حدیث نمبر: 10088
١٠٠٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص قال: قال عبد اللَّه: من لم يؤد الزكاة فلا صلاة له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص زکوٰۃ ادا نہ کرے اسکی نماز قبول نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10089
١٠٠٨٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن سلمة عن الضحاك قال: لا صلاة إلا بزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ سے مروی ہے کہ حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ نماز قبول نہیں مگر زکوٰۃ ادا کرنے کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 10090
١٠٠٩٠ - حدثنا ابن إدريس عن مطرف عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص قال: قال عبد اللَّه: ما مانع الزكاة (بمسلم) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا : مؤمن زکوٰۃ ادا کرنے کو ترک نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 10091
١٠٠٩١ - حدثنا شريك عن إبراهيم بن مهاجر عن إبراهيم قال: قال أبو بكر: لو منعوني ولو عقالًا مما أعطوا رسول اللَّه ﷺ لجاهدتهم، قال: ثم تلا: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ﴾ [آل عمران: ١٤٤] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے ارشاد فرمایا : اگر وہ لوگ مجھے رسی کا ایک ٹکڑا ادا کرنے سے بھی انکار کریں جو وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا کرتے تھے میں ان سے ضرور جہاد کروں گا، پھر آپ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں ہیں مگر رسول، تحقیق ان سے پہلے بھی رسول گذر چکے، کیا اگر یہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تم اپنی ایڑیوں کے بل واپس پلٹ جاؤ گے “۔
حدیث نمبر: 10092
١٠٠٩٢ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن هشام (الدستوائي) (١) عن أبي الزبير عن جابر إذا أديت زكاة مالك (أذهبت) (٢) عنك شره (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زبیر سے مروی ہے کہ حضرت جابر نے ارشاد فرمایا : جب تو نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو تجھ سے اس کا شر دور ہوگیا۔
حدیث نمبر: 10093
١٠٠٩٣ - (حدثنا) (١) وكيع قال: حدثنا زكريا بن إسحاق المكي قال: (حدثني) (٢) يحيى بن عبد اللَّه بن صيفي عن أبي معبد مولى ابن عباس (عن) (٣) ابن عباس عن معاذ قال: بعثني رسول اللَّه ﷺ فقال: "إنك تأتي قومًا من أهل الكتاب فادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا اللَّه وأني رسول اللَّه، فإن هم (أطاعوك) (٤) (بذلك) (٥) فأعلمهم أن اللَّه افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فإن هم (أطاعوك) (٦) (بذلك) (٧) فأعلمهم أن اللَّه (افترض) (٨) عليهم صدقة (في ⦗١٥٠⦘ أموالهم) (٩) (تؤخذ) (١٠) من أغنيائهم (١١) فترد (على) (١٢) فقرائهم، فإن هم (أطاعوك) (١٣) (بذلك) (١٤) (فإياك) (١٥) وكرائم أموالهم، واتق دعوة المظلوم، فإنها ليس بينها وبين (اللَّه) (١٦) حجاب" (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل سے مروی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (یمن) کی طرف بھیجا تو مجھ سے فرمایا : بیشک تیرے پاس اہل کتاب کے لوگ آئیں گے تو تم ان کو لا الہ الا اللہ کی شہادت اور میری رسالت کی دعوت دینا، اگر وہ اسکو قبول کرلیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اسکو قبول کرلیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال میں ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے، ان کے مال داروں سے لینا اور ان کے فقراء پر خرچ کرنا، اگر وہ اسکو قبول کرلیں تو پس تو بچنا ان کے عمدہ اور قیمتی مال سے، اور مظلوم کی بددعا سے اپنے آپکو بچانا کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 10094
١٠٠٩٤ - حدثنا ابن نمير عن (ابن) (١) أبي خالد عن الشعبي عن الحارث عن علي [قال: لعن (٢) مانع الصدقة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا : زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔
حدیث نمبر: 10095
١٠٠٩٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل عن الشعبي عن الحارث عن علي] (١) مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ سے اسی طرح کا قول نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 10096
١٠٠٩٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن عبد اللَّه [بن (مرة) (١) عن ⦗١٥١⦘ الحارث] (٢) بن عبد اللَّه عن عبد اللَّه (قال: قال) (٣): (لاوي) (٤) الصدقة -يعني مانعها- ملعون على لسان محمد (ﷺ) يوم (القيامة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن عبد اللہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے قیامت کے دن ملعون ہوں گے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان پر۔
