کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ایک مہینے میں کتنے دن ہوتے ہیں؟
حدیث نمبر: 9856
٩٨٥٦ - حدثنا محمد بن بشر عن (ابن) (١) (أبي) (٢) خالد قال: حدثني محمد بن ⦗٨٣⦘ سعد (عن سعد) (٣) بن أبي وقاص قال: ضرب النبي ﷺ بيده على الأخرى (ثم) (٤) قال: "الشهر هكذا، وهكذا"، ثم (نقص) (٥) في الثالثة أصبعًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ مہینہ اس طرح ہوتا ہے، مہینہ اس طرح ہوتا ہے۔ پھر تیسری مرتبہ ایک انگلی کم رکھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9856
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١٠٨٦) وأحمد (١٥٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9856، ترقيم محمد عوامة 9693)
حدیث نمبر: 9857
٩٨٥٧ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن سلمة بن كهيل عن رجل من بني سليم عن ابن عباس عن (عمر) (١) قال: اعتزل النبي ﷺ نساءه (شهرًا) (٢) فلما مضى تسع وعشرون أتاه جبريل فقال: إن الشهر قد تم وقد بررت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مہینہ تک اپنی ازواج سے دور رہے، جب انتیس دن گذر گئے تو حضرت جبریل آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ مہینہ گذر چکا ہے اور آپ نے قسم کو پورا کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9857
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9857، ترقيم محمد عوامة 9694)
حدیث نمبر: 9858
٩٨٥٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه (ﷺ): "كم مضى من الشهر؟ " قلنا: مضى اثنان وعشرون يومًا وبقيت ثمان فقال النبي (ﷺ) (١): " (بل) (٢) مضت إثنان وعشرون (يومًا) (٣) وبقيت (سبع) (٤) (التمسوها) (٥) الليلة"، (ثم) (٦) قال (٧) النبي ﷺ: "الشهر هكذا والشهر ⦗٨٤⦘ هكذا"، ثلاث مرات وأمسك واحدة (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مہینے کے کتنے دن گذر گئے ؟ ہم نے کہا کہ بائیس دن گذر گئے اور آٹھ باقی رہ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ بائیس دن گذر گئے اور سات دن باقی رہ گئے۔ الْتَمِسُوہَا اللَّیْلَۃَ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ یوں ہوتا ہے، مہینہ یوں ہوتا ہے۔ یہ بات تین مرتبہ فرمائی اور ایک مرتبہ رک گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9858
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٧٤٢٣) وابن ماجه (١٦٥٦) وابن خزيمة (٢١٧٩) وابن حبان (٢٥٤٨) والبيهقي ٤/ ٣١٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9858، ترقيم محمد عوامة 9695)
حدیث نمبر: 9859
٩٨٥٩ - حدثنا محمد (بن) (١) بشر عن ابن أبي ليلى عن (أبي) (٢) الزبير عن جابر قال: حلف النبي ﷺ أو أقسم شهرًا، فصعد (علية) (٣) فلما كان تسع وعشرون جاءه جبريل فقال: إنزل فقد تم الشهر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ تک اپنی ازواج کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی اور اونچے کمرے میں تشریف لے گئے۔ جب انتیس دن گذر گئے تو حضرت جبریل حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ایک مہینہ گذر گیا آپ نیچے تشریف لے آئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9859
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ ابن أبي ليلى ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9859، ترقيم محمد عوامة 9696)
حدیث نمبر: 9860
٩٨٦٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن الأسود بن قيس قال: سمعت (سعيد) (١) بن عمرو يحدث (أنه سمع ابن عمر يحدث) (٢) عن النبي ﷺ قال: " (إنا) (٣) أمة أمية لا نكتب ولا نحسب الشهر هكذا وهكذا (وهكذا) (٤) "، (وعقد) (٥) الإبهام في الثالثة: "والشهر هكذا وهكذا (وهكذا) (٦) "، يعني تمام الثلاثين (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہم ایک ان پڑھ امت ہیں، ہم نہ لکھتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں۔ مہینہ اتنا ہوتا ہے، اتنا ہوتا ہے، اتنا ہوتا ہے۔ آپ نے تیسری مرتبہ میں انگوٹھے سے گرہ بنائی۔ (یعنی انتیس تک گنوایا) پھر فرمایا کہ مہینہ اتنا ہوتا ہے اتنا ہوتا ہے اتنا ہوتا ہے۔ اس مرتبہ آپ نے پورے تیس تک گنوایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9860
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٩١٣) ومسلم (١٠٨٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9860، ترقيم محمد عوامة 9697)
حدیث نمبر: 9861
٩٨٦١ - حدثنا ابن نمير عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر أن ⦗٨٥⦘ النبي ﷺ قال: "الشهر هكذا وهكذا (وهكذا) (٢) "، ثم (نقص) (٣) إبهامه (يعني) (٤) تسعًا وعشرين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مہینہ اتنا ہوتا ہے، اتنا اور اتنا۔ تیسری مرتبہ آپ نے اپنے انگوٹھے کو شمار نہ کیا۔ یعنی انتیس تک گنوایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9861
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٩٠٦) ومسلم (١٠٨٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9861، ترقيم محمد عوامة 9698)
حدیث نمبر: 9862
٩٨٦٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حميد (عن) (١) أنس أن النبي ﷺ آلى من نسائه شهرًا، فقعد في مشربة له، ثم نزل في تسع وعشرين، فقالوا: يا رسول اللَّه (٢) إنك آليت شهرًا؟ فقال: "إن الشهر تسع وعشرون" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج سے ایک مہینے کا ایلاء کیا اور اپنے اونچے کمرے میں تشریف لے گئے۔ پھر آپ انتیس دن بعد نیچے تشریف لے آئے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے تو ایک مہینے کا ایلاء کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9862
