کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی آدمی روزے کی حالت میں بیوی سے جماع کر بیٹھے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 10048
١٠٠٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن حميد عن أبي هريرة قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: هلكت قال: "وما أهلكك؟ " قال: ⦗١٣٢⦘ وقعت على امرأتي في رمضان قال: "أعتق رقبة"، قال: لا أجد. قال: "فصم شهرين". قال: لا أستطيع، قال: "فأطعم ستين مسكينًا". قال: لا أجد قال: "اجلس" فجلس، (فبينا) (١) هو كذلك إذ (أُتي) (٢) رسول اللَّه ﷺ (بعرق) (٣) فيه تمر، فقال له النبي ﷺ: "اذهب فتصدق به" فقال: والذي بعثك بالحق ما بين لابتيها أهل بيت أفقر إليه منا. قال: فضحك رسول اللَّه ﷺ حتى بدت (أنيابه) (٤) ثم قال: "انطلق فأطعمه عيالك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں ہلاک ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے ہلاک کردیا ؟ اس نے کہا کہ رمضان میں، میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک غلام آزاد کرو۔ اس نے کہا میرے پاس تو کوئی غلام نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ دو مہینے روزے رکھو۔ اس نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ نے فرمایا کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے کہا کہ میں اس کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا۔ اتنی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ نے اسے فرمایا کہ یہ لے جاؤ اور اسے صدقہ کردو۔ اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، مدینہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان مجھ سے زیادہ نادار گھر کسی کا نہیں۔ اس کی یہ بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا مسکرائے کہ آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے گھر والوں کو یہ کھلا دو ۔
حدیث نمبر: 10049
١٠٠٤٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي ﷺ مثله وقال: صم يومًا مكانه (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 10050
١٠٠٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن ابن القاسم (٢) عن محمد بن جعفر بن الزبير عن عباد بن عبد اللَّه بن الزبير عن عائشة قالت: (أتى رسول اللَّه ﷺ رجل) (٣)، فذكر أنه احترق، فسأله عن أمره فذكر أنه وقع على امرأته في رمضان، فأتي النبي ﷺ (بمكتل) (٤) (يدعى) (٥) ⦗١٣٣⦘ (العرق) (٦) فيه تمر فقال: "أين المحترق؟ " فقام الرجل، فقال (له) (٧): "تصدق بهذا" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عا ئشہ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ میں جل گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی حقیقت پوچھی تو اس نے کہا کہ میں رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ کچھ دیر بعد کھجور کا ایک ٹوکرا آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ نے پوچھا کہ وہ جل جانے والا کہاں ہے ؟ وہ آدمی کھڑا ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس کو صدقہ کردو۔