حدیث نمبر: 10012
١٠٠١٢ - حدثنا يحيى بن سليم عن (إسماعيل) (١) بن كثير عن عاصم بن لقيط بن صبرة عن أبيه أن النبي ﷺ قال: " (بالغ) (٢) (في) (٣) الاستنشاق إلا أن (تكون) (٤) ⦗١٢٢⦘ صائمًا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لقیط بن صبرہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کلی میں مبالغہ کرو البتہ اگر روزہ ہو تو پھر ایسا نہ کرو۔
حدیث نمبر: 10013
١٠٠١٣ - حدثنا ابن فضيل عن أبيه قال: كان الضحاك وأصحابه بخراسان في رمضان، فكانوا لا يتمضمضون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک اور ان کے ساتھی ماہ رمضان میں خراسان میں تھے، وہ بہت زیادہ کلی نہیں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 10014
١٠٠١٤ - حدثنا الفضل بن (دكين) (١) عن أبي هلال عن ابن سيرين قال: كان (يكره) (٢) أن يستنشق الصائم حتى يدخل حلقه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ روزہ دار اس طرح کلی کرے کہ پانی اس کے حلق میں چلا جائے۔
حدیث نمبر: 10015
١٠٠١٥ - حدثنا معاوية بن هشام عن عمار بن (رُزَيق) (١) عن أبي فروة عن الشعبي قال: إذا (استنشقت) (٢) وأنت صائم فلا (تبالغ) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر تمہارا روزہ ہو تو کلی کرنے میں مبالغہ نہ کرو۔