حدیث نمبر: 10064
١٠٠٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن عبد الرحمن بن هلال (العبسي) (١) عن جرير قال: خطبنا رسول اللَّه ﷺ فحثنا على الصدقة فأبطأوا حتى رئي في وجهه الغضب، ثم إنّ رجلًا من الأنصار (جاء) (٢) بصرة فأعطاها، فتتابع الناس حتى (رئ) (٣) في وجهه السرور فقال رسول اللَّه ﷺ: "من سن سنة حسنة كان له أجرها ومثل أجر من عمل بها من غير أن (ينتقص) (٤) من أجورهم شيئًا، ومن من سنة سيئة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها من غير أن (ينتقص) (٥) من أوزارهم شيئًا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔ لوگوں نے صدقہ کرنے میں تاخیر کی جسکی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پہ غصہ کے آثار دکھائی دینے لگے۔ پھر ایک انصاری شخص ایک تھیلی لے کر آیا اور وہ تھیلی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی، باقی لوگوں نے بھی اس انصاری شخص کی پیروی کی یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پہ خوشی کے آثار دکھائی دینے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اچھائی کا راستہ اور طریقہ جاری کرے گا تو اسکو اس کا اجر ملے گا اور جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے ان کا ثواب بھی اسکو ملے گا ان لوگوں کے اجر میں کمی کیے بغیر، اور جو شخص برائی کا طریقہ جاری کرے گا تو اس کا گناہ اسی پر ہے اور جتنے لوگ بھی اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی اسی پر ہوگا ان لوگوں کے گناہ میں کمی کیے بغیر۔
حدیث نمبر: 10065
١٠٠٦٥ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة قال: حدثني عون بن أبي جحيفة قال: سمعت المنذر بن جرير يذكر عن أبيه قال: كنا عند رسول اللَّه ﷺ صدر النهار (فجاء) (١) قوم حفاة (مجتابي) (٢) (النمار) (٣) عليهم السيوف ⦗١٣٨⦘ (والعمائم) (٤) عامتهم من مضر بل كلهم من مضر قال: فرأيت وجه رسول اللَّه ﷺ يتغير تغيرًا لما رأى بهم من الفاقة، قال: ثم قام فدخل (٥) ثم أمر بلالًا (فأذن) (٦) ثم (أقام) (٧) فصلى ثم قال: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾، ثم قرأ إلى آخر الآية: ﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ﴾ [النساء: ١]، ﴿اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ [الحشر: ١٨]: تصدق امرؤ من ديناره (٨) من درهمه (٩) من ثوبه (١٠) من صاع بره (يعني الحنطة) (١١) من صاع تمره (حتى قال: اتقوا النار ولو) (١٢) بشق تمرة) "، قال: فجاء (رجل) (١٣) من الأنصار بصرة قد كادت كفه تعجز عنها بل قد عجزت قال: ثم تتابع الناس حتى رأيت كومين من طعام وثياب قال: فرأيت وجه رسول اللَّه ﷺ يتهلل كأنه مذهبة فقال: "من سن في الإسلام سنة [حسنة أو صالحة فاسق بها بعده كان له (أجرها) (١٤) وأجر من عمل بها بعده لا (ينتقص) (١٥) من أجورهم شيئًا، ومن (سن) (١٦) (في ⦗١٣٩⦘ الإسلام) (١٧) سنة] (١٨) سيئة (فاستن بها بعده) (١٩) كان عليه (وزرها) (٢٠) ووزر من عمل بها بعده لا (ينتقص) (٢١) من أوزارهم شيئًا" (٢٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں صبح کے وقت حاضر تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم حاضر ہوئی جو تنگ دست تھے سفید اور کالے لباس میں ملبوس تھے، ان پر تلواریں تھیں اور عمامے تھے، اکثر کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا بلکہ میں تو کہوں گا سب کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا، ان کی تنگ دستی کی حالت کو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہونا شروع ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا، اس کے بعد لوگوں کو نماز پڑھائی، اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ” اے لوگو ! ڈرو اس رب سے جس نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا “ پھر آیت کے آخر تک تلاوت فرمائی، اور اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَد۔ کی تلاوت فرمائی۔ (اور حکم دیا کہ) لوگو ! صدقہ کرو دینار میں سے، درھم میں سے، کپڑوں میں سے، گندم میں سے اور کھجور میں سے یہاں تک کہ اگرچہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ اتنے میں ایک انصاری شخص تھیلی اٹھا کر آیا اور اس کی ہتھیلی اس کے اٹھانے سے عاجز آرہی تھی بلکہ میں تو کہوں گا کہ اس کے ہاتھ عاجز آگئے تھے، پھر باقی لوگوں نے بھی اس کی پیروی کی یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کپڑے اور کھانے پینے کی اشیاء کے دو ڈھیر لگ لئے۔ راوی کہتے ہیں کہ اسکو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور سونے کی طرح چمکنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اسلام میں کوئی اچھا اور نیک طریقہ جاری کرے گا، اور بعد میں لوگ اس پر عمل کریں تو اسکو اپنے اجر کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا اجر بھی ملے گا اور ان کے اجر میں بھی کمی نہیں کی جائے گی، اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے اور بعد میں لوگ اس پر عمل کریں تو اس پر اپنے گناہ کے علاوہ ان لوگوں کا گناہ بھی ہوگا جو بعد میں اس پر عمل کریں گے ان لوگوں کے گناہوں میں کمی کئے بغیر “ ، ،
حدیث نمبر: 10066
١٠٠٦٦ - حدثنا ابن عيينة عن أيوب قال: سمعت عطاء قال: سمعت ابن عباس يقول: أشهد على رسول اللَّه (ﷺ) (١) (لصلى) (٢) قبل الخطبة، ثم خطب فرأى أنه لم (يسمع) (٣) النساء فأتاهن (فذكرهن) (٤) ووعظهن وأمرهن بالصدقة وبلال (قائل) (٥) بثوبه قال: فجعلت المرأة تلقي الخاتم والخرص والشيء (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں نماز کیلئے خطبہ سے قبل حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ عورتوں نے خطبہ نہیں سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان کو وعظ و نصیحت فرمائی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ اور حضرت بلال اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے، عورتوں نے اپنی انگوٹھیاں اور کنگن اور دوسری اشیاء صدقہ کیلئے دیں۔
حدیث نمبر: 10067
١٠٠٦٧ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن (ذر) (١) عن وائل بن (مهانة) (٢) عن عبد اللَّه (قال) (٣): قال رسول اللَّه ﷺ: " (تصدقن) (٤) يا معشَرَ ⦗١٤٠⦘ النساء فإنكن أكثر أهل جهنَّم"، فقالت امرأة ليست من علية النساء: (بم) (٥) ذلك يا رسول اللَّه؟ قال: "لأنكن تكثرن (اللعن) (٦) وتكفرن العشير" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عورتوں کی جماعت صدقہ کیا کرو، بیشک تم میں سے جہنم میں جانے والی زیادہ ہیں، ایک خاتون نے عرض کیا جو برسر آوردہ خواتین میں سے نہیں تھی ایسا کیوں اور کس وجہ سے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیونکہ تم لعن طعن بہت زیادہ کرتی ہو اور اپنے خاوند کی نا شکری ونا فرمانی کرتی ہو۔
حدیث نمبر: 10068
١٠٠٦٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن خيثمة عن عدي بن حاتم قال: ذكر رسول اللَّه ﷺ النار فأعرض (بوجهه) (١) وأشاح، ثم ذكر النار (فأعرض) (٢) وأشاح حتى ظننا أنه كأنما ينظر إليها ثم قال: "اتقوا النار ولو بشق تمرة فمن لم يجد فبكلمة طيبة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ (جہنم) کا تذکرہ فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیرا گویا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں، پھر دوبارہ جہنم کا تذکرہ فرمایا اور اپنا چہرہ مبارک پھیرا گویا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، یہاں تک کہ ہمیں یقین ہوگیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہنم کو دیکھ رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ اگرچہ کھجور کے ایک دانہ صدقہ کرنے سے ہو اور جو شعخص یہ بھی نہ پائے تو وہ اچھی بات کہے (بیشک اچھی بات بھی صدقہ ہے) ۔
