کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ’’اونٹوں کی زکوٰۃ کا بیان‘‘
حدیث نمبر: 10151
١٠١٥١ - حدثنا عباد بن العوام عن سفيان (بن) (١) حسين عن الزهري عن سالم عن ابن عمر أن رسول اللَّه ﷺ كتب كتاب الصدقة فقرنه بسيفه، أو قال: ⦗١٦٧⦘ بوصيته ولم يخرجه حتى قبض (فلما قبض) (٢) عمل به أبو بكر حتى هلك، ثم عمل به عمر، فكان فيه: (في) (٣) خمس [من الإبل شاة وفي عشرة شاتان، وفي خمسة عشر ثلاث شياه، وفي عشرين أربع شياه، وفي (خمس) (٤)] (٥) وعشرين بنت مخاض إلى خمس وثلاثين، فإذا زادت ففيها بنت لبون إلى خمس وأربعين، [(فإذا) (٦) زادت فحقة إلى ستين، فإذا زادت فجذعة إلى] (٧) خمس (وسبعين) (٨) (فإذا) (٩) زادت (فابنتا) (١٠) لبون إلى تسعين، فإن زادت فحقتان إلى عشرين ومائة فإن زادت على عشرين ومائة، ففي كل خمسين حقة وفي كل أربعين بنت لبون، لا (يجمع) (١١) بين (مفترق) (١٢) (ولا يفرق) (١٣) بين مجتمع، وما كان من خليطين فإنهما يتراجعان بالسوية (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ کے احکام لکھوائے اور ان کو تلوار کے ساتھ ملا کررکھایا (راوی کو شک ہے) وصیت کیساتھ، اور اسکو نکالا نہیں یہاں تک کہ آپ کی روح مبارک قبض کرلی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو اس پر حضرت ابوبکر صدیق نے عمل کیا یہاں تک کہ صدیق اکبر بھی دنیا سے چلے گئے پھر اس پر حضرت عمر نے عمل کیا، اس میں لکھا ہوا تھا کہ پانچ اونٹوں پہ ایک بکری ہے، دس پر دو بکریاں، پندرہ پہ تین بکریاں، بیس پہ چار بکریاں، پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاض (ایک سال کا اونٹ جس کا دوسرا سال چل رہا ہو) ہے پینتیس تک، اور جب پینتیس سے زائد ہوجائیں تو ان پر ایک بنت لبون (دو سال کا اونٹ جس کا تیسرا چل رہا ہو) ہے پینتالیس تک، اور جب پینتالیس سے زائد ہوجائیں تو ان پر ساٹھ تک ایک حقہ ہے (تین سال کا اونٹ جس کا چوتھا چل رہا ہو) اور جب ساٹھ سے زائد ہوجائیں تو ان پر جذعہ (چار سال کا اونٹ جس کا پانچواں سال چل رہا ہو) ہے پچھتر تک، پھر جب پچھتر سے زائد ہوجائیں تو نوے تک دو بنت لبون ہیں۔ اور پھر نوے سے زائد ہوجائیں تو ایک سو بیس تک اس پر دو حقے ہیں، اور جب ایک سو بیس سے زائد ہوجائیں تو ہر پچاس پر ایک حقہ اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون ہے، متفرق کو جمع نہیں کیا جائے گا اور جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا (اگر مویشی متفرق اور متعدد جگہوں میں ہیں تو انہیں زکوٰۃ لیتے وقت یا دیتے وقت ایک جگہ جمع نہیں کیا جائے گا اور ایک جگہ ہیں تو انہیں متعدد جگہوں اور چراگاہوں مں ع تقسیم نہیں کیا جائیگا۔ لیکن امام ابوحنیفہ کے یہاں مکان اور چراگاہ کے مختلف اور متعدد ہونے سے زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ ان کے ہاں صرف ملک کا اختلاف اور تعدد زکوٰۃ پر اثر انداز ہوتا ہے اس لئے اس حدیث کی تفریق و اجتماع سے صرف ملکیت کی حد تک تعدد اور اجتماع مراد ہے) ، اور دو شریک اپنا حساب خود آپس میں برابر کرلیں گے (یعنی دو آدمی کسی کام تجارت وغیرہ میں شریک ہیں تو جب زکوٰۃ وصول کرنے والا افسر آئے گا تو وہ اس کا انتظار نہیں کرے گا کہ یہ شرکاء اپنے مال کو تقسیم کرلیں اور پھر ان کے سرمایہ سے الگ الگ زکوٰۃ لی جائے بلکہ پورے سرمایہ میں جو زکوٰۃ واجب ہوگی افسر اس واجب زکوٰۃ کو لے لے گا، اب یہ شرکاء کا کام ہے کہ حساب کے مطابق واجب شدہ زکوٰۃ کے حصے تقسیم کریں) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10151
