کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی کے پاس سو درہم اور دس دینار ہوں ان پر زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 10147
١٠١٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن عبيدة قال: سألت إبراهيم عن رجل له مائة درهم [وعشرة دنانير؟ قال: يزكي من المائة (بدرهمين) (١) (ونصف) (٢) و (من) (٣) الدنانير (بربع) (٤) دينار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ اگر کسی کے پاس سو درھم اور دس دینار ہوں تو اس پر کتنی زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا : سو دراہم میں اڑھائی درہم اور دینار میں ربع دینار زکوٰۃ ادا کرے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ کہ پھر میں نے امام شعبی سے یہی سوال کیا ! انہوں نے فرمایا : اکثر کو اقل پر محمول کریں گے یا فرمایا (راوی کو شک ہے) اقل کو اکثر پر محمول کریں گے، اور جب وہ نصاب زکوٰۃ کی مقدار کو پہنچ جائیں تو اس میں زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 10148
١٠١٤٨ - (وقال) (١) (سألت) (٢) الشعبي: فقال: يحمل الأكثر على الأقل ⦗١٦٦⦘ (أو) (٣) قال: (الأقل) (٤) على الأكثر فإذا (بلغت) (٥) فيه الزكاة (زكاه) (٦).
حدیث نمبر: 10149
١٠١٤٩ - حدثنا إسماعيل بن (عياش) (١) (عن) (٢) (عبيد) (٣) اللَّه (بن عبيد اللَّه) (٤) قال: قلت لمكحول: يا أبا عبد اللَّه إن لي سيفًا فيه خمسون ومائة درهم فهل عليّ فيه زكاة، قال: أضف إليه ما كان لك من ذهب وفضة، فإذا بلغ مائتي درهم ذهب وفضة فعليك فيه الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عبید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مکحول سے سوال کیا کہ اے ابو عبد اللہ میرے پاس ایک تلوار ہے اس میں ایک سو پچاس درہم ہیں کہ کیا اس پر زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کے ساتھ ملا لے اگر تیرے پاس سونا یا چاندی ہو، اور جب وہ دو سو درہم سونے کے اور چاندی کے ہوجائیں تب ان میں زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 10150
١٠١٥٠ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأنصاري عن أشعث عن الحسن أنه كان يقول: إذا كانت له ثلاثون دينارًا ومائة درهم (كان عليه) (١) (فيها) (٢) الصدقة، وكان يرى الدراهم والدنانير عينًا كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث سے مروی ہے کہ حسن فرماتے تھے کہ جب تمہارے پاس تیس دینار اور سو درہم ہوجائیں تو اس پر زکوٰۃ ہے، اور حسن درہم اور دینار کو سب کا سب عین شمار کرتے تھے۔