حدیث نمبر: 10097
١٠٠٩٧ - حدثنا وكيع عن (مثنى) (١) (بن) (٢) سعيد قال: سمعت أنسًا وشكا إليه قوم من (الأعراب) (٣) الصدقة فقال: اجمعوها وأدوها لوقتها فما أخذ منكم بعد ذلك فهو ظلم ظلمتموه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مثنی بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت انس سے کہ دیہاتیوں کی ایک قوم نے زکوٰۃ کے بارے میں شک کیا تو حضرت انس نے فرمایا تم زکوٰۃ کو اکٹھا کرو اور اس کے وقت میں ادا کرو پس جو کچھ وقت کے بعد تم سے لیا گیا وہ ظلم ہے جو تم پر کیا گیا اس میں جو تم نے سپرد کیا۔
حدیث نمبر: 10098
١٠٠٩٨ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن الشعبي عن جرير قال: قلت (لبني) (١): يا بني إذا جاءكم (المصدق) (٢) [فلا (تكتموه) (٣) من نعمكم شيئًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بیٹوں سے کہا : اے بیٹو ! جب تمہارے پاس زکوٰۃ وصول کرنے والا آئے تو اس سے اپنے اموال میں سے کوئی چیز بھی نہ چھپانا۔
حدیث نمبر: 10099
١٠٠٩٩ - حدثنا علي بن مسهر عن عاصم عن أبي عثمان عن أبي هريرة قال: ⦗١٥٢⦘ (إذا) (١) (جاءك) (٢) المصدق] (٣) فقال: أخرج (صدقتك فأخرجها) (٤) (فإن) (٥) قبل فيها ونعمت، فإن (أبي) (٦) (قوله) (٧) ظهرك وقيل: اللهم (إني) (٨) (احتسب) (٩) عندك (ما يأخذ مني) (١٠) ولا (تلعنه) (١١) (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان سے مروی ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا : جب زکوٰۃ وصول کرنے والا تمہارے پاس آ کر کہے کہ اپنی زکوٰۃ نکالو تو تمہیں چاہئے کہ تم (فورا) زکوٰۃ نکال لو اور اگر وہ اسکو قبول کرلے تو بہت اچھا ہے اور اگر وہ انکار کر دے تو تو اپنی پیٹھ اس سے پھیر لے اور اس سے بحث نہ کر اور یوں کہہ : اے اللہ ! میں تجھ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں جو اس نے مجھ سے وصول کیا، اور اس شخص کو لعن طعن نہ کر۔
حدیث نمبر: 10100
١٠١٠٠ - حدثنا عبد الرحيم عن داود عن الشعبي عن جرير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليصدر المصدق عنكم حين يصدر وهو راض" (١). - وقال الشعبي: المعتدي في الصدقة كمانعها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زکوٰۃ وصول کرنے والا جب تمہارے پاس سے لوٹے تو وہ اس حال میں لوٹے کہ وہ تم سے راضی ہو۔
حدیث نمبر: 10101
١٠١٠١ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثنا ثابت (بن) (١) قيس عن خارجة بن إسحاق عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد اللَّه عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "سيأتيكم ركب مبغضون، فإن جاؤوكم فرحبوا بهم وخلوا بينهم وبين ما ⦗١٥٣⦘ (يبغون) (٢)، فإن عدلوا فلأنفسهم، وإن ظلموا فعليهم، وأرضوهم (فإن تمام زكاتكم رضاهم) (٣) وليدعوا لكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب تمہارے پاس ناپسندیدہ سوار آئیں گے، لیکن جب وہ تمہارے پاس (زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے) آئیں تو تم انکو خوش آمدید کہو اور ان کیلئے کشادگی کرو، اور چھوڑ دو ان کے درمائن وہ چیز جس میں وہ زیادتی کریں، پس اگر وہ انصاف کریں گے تو اپنے نفسوں کیلئے اور اگر ظلم کریں تو انکا وبال خود ان پر ہے اور تمہیں چاہئے کہ تم ان کو راضی کردو بیشک تمہاری زکوٰۃ کا اتمام (مکمل ہونا) ان کی رضا مندی ہے اور ان کو بھی چاہئے کہ وہ تمہارے لئے دعا کریں۔
حدیث نمبر: 10102
١٠١٠٢ - حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي عن أبي (سنان) (١) عن الضحاك قال: كان عمر بن الخطاب إذا ظهر على مال (قد غيب) (٢) عن الصدقة خمسه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کو جب معلوم ہوتا کہ (فلاں) مال چھپایا گیا ہے زکوٰۃ سے تو وہ اسکا پانچ گنا وصول فرماتے ۔
حدیث نمبر: 10103
١٠١٠٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا ابن أبي (عروبة) (١) عن (عبيد اللَّه) (٢) ابن (رزيق) (٣) أنه سمع الحسن قال: قال نبي اللَّه ﷺ: "من [أدى زكاة ماله] (٤) (أدى) (٥) الحق الذي عليه ومن زاد فهو خير له" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن رزیق فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی اس نے اپنا حق جو اس پر تھا ادا کردیا اور جو شخص زیادہ ادا کرے تو وہ اس کیلئے بہتر ہے (اس زیادہ دینے کا اسی کو ثواب ہے) ۔
حدیث نمبر: 10104
١٠١٠٤ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عكرمة عن ابن عباس قال: من أدى زكاة ماله فلا جناح عليه إلا أن يتصدق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو اب اگر وہ صدقہ نہ بھی کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