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية سفيان بن حسين عن الزهري ضعيفة، أخرجه أحمد (٤٦٣٢)، وأبو داود (١٥٦٨)، والترمذي (٦٢١)، وأبو يعلى (٥٤٧٠)، وابن ماجه (١٧٩٨)، والحاكم ١/ ٣٩٢، وابن خزيمة (٢٢٦٧)، والدارمي ١/ ٣٨٢، والبيهقي ٤/ ٨٨، والطحاوي في شرح المشكل (٥٨٢٠)، وابن عدي ٣/ ١١٣٦، وأبو عبيد في الأموال (٩٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10151، ترقيم محمد عوامة 9981)
حدیث نمبر: 10152
١٠١٥٢ - حدثنا عبد السلام عن خصيف عن أبي عبيدة وزياد بن أبي مريم عن عبد اللَّه (قال) (١): في خمس وعشرين من الإبل بنت مخاض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ پچیس اونٹوں پر بنت مخاض واجب ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10152
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع، خصيف ضعيف، وزياد لم يسمع من عبد اللَّه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10152، ترقيم محمد عوامة 9982)
حدیث نمبر: 10153
١٠١٥٣ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي قال: في خمس من الإبل شاة إلى [تسع (فإن زادت واحدة ففيها شاتان إلى أربع عشرة، فإن زادت واحدة ففيها ثلاث شياه إلى تسع) (١) عشرة فإن زادت واحدة ففيها أربع إلى أربع] (٢) وعشرين، فإن زادت واحدة ففيها خمس شياه، فإن زادت واحدة ففيها بنت (مخاض) (٣) (أو) (٤) ابن لبون ذكر أكبر منها بعام إلى خمس و (ثلاثين) (٥) فإن زادت واحدة ففيها بنت لبون إلى خمس وأربعين، فإن زادت واحدة ففيها حقة طروقة الفحل إلى ستين، فإن زادت واحدة ففيها جذعة إلى خمس وسبعين، فإن زادت واحدة ففيها (بنتا) (٦) لبون إلى تسعين، فإن زادت واحدة ففيها حقتان إلى عشرين ومائة، فإذا كثرت الإبل ففي كل خمسين من الإبل حقة، ولا يجمع بين (مفترق) (٧) ولا يفرق بين مجتمع (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ پانچ اونٹوں پہ ایک بکری ہے نو تک، جب نو سے ایک زائد ہوجائے تو چودہ تک دو بکریاں ہیں، جب اس پر ایک زائد ہوجائے تو انیس تک تین بکریاں ہیں، اور جب انیس سے ایک زائد ہوجائے تو چوبیس تک چار بکریاں ہیں، اور اس پر ایک اونٹ زائد ہوجائے تو پانچ بکریاں ہیں، اور جب پچیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو اس پر بنت مخاض یا ابن لبون جو مذکر ہو اور جو اس سے ایک سال بڑا ہوتا ہے وہ دینا پڑے گا پینتیس تک، اور جب پینتیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو اس پر ایک بنت لبون آئے گا پینتالیس تک، اور جب پینتالیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو ساٹھ تک ایک طاقتور نر حقہ آئے گا، اور جب ساٹھ سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو پچھتر تک ایک جذعہ آئے گا، اور جب پچھتر سے ایک زائد ہوجائے تو نوے تک دو بنت لبون آئیں گے اور جب نوے سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو ایک سو بیس تک دو حقے آئیں گے۔ اور جب اونٹ ایک سو بیس سے بھی زائد ہوجائیں تو ہر پچاس اونٹوں پر ایک حقہ ہے جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا اور متفرق کو جمع نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10153
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عاصم بن ضمرة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10153، ترقيم محمد عوامة 9983)
حدیث نمبر: 10154
١٠١٥٤ - حدثنا عبدة بن سليمان عن (عبيد اللَّه) (١) (عن) (٢) نافع قال: وجد في وصية عمر في خمس وعشرين من الإبل بنت مخاض (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کی وصیت میں یہ لکھا ہوا پایا گیا تھا کہ پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاض ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10154
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10154، ترقيم محمد عوامة 9984)
حدیث نمبر: 10155
