کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور اس پر اعتکاف لازم ہو تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 9952
٩٩٥٢ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن ليث قال: سئل طاوس عن امرأة ماتت وعليها أن تعتكف سنة في المسجد الحرام، ولها أربعة بنون كلهم يحب أن يقضي عنها، قال طاوس: اعتكفوا أربعتكم في المسجد الحرام ثلاثة أشهر وصوموا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت طاوس سے ایک عورت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس کا انتقال ہوگیا ہے اس نے منت مانی تھی کہ وہ ایک سال مسجد حرام میں اعتکاف کرے گی۔ اس کے چار بچے ہیں جن میں سے ہر ایک اس کی جگہ اعتکاف میں بیٹھنے کو تیار ہے۔ حضرت طاوس نے فرمایا کہ ان چاروں کو تین ماہ کے لئے اعتکاف میں بٹھا دو اور وہ روزے بھی رکھیں۔
حدیث نمبر: 9953
٩٩٥٣ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم قال: لا يقضى عن الميت (اعتكاف) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ میت کے اعتکاف کی قضا نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 9954
٩٩٥٤ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حماد (بن) (١) سلمة (عن حجاج) (٢) عن (عبيد اللَّه) (٣) بن عبد اللَّه بن (عتبة) (٤) أن أمه نذرت أن تعتكف عشرة أيام فماتت ولم تعتكف، فقال ابن عباس: اعتكف عن أمك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ میر ی والد ہ نے نذرمانی تھی کہ وہ دس دن اعتکاف میں بیٹھیں گی، لیکن ان کا انتقال ہوگیا اور وہ اعتکاف میں نہ بیٹھ سکیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اپنی والدہ کی طرف سے اعتکاف کرو۔
حدیث نمبر: 9955
٩٩٥٥ - حدثنا أبو الأحوص عن إبراهيم بن المهاجر عن (عامر) (١) بن مصعب أن عائشة اعتكفت عن أخيها بعد ما مات (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن مصعب فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی کے انتقال کے بعد ان کی طرف سے اعتکاف کیا۔