کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی نے نفلی روزہ رکھا ہو اور اس کی ماں اسے روزہ توڑنے کو کہے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 9966
٩٩٦٦ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن الرجل يصوم تطوعًا فنهته أمه (قالا) (١): (يطيعها) (٢) ويصوم أحيانًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی نے نفلی روزہ رکھا ہو اور اس کی ماں اسے روزہ توڑنے کو کہے تو وہ کیا کرے ؟ ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ وہ اپنی والدہ کی بات مانے اور کبھی کبھی روزہ رکھاکرے۔
حدیث نمبر: 9967
٩٩٦٧ - حدثنا ابن علية عن ليث عن عطاء قال: قلت له: إن أمي تقسم علي أن لا أصلي بعد المكتوبة شيئًا ولا أصوم (إلا) (١) فريضة شفقة علي، قال: (أبرر) (٢) قسمها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ میری والدہ نے مجھ پر شفقت کرتے ہوئے مجھے قسم دی ہے کہ میں فرض کے بعد کوئی نماز نہ پڑھوں اور فرض کے علاوہ کوئی روزہ نہ رکھوں، اب میرے لئے کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنی والدہ کی قسم کو پورا کرو۔
حدیث نمبر: 9968
٩٩٦٨ - حدثنا ابن مبارك عن عبد الرحمن بن يزيد قال: سألت (مكحولًا) (١) عن (رجل) (٢) أصبح صائمًا (ثم) (٣) عزمت عليه أمه أن يفطر كأنه كره ذلك وقال: يصوم يومًا مكانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مکحول سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی نے نفلی روزہ رکھا ہو اور اس کی ماں اسے روزہ توڑنے کو کہے تو وہ کیا کرے ؟ حضرت مکحول نے فرمایا کہ اس روزے کو توڑ دے اور اس کی جگہ ایک دن کی قضا کرے۔