کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: یومِ شک کے روزے کے بارے میں، کیا اس دن روزہ رکھا جاسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 9742
٩٧٤٢ - حدثنا حفص عن (مجالد) (١) عن عامر قال: كان علي وعمر ينهيان عن صوم (اليوم) (٢) الذي يشك فيه من رمضان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر اس دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا کرتے تھے جس کے بارے میں شک ہو کہ وہ رمضان کا دن ہے یا نہیں۔
حدیث نمبر: 9743
٩٧٤٣ - حدثنا وكيع عن أبي الضريس عن عبد الرحمن بن (عابس) (١) عن أبيه (قال) (٢): قال عبد اللَّه: لئن أفطر يومًا من رمضان ثم أقضيه أحب إليّ من أن أزيد فيه ما ليس (منه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں رمضان کا کوئی روزہ چھوڑ کر اسے بعد میں قضا کروں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں رمضان میں اس دن کا اضافہ کروں جو اس میں نہیں۔
حدیث نمبر: 9744
٩٧٤٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد العريز بن حكيم (١) قال سمعت ابن عمر (يقول) (٢): لو صمت السنة كلها لأفطرت اليوم الذي يشك فيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ اگر میں پورا سال بھی روزہ رکھوں تو اس دن روزہ نہیں رکھوں گا جس کے بارے میں مجھے شک ہو کہ یہ رمضان کا روزہ ہے یا نہیں۔
حدیث نمبر: 9745
٩٧٤٥ - حدثنا حفص وعلي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي قال: قال الضحاك بن قيس: لو صمت السنة كلها (ما) (١) صمت اليوم الذي يشك فيه [من رمضان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک بن قیس فرماتے ہیں کہ اگر میں پورا سال بھی روزہ رکھوں تو اس دن روزہ نہیں رکھوں گا جس کے بارے میں مجھے شک ہو کہ یہ رمضان کا روزہ ہے یا نہیں۔
حدیث نمبر: 9746
٩٧٤٦ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن الشيباني عن مولاة لسلمة (١) بنت حذيفة (عن بنت حذيفة) (٢) قالت: كان حذيفة ينهى عن صوم (اليوم) (٣) الذي يشك فيه] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بنت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ یوم شک کے روزے سے منع فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 9747
٩٧٤٧ - حدثنا وكيع عن مهدي بن ميمون عن ابن سيرين قال: أصبحنا يومًا بالبصرة ولسنا ندري على ما نحن فيه من صومنا في اليوم الذي يشك فيه، فأتينا أنس ابن مالك فإذا هو قد أخذ (حريرة) (١) كان يأخذها قبل أن (يغدو) (٢) ثم (غدا) (٣)، ثم أتيت أبا السوار (٤) (العتكي) (٥) فدعا (بغدائه) (٦) (ثم تغدى) (٧)، ثم أتيت مسلم ابن (يسار) (٨) فوجدته مفطرًا (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے اور ہمیں ٣٠ شعبان کے دن اس یوم شک کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا تھا کہ اس دن روزہ ہے یا نہیں ہے۔ چناچہ ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ خزیرہ نامی ایک کھانا جو دوپہر کے کھانے سے پہلے کھایا کرتے تھے وہ کھا رہے تھے۔ پھر وہاں موجود سب لوگوں نے کھانا کھایا۔ پھر میں ابو سوار عدوی کے پاس آیا انہوں نے بھی اپنا کھانا منگوا کرکھایا۔ پھر میں حضرت مسلم بن یسار کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ ان کا بھی روزہ نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 9748
٩٧٤٨ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم والشعبي أنهما قالا: لا تصم إلا مع جماعة الناس.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ لوگوں کی جماعت کے ساتھ ہی روزہ رکھو۔
حدیث نمبر: 9749
٩٧٤٩ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال: ما من يوم أصومه أبغض (إليَّ) (١) من يوم (يختلف) (٢) الناس فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جتنا مجھے اس دن روزہ رکھنا ناپسند ہے جس دن کے بارے میں شک ہو اتنا مجھے کسی اور دن میں روزہ رکھنا ناپسند نہیں۔
حدیث نمبر: 9750
٩٧٥٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن امرأة منهم يقال لها حفصة عن بنت أو أخت لحذيفة قالت: كان حذيفة ينهى عن صوم (اليوم) (١) الذي يشك فيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفصہ بنت حذیفہ رضی اللہ عنہ یا حضرت حفصہ اخت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ یوم شک میں روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 9751
