یہ وہی صحیفہ ہے جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو لکھا تھا، حضرت نعمم فرماتے ہیں وہ صحیفہ آپ کے سامنے پڑھا گیا میں بھی اس موقع پر حاضر تھا اس میں لکھا تھا : تیس گائیوں پر ایک تبیع جذع یا جذعہ ہے، اور چالیس گائیں پر ایک مسنہ ہے۔ نعیم فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا تبیع الجذع حضرت عمر نے فرمایا تبیع جذع۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10202
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10202، ترقيم محمد عوامة 10030)