کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات چاند کی رؤیت پر ایک آدمی کی گواہی کو بھی کافی سمجھتے تھے
حدیث نمبر: 9716
٩٧١٦ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة أن أعرابيا شهد عند النبي ﷺ على رؤية الهلال فقال: " (أتشهد) (١) أن لا اله الا اللَّه وأني رسول اللَّه" قال: نعم قال: "فأمر الناس أن يصوموا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے (رمضان کا) چاند دیکھنے کی گواہی دی۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 9717
٩٧١٧ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن عبد الأعلى عن ابن أبي ليلى أن عمر ابن الخطاب أجاز شهادة رجل في الهلال (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے چاند کے بارے میں ایک آدمی کی گواہی کو قبول فرمایا۔
حدیث نمبر: 9718
٩٧١٨ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد الملك بن ميسرة قال: شهدت المدينة في هلال صوم أو إفطار فلم يشهد على الهلال إلا رجل فأمرهم ابن ⦗٤٧⦘ عمر فقبلوا شهادته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن میسرہ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں رمضان یا شوال کا چاند دیکھا، چاند کے بارے میں صرف ایک آدمی نے گواہی دی تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی گواہی قبول کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 9719
٩٧١٩ - حدثنا حسين بن علي (عن) (١) زائدة عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: جاء (٢) أعرابي إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إني رأيت الهلال الليلة، قال: "تشهد أن لا إله الا اللَّه وأن محمدًا عبده ورسوله؟ "، قال: نعم. قال: "يا بلال ناد في الناس (فليصوموا) (٣) غدًا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے گذشتہ کل چاند دیکھا تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے بلال لوگوں میں اعلان کردو کہ کل روزہ رکھیں۔