٩٧٥١ - حدثنا وكيع عن (أبي) (١) العيزار قال: أتيت إبراهيم في اليوم الذي يشك فيه (فقال) (٢): لعلك صائم، لا تصم إلا مع الجماعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عیزارکہتے ہیں کہ میں یوم شک کو ابراہیم کے پاس گیا انہوں نے فرمایا کہ شاید تمہارا روزہ ہے۔ جماعت کے ساتھ روزہ رکھاکرو۔
حدیث نمبر: 9752
٩٧٥٢ - حدثنا وكيع عن داود بن قيس قال: قلت للقاسم: أتكره صوم آخر يوم (من) (١) شعبان الذي يلي رمضان؛ قال: لا، إلا أن (يغم) (٢) الهلال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داود بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے کہا کہ کیا آپ شعبان کے آخری دن جو رمضان کے ساتھ ملا ہو اس دن روزہ رکھنے کو ناپسند قرار دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، البتہ اگر چاند بادلوں میں چھپا ہو تو پھر ٹھیک نہیں۔
حدیث نمبر: 9753
٩٧٥٣ - حدثنا حفص عن عمرو عن الحسن قال: كان يصومه فيما بينه وبين نصف النهار لشهادة شاهد أو مجيء غائب، فإن جاء وإلا أفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حسن کسی گواہ یا آنے والے کے انتظار میں ٣٠ شعبان کو نصفِ نہار تک روزہ رکھتے اگر کوئی نہ آتا تو روزہ توڑ دیتے۔
حدیث نمبر: 9754
٩٧٥٤ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن أبي (المعلى) (١) عن سعيد بن جبير أنه كان يكره (أن) (٢) يصوم اليوم الذي يختلف فيه من رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر یوم شک میں روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 9755
٩٧٥٥ - حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العمي عن (منصور عن ربعي) (١) أن عمار ابن ياسر وناسًا معه أتوهم (بمسلوخة) (٢) مشوية في اليوم الذي يشك فيه أنه (من) (٣) رمضان أو ليس من رمضان، فاجتمعوا واعتزلهم رجل، فقال له عمار: تعال فكل، قال: فإني صائم، فقال له عمار: إن كنت تؤمن باللَّه و (اليوم) (٤) الآخر فتعال فكل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی فرماتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر اور ان کے ساتھ موجود لوگوں کے پاس یوم شک میں بھنا ہوا گوشت لایا گیا۔ سب لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے لیکن ایک آدمی الگ ہوکر بیٹھ گیا۔ حضرت عمار نے اس سے کہا کہ آؤ اور کھاؤ۔ اس نے کہا کہ میرا روزہ ہے۔ حضرت عمار نے اس سے فرمایا کہ اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو آکر کھاؤ۔
حدیث نمبر: 9756
٩٧٥٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سماك عن عكرمة قال: من صام (اليوم) (١) الذي يشك فيه فقد عصى رسول ﷺ (٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جس نے یوم شک میں روزہ رکھا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی۔
حدیث نمبر: 9757
٩٧٥٧ - حدثنا ابن فضيل عن بيان عن عامر قال: ما من يوم أبغض إليّ أن أصومه من اليوم الذي يشك فيه من رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ مجھے یوم شک سے زیادہ کسی دن روزہ رکھنا ناپسندیدہ نہیں۔
حدیث نمبر: 9758
٩٧٥٨ - حدثنا ابن فضيل عن مطرف [عن عامر في اليوم (الذي) (١) يقول الناس (فيه) (٢) (إنه) (٣) من رمضان فقال: لا تصومنّ إلا مع الإمام فإنما كانت أول الفرقة في مثل هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے یوم شک میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ صرف اس دن روزہ رکھو جس دن کے بارے میں سب لوگ کہیں کہ یہ رمضان کا دن ہے۔ کیونکہ اختلافات کی بنیاد ایسے مسائل سے پڑتی ہے۔
حدیث نمبر: 9759
٩٧٥٩ - حدثنا ابن فضيل عن العلاء بن المسيب (عن إبراهيم) (١) أنه قال: ما من يوم أبغض إليّ (٢) أن أصومه من اليوم الذي يشك فيه من رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مجھے یوم شک سے زیادہ کسی دن روزہ رکھنا ناپسندیدہ نہیں۔
حدیث نمبر: 9760
٩٧٦٠ - حدثنا يزيد بن هارون] (١) عن عاصم عن أبي عثمان قال: قال عمر: (ليتق) (٢) أحدكم أن يصوم يومًا من شعبان أو يفطر يومًا من رمضان، (قال) (٣) (فإن) (٤) (تقدم) (٥) قبل الناس (فليفطر) (٦) إذا أفطر الناس (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اس بات سے اجتناب کرو کہ تم شعبان کے کسی دن رمضان سمجھ کر روزہ رکھو اور رمضان کے کسی دن کا روزہ چھوڑ دو ۔ اگر لوگوں سے پہلے روزے شروع بھی کردیئے تو عید لوگوں کے ساتھ ہی مناؤ۔
حدیث نمبر: 9761
٩٧٦١ - حدثنا يزيد عن عاصم عن أبي عثمان أنه كان يصوم (اليوم) (١) الذي يشك فيه من رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان یوم شک کو روزہ رکھا کرتے تھے۔