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٣٧٨) ومسلم (٤١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9862، ترقيم محمد عوامة 9699)
حدیث نمبر: 9863
٩٨٦٣ - حدثنا عبيدة بن حميد عن الأسود بن قيس عن (سعيد) (١) بن عمرو أن عبد اللَّه بن (عمر) (٢) حدثهم أن النبي ﷺ قال: "إنا أمة أمية لا نكتب ولا نحسب الشهر (هكذا وهكذا) (٣) "، وضرب بيده ثلاثًا ثم نقص (٤) واحدة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہم ایک ان پڑھ امت ہیں، ہم نہ لکھتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں۔ مہینہ اتنا ہوتا ہے، اتنا ہوتا ہے، اتنا ہوتا ہے۔ آپ نے تیسری مرتبہ ہاتھ اٹھاتے ہوئے ایک انگلی کم کی۔ یعنی انتیس تک گنوایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9863
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٩١٣) ومسلم (١٠٨٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9863، ترقيم محمد عوامة 9700)
حدیث نمبر: 9864
٩٨٦٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن (١) محمد بن عمرو عن يحيى بن عبد الرحمن ⦗٨٦⦘ ابن حاطب عن ابن عمر قال: قال (رسول اللَّه) (٢) ﷺ: "الشهر تسع وعشرون"، ثم طبق بين كفيه مرتين و (طبق الثالثة وقبض الإبهام) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دو مرتبہ پورا پورا کھولا اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند رکھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سنی تو فرمایا کہ اللہ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے۔ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مہینے تک کے لئے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا تھا۔ آپ انتیس دن بعد تشریف لے آئے تو لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ نے تو ایک مہینے کا ایلاء کیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9864
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٤٨٦٦) وانظر ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9864، ترقيم محمد عوامة 9701)
حدیث نمبر: 9865
٩٨٦٥ - (١) فقالت: عائشة غفر اللَّه لأبي عبد الرحمن إنما هجر النبي ﷺ نساءه شهرًا فنزل لتسع وعشرين، فقالوا: يا رسول اللَّه! إنك آليت شهرًا؟ فقال: "إن الشهر يكون تسعًا وعشرين".
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9865
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9865، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 9866
٩٨٦٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (سفيان) (١) عن الركين عن حصين بن قبيصة [عن علي قال: شهر تسع وعشرون وشهر ثلاثون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوئی مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے اور کوئی تیس دن کا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9866
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حصين بن قبيصة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9866، ترقيم محمد عوامة 9702)
حدیث نمبر: 9867
٩٨٦٧ - حدثنا ابن نمير عن داود] (١) بن يزيد عن الشعبي عن سويد بن غفلة قال: سمعت عمر يقول: (المشهور) (٢) شهر ثلاثون وشهر تسع وعشرون (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے کہ کبھی مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی انتیس دن کا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9867
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف داود بن يزيد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9867، ترقيم محمد عوامة 9703)
حدیث نمبر: 9868
٩٨٦٨ - حدثنا ابن أبي عدي عن الجريري عن أبي مصعب عن أبي هريرة قال: رمضان تسع وعشرون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رمضان انتیس دن کا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9868
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو مصعب هلال بن يزيد المازني صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9868، ترقيم محمد عوامة 9704)
حدیث نمبر: 9869
٩٨٦٩ - حدثنا علي بن مسهر عن حميد عن الوليد بن (عتبة) (١) قال: صمنا رمضان في عهد علي على غير رؤية ثمانية وعشرين يومًا فلما كان يوم الفطر أمرنا أن نقضي يومًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن عتبہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چاند دیکھے بغیر رمضان میں اٹھائیس دن روزے رکھے۔ عید الفطر کے دن انہوں نے ہمیں ایک روزے کی قضا کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9869
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9869، ترقيم محمد عوامة 9705)
حدیث نمبر: 9870
٩٨٧٠ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) عن ابن أبي ليلى عن الشعبي قال: ما صمنا تسعًا وعشرين أكثر مما صمنا ثلاثين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ رمضان کے ہم نے کم از کم انتیس اور زیادہ سے زیادہ تیس روزے رکھے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9870
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9870، ترقيم محمد عوامة 9706)