١٠١٥٥ - حدثنا وكيع عن (فطر) (١) عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاض اونٹ زکوٰۃ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10155
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10155، ترقيم محمد عوامة 9985)
حدیث نمبر: 10156
١٠١٥٦ - وعن فضيل عن إبراهيم (قالا) (١): في خمس وعشرين بنت مخاض.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10156
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10156، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 10157
١٠١٥٧ - حدثنا ابن مبارك عن (بهز) (١) بن حكيم عن أبيه عن جده قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "في كل إبل سائمة (أربعين) (٢) بنت لبون، لا يفرق إبل عن حسابها من أعطاها (مؤتجرا) (٣) فله أجره، عزمة من عزمات ربنا، لا يحل (لآل) (٤) محمد منها شيء" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بہز بن حکیم اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چرنے والے اونٹ اگر چالیس ہوجائیں تو اس پر ایک بنت لبون زکوٰۃ ہے، اونٹ کو اس کے حساب سے جدا نہیں کریں گے، اور جو شخص زکوٰۃ ادا کرے اللہ تعالیٰ سے اجر طلب کرتے ہوئے تو اسکے لئے اسکا اجر ہے، عزیمۃ ہے ہمارے رب کی عزیمتوں میں سے۔ ٰال محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے زکوٰۃ میں سے کوئی چیز بھی حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10157
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ بهز بن حكيم وأبوه صدوقان، أخرجه أحمد (٢٠٠١٦)، وأبو داود (١٥٧٥)، والنسائي ٥/ ٢٥، وابن خزيمة (٢٢٦٦)، والحاكم ١/ ٣٩٨، وأبو عبيد في الأموال (٩٨٧)، وابن زنجويه (١٤٤٣)، والدارمي (١٦٧٧)، والطحاوي ٢/ ٩، والطبراني ١٩/ (٩٨٤) والبيهقي (٤/ ١٠٥)، وابن حزم في المحلى ٦/ ٥٧، والخطيب ٩/ ٤٤٨، وابن الجارود (٣٤١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10157، ترقيم محمد عوامة 9986)
حدیث نمبر: 10158
١٠١٥٨ - حدثنا وكيع عن (سفيان) (١) عن موسى بن (عقبة) (٢) عن نافع عن (ابن عمر) (٣) قال: قال عمر: إذا كثرت الإبل ففي كل خمسين حقة وفي كل أربعين بنت لبون (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب اونٹ زیادہ ہوجاتے تو حضرت عمر ہر پچاس پر ایک حقہ وصول فرماتے اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون وصول فرماتے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10158
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10158، ترقيم محمد عوامة 9987)
حدیث نمبر: 10159
١٠١٥٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: في كل خمس وعشرين بنت مخاض.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہر پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاض زکوٰۃ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10159
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10159، ترقيم محمد عوامة 9988)
حدیث نمبر: 10160
١٠١٦٠ - حدثنا يعلى بن عبيد عن يحيى بن سعيد قال: كان (١) الكتاب الذي كتب (٢) عمر بن عبد العزيز حين بعثهم يصدقون في الإبل إذا بلغت خمسًا وعشربن ففيها بنت مخاض فإذا زادت فابن لبون (ذكر) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا تو ان کو ایک خط لکھا، آپ نے لکھا کہ پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاض زکوٰۃ ہے اور جب اس سے زائد ہوجائیں تو ایک مذکر ابن لبون زکوٰۃ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10160
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10160، ترقيم محمد عوامة 9989)
حدیث نمبر: 10161
