حدیث نمبر: 10135
١٠١٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن عاصم (١) بن ضمرة عن علي قال: ليس في أقل من عشرين دينارًا شيء (وفي ⦗١٦٢⦘ عشرين دينارًا) (٢) نصف دينار وفي أربعين دينارًا (دينار) (٣) فما زاد فبالحساب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیس دیناروں سے کم پر زکوٰۃ نہیں ہے اور بیس دینار پر نصف دینار اور چالیس دیناروں پر ایک دینار زکوٰۃ ہے اور جتنے اس سے زائد ہوں ان پر اسی حساب سے زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 10136
١٠١٣٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن الشعبي قال: في عشرين مثقالًا نصف (مثقال) (١) وفي أربعين مثقالًا مثقال.
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی ارشاد فرماتے ہیں کہ بیس مثقالوں پر نصف مثقال اور چالیس مثقالوں پر ایک مثقال زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 10137
١٠١٣٧ - حدثنا حماد بن مسعدة عن عمران عن ابن سيرين قال: في أربعين دينارًا دينار وفي عشرين دينارًا نصف دينار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ چالیس دینار پر ایک دینار اور بیس دینار پر نصف دینار زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 10138
١٠١٣٨ - حدثنا (أبو) (١) أسامة عن هشام عن الحسن قال: في عشرين دينارًا نصف دينار.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ بیس دینار پر نصف دینار زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 10139
١٠١٣٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: ليس في (أقل) (١) من عشرين مثقالًا شيء وفي عشرين نصف مثقال وفي أربعين مثقالًا مثقال.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ : بیس مثقال سے کم میں کچھ نہیں ہے (زکوٰۃ نہیں ہے) ۔ اور بیس مثقال پر نصف مثقال اور چالیس مثقال پر ایک مثقال زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 10140
١٠١٤٠ - حدثنا يعلى بن عبيد عن يحيى بن سعيد عن (رزيق) (١) مولى بني (فزارة) (٢) أن عمر بن عبد العزيز كتب إليه حين استخلف، خذ ممن مر بك من تجار ⦗١٦٣⦘ المسلمين (فيما) (٣) (يديرون) (٤) من (أموالهم) (٥) من كل أربعين (دينارًا) (٦) دينارًا، فما نقص فبحساب ما نقص حتى يبلغ (عشرين) (٧)، فإذا نقصت (ثلث) (٨) دينار فدعها (لا تأخذ) (٩) (منها شيئًا) (١٠) واكتب لهم براءة (بما تأخذ منهم) (١١) إلى مثلها [من الحول. [وخذ ممن مر بك من تجار أهل الذمة فيما يظهرون من أموالهم (يديرون من) (١٢) التجارات من كل عشرين دينارًا دينارًا] (١٣)، فما نقص فبحساب ما نقص حتى (يبلغ) (١٤) عشرة دنانير، فإذا نقصت ثلث دينار فدعها لا تأخذ منها شيئًا واكتب لهم براءة إلى مثلها من الحول] (١٥) بما تأخذ منهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رزیق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے مجھے خلیفہ بنایا تو مجھے خط لکھا کہ مسلمان تاجروں میں سے جو کوئی تیرے پاس سے اپنا مال لے کر گذرے تو ہر چالیس دینار پر ایک دینار زکوٰۃ لینا، اور جو اس سے کم ہو تو اس میں اس حساب سے یہاں تک کہ بیس درہم ہوجائیں اور جب اس سے ثلث دینار کم ہوجائے تو پھر کچھ نہ لینا چھوڑ دینا اور جو کچھ تو نے ان سے لیا ہے اس میں ان کیلئے سال کیلئے بری ہونا لکھ دے۔ اور اہل ذمہ میں سے کوئی تاجر تیرے پاس سے گذرے وہ مال لے کر جس کو ظاہر کیا جاتا ہے اور تجارت میں لگایا جاتا ہے تو ہر بیس دینار پر ایک دینار زکوٰۃ وصول کرنا، اور جو اس سے کم ہو اس پر اسی حساب سے یہاں تک کہ دس دینار رہ جائیں اور جب اس میں ثلث دینار کم ہوجائے تو چھوڑ دے اس پر کچھ وصول نہ کر، اور ان کیلئے بھی جو تو نے وصول کیا ہے اس میں سال کیلئے براءت لکھ دے۔
حدیث نمبر: 10141
١٠١٤١ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه عن أشعث عن الحسن قال: ليس فيما دون أربعين مثقالًا من الذهب صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ چالیس مثقال سے کم سونے پہ زکوٰۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10142
١٠١٤٢ - حدثنا يحيى بن عبد الملك (بن أبي غنية) (١) عن أبيه عن الحكم أنه كان لا يرى في (عشرين دينارًا) (٢) زكاة حتى (تكون) (٣) عشرين مثقالًا فيكون فيها نصف مثقال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو غنیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حکم بیس دینار سے کم پر زکوٰۃ نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ بیس مثقال ہوجائیں تو ان پر نصف مثقال ہے۔
حدیث نمبر: 10143
١٠١٤٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم (قال) (١): كان لامرأة عبد اللَّه طوق فيه عشرون مثقالًا، فأمرها أن (تخرج) (٢) منه خمسة دراهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کی اہلیہ کا ہار بیس مثقال کا تھا، تو اس کو حکم دیا کہ اسکی زکوٰۃ پانچ درھم ادا کرو۔
حدیث نمبر: 10144
١٠١٤٤ - [حدثنا حماد بن مسعدة عن (عوف) (١) عن الحسن قال: في عشرين دينارًا نصف دينار (٢) وفي أربعين دينارًا دينار] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ بیس دینار پر نصف دینار اور چالیس دینار پر ایک دینار زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 10145
١٠١٤٥ - حدثنا حماد بن مسعدة عن أشعث عن الحسن قال: (ليس في أقل من أربعين دينارًا شيء) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ چالیس دینار سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10146
١٠١٤٦ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج قال: قال عطاء: لا يكون في مال صدقة حتى يبلغ عشرين دينارًا (فإذا بلغت عشرين دينارًا) (٢) ففيها ⦗١٦٥⦘ (نصف) (٣) دينار، [وفي كل أربعة دنانير يزيدها (من) (٤) المال درهم حتى (تبلغ) (٥) أربعين (دينارًا) (٦)] (٧). وفي كل أربعين دينارًا دينار، وفي كل أربعة وعشرين دينارًا نصف دينار ودرهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مال پر زکوٰۃ نہیں آئے گی یہاں تک کہ وہ بیس دینار ہوجائیں، جب بیس دینار ہوجائیں تو ان پر نصف دینار زکوٰۃ ہے اور ہر چار دیناروں پر جو اس سے زائد ہو ایک درہم آتا رہے گا یہاں تک کہ وہ چالیس ہوجائیں اور ہر چالیس پر ایک دینار ہے اور چوبیس دینار پر نصف دینار اور ایک درھم ہے۔