کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں
حدیث نمبر: 9973
٩٩٧٣ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن أبي الخليل عن أبي قتادة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "صوم عرفة كفارة سنتين سنة ماضية وسنة مستقبلة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یوم عرفہ کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے، ایک گذشتہ سال کے گناہوں اور ایک آنے والے سال کے گناہوں کا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9973
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ لضعف ابن أبي ليلى، وأبو الخليل لم يسمع من أبي قتادة، وانظر ما بعده.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9973، ترقيم محمد عوامة 9806)
حدیث نمبر: 9974
٩٩٧٤ - حدثنا وكيع عن مهدي بن ميمون عن غيلان بن جرير عن عبد اللَّه بن معبد الزماني عن أبي قتادة أن النبي ﷺ سئل عن صيام عرفة فقال: "احتسب على اللَّه (أن) (١) (يكفر) (٢) سنتين سنة ماضية وسنة مستقبلة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یوم عرفہ کے روزہ کو دو سال کے گناہوں کا کفارہ سمجھو، ایک گذشتہ سال کے گناہوں کا اور ایک آنے والے سال کے گناہوں کا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9974
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١١٦٢) وأحمد (٢٢٥٣٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9974، ترقيم محمد عوامة 9807)
حدیث نمبر: 9975
٩٩٧٥ - حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي قيس عن هزيل عن مسروق عن عائشة ⦗١١٠⦘ [(أنها) (١) كانت تصوم (يوم) (٢) عرفة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یومِ عرفہ کو روزہ رکھا کرتی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9975
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9975، ترقيم محمد عوامة 9808)
حدیث نمبر: 9976
٩٩٧٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي قيس عن هزيل (عن مسروق) (١) عن عائشة] (٢) قالت: ما من السنة يوم أحب إليّ أن أصومه من يوم عرفة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پورے سال میرے نزدیک روزہ رکھنے کے لئے سب سے زیادہ پسندیدہ دن عرفہ کا دن ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9976
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9976، ترقيم محمد عوامة 9809)
حدیث نمبر: 9977
٩٩٧٧ - حدثنا معاوية بن هشام عن أبي حفص (الطائفي) (١) عن أبي حازم عن سهل بن (سعد) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "صوم عرفة كفارة سنتين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عرفہ کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9977
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو حفص هو عبد السلام بن حفص صدوق، أخرجه أبو يعلى (٧٥٤٨) وعبد بن حميد (٤٦٤) والروياني (١٠٦٤) والطبراني (٥٩٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9977، ترقيم محمد عوامة 9810)
حدیث نمبر: 9978
٩٩٧٨ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه أنه كان يصوم عرفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم یوم عرفہ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9978
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9978، ترقيم محمد عوامة 9811)
حدیث نمبر: 9979
٩٩٧٩ - حدثنا (إسحاق) (١) الأزرق عن أبي العلاء عن (أبي) (٢) هاشم عن إبراهيم قال في صوم عرفة في الحضر: إذا كان فيه اختلاف فلا (تصومن) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم حضر میں یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر اس میں اختلاف ہو تو ہرگز روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9979
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9979، ترقيم محمد عوامة 9812)
حدیث نمبر: 9980
٩٩٨٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أنا ابن عون عن إبراهيم قال: كانوا لا يرون بصوم (يوم) (١) عرفة بأسًا إلا أن يتخوفوا أن يكون يوم الذبح.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف یوم عرفہ کے روزے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے البتہ اگر اس کے بارے میں یوم نحر ہونے کا خوف ہو تو پھر اس دن روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9980
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9980، ترقيم محمد عوامة 9813)
حدیث نمبر: 9981
٩٩٨١ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد (عن) (١) عائشة قالت: إن صوم (يوم) (٢) عرفة كفارة نصف سنة قال: وقال مجاهد: قال (فلان) (٣): كفارة سنة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عرفہ کا روزہ آدھے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9981
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال يزيد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9981، ترقيم محمد عوامة 9814)
حدیث نمبر: 9982
٩٩٨٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) حميد الطويل قال: ذكر عند الحسن أن صيام عرفة (يعدل صيام) (٢) سنة، فقال الحسن: ما أعلم ليوم فضلًا على يوم ولا (لليلة) (٣) (على ليلة) (٤) إلا ليلة القدر، فإنها خير من ألف شهر، ولقد رأيت عثمان بن أبي العاص صام يوم عرفة (يرش) (٥) عليه الماء من إداوة معه يتبرد به (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید الطویل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حسن کے سامنے ذکر کیا گیا کہ یوم عرفہ کے روزے کا ثواب ایک سال کے روزوں کے برابر ہے۔ یہ سن کر حسن نے فرمایا کہ میرے خیال میں کسی دن کو دوسرے دن پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اور سوائے لیلۃ القدر کے کسی دوسری رات کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ شبِ قدر ایک ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ میں نے حضرت عثمان بن ابی العاص کو دیکھا کہ وہ یوم عرفہ کو روزہ رکھا کرتے تھے تو سخت گرمی کی وجہ سے ٹھنڈک کی خاطر ان پر پانی چھڑکا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9982
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9982، ترقيم محمد عوامة 9815)