١٠١٦١ - حدثنا غندر عن شعبة عن حماد قال: في خمس وعشرين بنت مخاض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاض زکوٰۃ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10161
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10161، ترقيم محمد عوامة 9990)
حدیث نمبر: 10162
١٠١٦٢ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي قال: كتب رسول اللَّه ﷺ إلى اليمن: "أن يؤخذ من الإبل من كل خمس شاة [و (من) (١) كل عشر شاتان، ⦗١٧١⦘ و (من) (٢) (٣) خمسة عشر ثلاث شياه، ومن عشرين أربع شياه، ومن خمس وعشرين خمس شياه] (٤)، فإذا زادت واحدة ففيها بنت مخاض إلى خمس وثلاثين، فإن لم تجد في الإبل بنت مخاض فابن لبون ذكر، (فإذا) (٥) زادت واحدة ففيها بنت لبون إلى [خمس وأريعين فإن زادت واحدة (ففيها حقة إلى ستين، فإن زادت واحدة) (٦) ففيها جذعة إلى خمس وسبعين، فإن زادت واحدة ففيها (بنتا) (٧) لبون] (٨) إلى (تسعين) (٩)، فإن زادت واحدة ففيها حقتان إلى عشرين ومائة فإذا كثرت الإبل ففي كل خمسين حقة وفي كل أربعين بنت لبون، ولا يفرق بين مجتمع (ولا يجمع بين) (١٠) (مفترق) (١١) (١٢) ولا يؤخذ في الصدقة (تيس) (١٣) (ولا) (١٤) هرمة ولا ذات (عوار) (١٥) " (١٦). ⦗١٧٢⦘ - قال الأجلح: فقلت للشعبي: ما يعني بقوله: لا يجمع بين مفترق ولا يفرق بين مجتمع؟ قال: الرجل (تكون) (١٧) له الغنم فلا يفرقها كي لا يؤخذ منها (صدقة) (١٨) (ولا يجمع بين مفترق): القوم (تكون) (١٩) لهم الغنم لا (تجب) (٢٠) (فيها) (٢١) الزكاة فلا (تجمع) (٢٢) (فتؤخذ) (٢٣) منها (الصدقة) (٢٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن (کے قاضی کو) لکھا : پانچ اونٹوں پر ایک بکری زکوٰۃ ہے، اور دس اونٹوں پر دو بکریاں، اور پندرہ اونٹوں پہ تین بکریاں اور بیس اونٹوں پہ چار اور پچیس اونٹوں پہ پانچ بکریاں اور پچیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو اس پر بنت مخاض ہے پینتیس اونٹوں تک، اور اگر زکوٰۃ میں دینے کیلئے بنت مخاض نہ پائے تو مذکر ابن لبون دیدے۔ اور جب پینتیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو پینتالیس تک ایک بنت لبون ہے، جب پینتالیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو ساٹھ تک ایک حقہ ہے، جب ساٹھ اونٹوں سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو پچھتر اونٹوں تک ایک جذعہ ہے اور جب پچھتر سے ایک زائد ہوجائے تو اس پر دو بنت لبون ہیں۔ نوے تک اسی طرح ہے، جب نوے سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو ایک سو بیس تک دو حقے ہیں، پھر جب اونٹ ایک سے بیس سے بھی زائد ہوجائیں تو ہر پچاس پر ایک حقہ اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون آئے گا، اور متفرق کو جمع اور جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرتے وقت بہت چھوٹا یا بہت بوڑھا جانور وصول نہیں کیا جائے گا (بلکہ درمیانہ وصول کیا جائے گا) اور نہ کانا اور بہت کمزور جانور وصول کیا جائے گا۔ اجلح راوی فرماتے ہیں کہ میں نے اما م شعبی سے پوچھا کہ لاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُفْتَرِقٍ ، وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی کے پاس چوپائے ہوں تو وہ اس نیت سے ان کو متفرق نہ کرے تا کہ متفرق (جب نصاب زکوٰۃ نہ پہنچے تو اس پر) پر زکوٰۃ نہ آئے اور نہ ہی متفرق کو جمع کرے یعنی کسی قوم کے پاس چوپائے تو ہوں لیکن ان پہ زکوٰۃ نہ آرہی ہو تو مصدق (زکوٰۃ وصول کرنے والا) ان سب کو ایک ساتھ جمع کر کے زکوٰۃ وصول نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10162
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10162، ترقيم محمد عوامة 9991)