کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ وہ چاند رات مسجد میں گذار کر اگلے دن عید گاہ جائے
حدیث نمبر: 9936
٩٩٣٦ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة (أنه) (١) (أُتي) (٢) يوم الفطر ⦗١٠٠⦘ في مسجد قومه واعتكف فيه بجويرية مُزيّنة فأقعدها في حجره ثم (أعنقها) (٣) وخرج إلى المصلى كما هو، المسجد.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ کے پاس عیدالفطر کے دن ان کی قوم کی مسجد میں جس میں انہوں نے اعتکاف کیا تھا، ایک بناؤ سنگھار والی بچی لائی گئی، انہوں نے اسے اپنی گود میں بٹھایا اور اس سے پیار کیا۔ پھر عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے۔
حدیث نمبر: 9937
٩٩٣٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن أبي معشر عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون للمعتكف أن يبيت ليلة الفطر في مسجده حتى [(يكون) (١) غدوه منه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف معتکف کے لئے اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ وہ عید الفطر کی رات اپنی مسجد میں گذارے اور صبح کو عید گاہ پہنچے۔
حدیث نمبر: 9938
٩٩٣٨ - حدثنا وكيع عن عمران عن أبي مجلز قال: بت ليلة الفطر في المسجد الذي اعتكفت فيه حتى (يكون) (١)] (٢) غدوك إلى مصلاك منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ عید الفطر کی رات اس مسجد میں گذارو جس میں تم نے اعتکاف کیا ہو، پھر صبح عیدگاہ کی طرف جاؤ۔