حدیث نمبر: 10069
١٠٠٦٩ - حدثنا أبو أسامة (عن) (١) زكريا عن أبي إسحاق عن عبد اللَّه بن (معقل) (٢) عن عدي بن حاتم عن النبي ﷺ قال: "اتقوا النار ولو بشق تمرة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا (صدقہ کرنا) ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 10070
١٠٠٧٠ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا (داود بن قيس قال حدثنا) (١) عياض ⦗١٤١⦘ (ابن) (٢) عبد اللَّه بن سعد بن أبي سرح عن أبي سعيد (الخدري) (٣) قال: كان رسول اللَّه ﷺ يخرج يوم (العيد يوم) (٤) الفطر فيصلي بالناس تينك (الركعتين) (٥)، ثم يسلم، ثم يقوم فيستقبل الناس وهم جلوس فيقول: "تصدقوا (تصدقوا) (٦) " (٧) فكان أكثر من تصدق النساء (٨) بالقرط والخاتم والشيء (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدی سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے (عید گاہ کی طرف) اور لوگوں کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے سلام پھیرا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی طرف چہرہ کر کے کھڑے ہوگئے جب کہ لوگ سارے بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ کرو، صدقہ کرو “۔ پس عورتوں نے اپنی انگوٹھیاں اور کان کی بالیاں سب سے زیادہ صدقہ کیں۔
حدیث نمبر: 10071
١٠٠٧١ - حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن شقيق عن عمرو بن الحارث عن زينب امرأة عبد اللَّه قالت: أمرنا رسول اللَّه ﷺ بالصدقة فقال: "تصدقن يا معشر النساء" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ کی زوجہ حضرت زینب فرماتی ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : اے عورتوں کی جماعت صدقہ کیا کرو۔
حدیث نمبر: 10072
١٠٠٧٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن منصور (بن) (١) (حيان) (٢) عن (ابن) (٣) (بجاد) (٤) عن جدته قالت: قلت: يا رسول اللَّه يأتيني السائل ليس ⦗١٤٢⦘ عندي شيء أعطيه؟ (قالت) (٥): فقال: "لا تردي (سائلك) (٦) إلا بشيء ولو (بظلف) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بجاد اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! بعض اوقات میرے پاس سائل آتا ہے لیکن میرے پاس اسکو دینے کیلئے کچھ بھی نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے سائل کو کچھ دیئے بغیر نہ لٹایا کر اگرچہ گائے، بکری یا ہرن کا ایک کھر (پھٹا ہوا ناخن) ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 10073
١٠٠٧٣ - حدثنا وكيع عن شعبة عن معبد بن خالد عن حارثة بن وهب الخزاعي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "تصدقوا (فإنه) (١) يوشك أن يخرج الرجل بصدقته فلا يجد من يقبلها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارثہ بن وھب الخزاعی سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صدقہ کیا کرو، بیشک ایک وقت ایسا آئے گا کہ آدمی صدقہ کرنے کیلئے نکلے گا لیکن وہ کسی کو نہ پائے گا جو اس کا صدقہ قبول کرے۔
حدیث نمبر: 10074
