کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات کھجور اور پانی سے افطار کرنے کو مستحب قرار دیتے تھے
حدیث نمبر: 10058
١٠٠٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عاصم عن حفصة بنت سيرين (عن الرباب) (١) عن عمها (سلمان) (٢) بن عامر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: ⦗١٣٥⦘ "إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإن لم يجد فليفطر على ماء فإنه طهور" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور پر افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پانی پر افطار کرلے کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 10058
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10058، ترقيم محمد عوامة 9889)
حدیث نمبر: 10059
١٠٠٥٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم عن حفصة بنت سيرين عن (الرباب) (١) وهي أم الرائح بنت صليع عن سلمان بن عامر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإن لم يجد فليفطر على ماء فإنه طهور" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور پر افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پانی پر افطار کرلے کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 10059
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10059، ترقيم محمد عوامة 9890)
حدیث نمبر: 10060
١٠٠٦٠ - حدثنا وكيع عن عبد الواحد بن أيمن عن أبيه عن أبي سعيد قال: دخلت عليه، فأفطر على تمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید کے پاس آیا تو انہوں نے کھجور پر افطار کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 10060
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10060، ترقيم محمد عوامة 9891)
حدیث نمبر: 10061
١٠٠٦١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن أم موسى (قالت) (١): كانوا يستحبون أن يفطروا على البسر أو التمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام موسیٰ فرماتی ہیں کہ اسلاف اس بات کو پسند کرتے تھے کہ تازہ یاخشک کھجور پر افطارکریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 10061
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10061، ترقيم محمد عوامة 9892)
حدیث نمبر: 10062
١٠٠٦٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن مغيرة (١) (بن) (٢) عبد اللَّه ⦗١٣٦⦘ اليشكري قال: قال عبد اللَّه: من أفطر يومًا من رمضان متعمدًا من غير سفر ولا مرض (٣) لم يقضه أبدًا وإن صام الدهر كله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جس نے بغیر سفر اور بغیر مرض کے رمضان کا روزہ جان بوجھ کر چھوڑ دیا، وہ اس کی قضا نہیں کرسکتا خواہ ساری زندگی روزہ رکھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 10062
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أشعث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10062، ترقيم محمد عوامة 9893)
حدیث نمبر: 10063
١٠٠٦٣ - حدثنا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم قال: يقضي يومًا مكانه ويستغفر ربه. [تم كتاب الصيام والحمد للَّه وحده] (١)
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان کا روزہ چھوڑ دیا وہ اس کی جگہ ایک روزے کی قضا کرے اور اپنے رب سے استغفار کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 10063
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10063، ترقيم محمد عوامة 9894)