١٠٠٧٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمار عن راشد بن الحارث عن أبي ذر قال: ما على الأرض من صدقة (تخرج) (١) حتى (تفك) (٢) عنها (لحى) (٣) سبعين (شيطان) (٤) كلهم ينهاه عنها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر نے ارشاد فرمایا : صدقہ سے زیادہ طاقتور کوئی چیز اس زمین پر نہیں یہاں تک کہ اس کی وجہ سے انسان کو ستر شیطانوں سے خلاصی دی جاتی ہے، وہ سب اسکو اس سے روکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 10075
١٠٠٧٥ - حدثنا (عمر) (١) بن سعد عن سفيان عن سلمة (بن) (٢) كهيل عن أبي الزعراء عن عبد اللَّه أن (راهبًا) (٣) عبَدَ اللَّه في صومعته ستين سنة، فجاءت امرأة فنزلت إلى جنبه، فنزل إليها فواقعها ست ليال ثم (أسقط) (٤) في يده ثم هرب، فأتى مسجدًا فأوى فيه فمكث ثلاثًا لا يطعم شيئًا، فأتي برغيف، فكسر نصفه فأعطاه رجلًا عن يمينه، وأعطى الآخر (رجلًا) (٥) عن يساره، ثم بعث إليه ملك فقبض روحه، فوضع عمل ستين (سنة) (٦) في كفة ووضعت السيئة (في أخرى) (٧) (فرجحت) (٨)، ثم جيء بالرغيف فرجح (بالسيئة) (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک راہب ساٹھ سال تک اپنے عبادت خانے میں (عبادت میں مصروف) رہا، اس کے پڑوس میں ایک عورت آئی تو وہ راہب چھ راتوں تک اس کے پاس جاتا رہا پھر اپنے اس عمل کی پشیمانی کی وجہ سے وہاں سے بھاگ کر ایک مسجد میں پناہ لے لی اور تین دن تک مسجد میں کچھ کھائے پیئے بغیر رہا، (تین دن بعد) اس کے پاس ایک روٹی لائی گئی تو اس نے اس کے دو حصے کر کے آدھی دائیں جانب والے شخص کو دیدی اور آدھی روٹی بائیں جانب والے شخص کو دیدی۔ پھر ملک الموت نے آ کر اس راہب کی روح قبض کرلی اور اس کے ساٹھ سال کے اعمال ایک ترازو میں رکھے گئے اور گناہ دوسرے پلڑے میں تو وہ گناہوں والا پلڑا جھک گیا، پھر وہ روٹی لائی گئی (جو اس نے صدقہ کی تھی) اس روٹی کے رکھنے سے نیکیوں والا پلڑا گناہوں والے پلڑے سے جھک گیا۔
حدیث نمبر: 10076
١٠٠٧٦ - حدثنا وكيع عن عباد بن منصور عن القاسم بن محمد قال: سمعت أبا هريرة عن النبي ﷺ يقول: "إن اللَّه يقبل الصدقة ويأخذها بيمينه فيربيها لصاحبها كما يربي أحدكم فلوه أو (فصيله) (١) حتى أن اللقمة لتصير مثل أحد، وتصديق ذلك في كتاب اللَّه ﷿: ﴿هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ ⦗١٤٤⦘ الصَّدَقَاتِ﴾ [التوبة: ١٠٤]، و [﴿يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ﴾] (٢) "، [البقرة: ٢٧٦] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوھریرہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ صدقہ کو قبول کرتا ہے اور اسے داہنے ہاتھ سے لیتا ہے اور اسکو بڑھاتا ہے صدقہ دینے والے کیلئے۔ جیسا کہ تم میں سے کوئی ایک تربیت کرتا ہے (بڑھاتا ہے) چھوٹے بچے یا کنبے کو، یہاں تک کہ ایک لقمہ صدقہ کا (ثواب) احد پہاڑ کے برابر کردیتا ہے اور اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات سے بھی ہوتی ہے، اللہ فرماتے ہیں کہ وہی اللہ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے صدقات کو لیتا ہے (قبول کرتا ہے) دوسری جگہ ارشاد فرمایا : اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔
حدیث نمبر: 10077
١٠٠٧٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن يونس بن (خباب) (١) عن أبي سلمة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما نقصت (صدقة من مال) (٢) قط فتصدقوا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ سے مروی ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صدقہ کرنے سے مال میں بالکل کمی نہیں ہوتی، پس تم صدقہ کیا کرو۔
حدیث نمبر: 10078
١٠٠٧٨ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن طلحة عن مسروق عن عائشة (قالت) (١): أهديت لنا شاة مشوية، فقسمتها كلها إلا كتفها، فدخل علي رسول اللَّه ﷺ، فذكرت ذلك له فقال: "كلها لكم إلا كتفها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ھدیہ میں بھنی ہوئی بکری آئی تو میں نے کندھے کے گوشت کے علاوہ باقی ساری بکری صدقہ کر کے تقسیم کردی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں باقی ساری بکری تمہارے لئے ہے سوائے ایک کندھے کے گوشت کے جو تم نے صدقہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 10079
١٠٠٧٩ - حدثنا جرير عن منصور عن سالم عن عطية مولى (بني) (١) عامر عن يزيد بن بشر (السكسكي) (٢) (فقال) (٣): بعثه يزيد بن عبد الملك بكسوة إلى ⦗١٤٥⦘ الكعبة، فلما (أتى تيماء) (٤) (جاءه) (٥) سائل فسأل قال: فقال: تصدقوا فإن الصدقة تنجي (من) (٦) سبعين بابًا من الشر، قال: فقلت: من ها هنا (أفقه) (٧) قالوا: نسي (٨) رجل من اليهود، (فأتيت) (٩) الدار فقلت: (ثم) (١٠) نسي؟ فأشرفت علي (امرأته) (١١) فأذنت لي (فأشرفت) (١٢) عليه، فلما رآني توضأ فقلت له: ما شأنك حين رأيتني توضأت؟ قال: إن اللَّه (تعالى) (١٣) قال: يا موسى توضأ فإن لم تفعل فأصابتك مصيبة فلا تلومن إلا نفسك، قال: قلت إن سائلًا (يسأل) (١٤)؟ فقال: تصدقوا فإن الصدقة (تنجي) (١٥) من سبعين بابًا من الشر؟ قال: صدق فذكر (أشياء) (١٦) من المنايا وهدم الحائط ووقص الدابة و (الغرق) (١٧) مما شاء اللَّه مما عد من المنايا، قال: قلت و (تنجي) (١٨) من النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن بشر السکسکی فرماتے ہیں کہ یزید بن عبد الملک نے مجھے ایک کپڑا دے کر کعبہ کی طرف بھیجا، جب میں مقام تیماء میں پہنچا تو ایک سائل آیا اور کہنے لگا۔ صدقہ کرو بیشک صدقہ شر کے ستر دروازوں سے انسان کو نجات دیتا ہے، میں نے پوچھا (لوگوں سے) یہاں پر سب سے بڑا فقیہ کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا نُسیّ نامی یہود میں سے ایک شخص ہے۔ میں اس کے مکان پر آیا اور آواز دی کہ نسی ہے ؟ ایک عورت نے جھانکا اور مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت دیدی، جب اس نے مجھے دیکھا تو اس نے وضو کیا۔ میں نے اس سے پوچھا جب تو نے مجھے دیکھا تو وضو کیا، اس کی کیا وجہ ہے ؟ کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے فرمایا تھا اے موسیٰ ! وضو کیا کر اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو تجھے بہت سی مصیبت پہنچے گی پھر تو اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرنا۔ میں نے کہا کہ ایک سائل سوال کرتے ہوئے یوں کہہ رہا تھا کہ صدقہ کرو بیشک صدقہ شر کے ستر دروازوں سے انسان کو نجات دیتا ہے۔ کہنے لگا اس نے سچ کہا ہے پھر موت، دیوار کا گرنا، جانور کا ہلاک ہونا اور غرق ہونا اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ چاہے جو شمار کرے موتوں میں سے، میں نے عرض کیا اور صدقہ نجات دیتا ہے جہنم کی آگ سے۔
حدیث نمبر: 10080
١٠٠٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن (يزيد بن أبي حبيب عن) (١) مرثد بن عبد اللَّه اليزني قال: حدثني من سمع رسول اللَّه ﷺ يقول: "صدقة المؤمن ظله يوم القيامة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرثد بن عبد اللہ الیزنی فرماتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا : مومن آدمی کا صدقہ قیامت کے دن اس پر سایہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 10081
١٠٠٨١ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن علي بن الأقمر عن أبي (الأحوص) (١) قال: (قد أفلح من تزكى) (قال) (٢): من (ارضخ) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن الاقمر سے مروی ہے کہ حضرت ابو الاحوص نے فرمایا : قد افلح من تزکی، تحقیق وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا، فرمایا جس کو تھوڑا عطاء کیا گیا۔
حدیث نمبر: 10082
١٠٠٨٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أبي (مدينة) (١) أن سائلًا سأل عبد الرحمن بن عوف وبين يديه عنب فناوله حبة، فكأنهم أنكروا ذلك فقال: في هذه مثقال (ذر) (٢) كثير (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مدینہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کے پاس ایک سائل آیا۔ آپ کے سامنے انگور رکھے ہوئے تھے، آپ نے سائل کو انگور کا ایک دانہ دیدیا، تو لوگوں نے اسکو ناپسند کیا، آپ نے فرمایا یہ چھوٹا سا ذرہ بہت زیادہ ہوگا (قیامت کے دن)
حدیث نمبر: 10083
١٠٠٨٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن (خليد) (١) بن جعفر قال: سمعت أبا إياس يحدث عن أم الحسن أنها كانت عند أم سلمة زوج النبي ﷺ فجاء (نساء) (٢) مساكين فقالت: أخرجوهن، فقالت (أم سلمة) (٣): ما بهذا أمرنا (اللَّه) (٤) (أنبذ بهن) (٥) (بتمرة) (٦) تمرة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام حسن فرماتی ہیں کہ میں حضرت ام سلمہ کے پاس تھی ایک مسکین آیا میں نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا کہ اسکو باہر نکال دوں ؟ آپ نے فرمایا : ہمیں اس کا حکم نہیں دیا گیا اسکو کھجور میں سے کچھ کھجوریں دیدو۔
حدیث نمبر: 10084
١٠٠٨٤ - حدثنا ابن علية عن (حباب) (١) بن المختار عن عمرو بن (سعيد) (٢) عن حميد بن عبد الرحمن قال: كان يقال: ردوا السائل ولو (٣) (بمثل رأس) (٤) (القطاة) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ حضرت حمید بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ : سائل کو کچھ نہ کچھ دو اگرچہ چڑیا (فاختہ) کے سر کے بقدر ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 10085
١٠٠٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن مصعب بن محمد عن يعلى بن أبي يحيى عن فاطمة بنت حسين عن أبيها قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "للسائل حق وإن جاء على فرس" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ بنت حسین اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سائل کا تم پر حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پہ سوار ہو کر آئے۔
حدیث نمبر: 10086
١٠٠٨٦ - حدثنا ابن فضيل عن الحسن بن عبيد اللَّه عن سالم (بن أبي الجعد) (١) قال: قال عيسى بن مريم: للسائل حق وإن جاء على فرس مطوق بالفضة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابو جعد فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کا قول ہے کہ سائل کا تم پر حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پہ سوار ہو کر آئے اور اسکے گلے میں چاندی کا ہار ہو۔
حدیث نمبر: 10087
١٠٠٨٧ - حدثنا مالك بن إسماعيل (عن) (١) زهير عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص قال: إذا أتى أحدكم السائل وهو يريد (الصلاة أو قال يريد) (٢) أن يصلي، فإن استطاع أن يتصدق فليفعل فإن اللَّه يقول: ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (١٤) وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى﴾ [الأعلى: ١٤ - ١٥]، فإن استطاع أن يقدم بين يدي صلاته صدقة فليفعل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ جب تمہارے پاس کوئی سائل آئے اور وہ نماز کا ارادہ کر رہا ہو یا فرمایا (راوی کو شک ہے) ارادہ کرتا ہے کہ نماز پڑھے، پس اگر تم طاقت رکھو تو صدقہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، تحقیق وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی، اور اگر نماز سے پہلے صدقہ کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسکو چاہئے کہ صدقہ کرے۔