کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کچھ لوگ گواہی دیں کہ انہوں نے گذشتہ کل چاند دیکھا تھا تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 9713
٩٧١٣ - حدثنا هشيم عن (أبي) (١) بشر عن أبي عمير (بن) (٢) أنس قال: حدثتني عمومتي من الأنصار قالوا: (أغمي) (٣) علينا هلال شوال فأصبحنا (صواما) (٤)، فجاء ركب آخر النهار فشهدوا عند رسول اللَّه ﷺ أنهم رأوا الهلال بالأمس، فأمر رسول اللَّه ﷺ الناس أن يفطروا ويخرجوا إلى عيدهم من الغد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمیر بن انس کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے ایک انصاری چچا نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ شوال کا چاند رات کو ہمیں نظر نہ آیا اور ہم نے اگلے دن روزہ رکھ لیا۔ دن کے آخری حصے میں کچھ گھڑ سوار آئے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے گواہی دی کہ ہم نے گذشتہ کل چاند دیکھ لیا تھا۔ آپ نے لوگوں کو روزہ توڑنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ آئندہ کل لوگ عید کی نماز کے لئے عید گاہ آئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9713
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٢٠٥٨٤)، وأبو داود (١١٥٧)، والنسائي ٣/ ١٨٠، وابن ماجه (١٦٥٣)، والدارقطني ٢/ ١٧٠، وابن حزم في المحلى ٥/ ٩٢، والبيهقي ٤/ ٢٥٠، والمزني (٢٤/ ١٤٢)، كما أخرجه ابن حبان (٣٤٥٦)، والبزار (٩٧٢/ كشف).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9713، ترقيم محمد عوامة 9554)
حدیث نمبر: 9714
٩٧١٤ - حدثنا ابن نمير عن أبي (يعفور) (١) عن أبيه قال: رئي هلال رمضان والمغيرة (بن شعبة) (٢) على الكوفة فلم يخرج حتى كان من الغد (٣)، فخرج فخطب الناس على بعير ثم انصرف (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یعفور کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کوفہ میں تھے۔ وہاں رمضان کا چاند نظر آیا۔ وہ اس دن عید کے لئے تشریف نہیں لائے۔ اگلے دن آئے اور لوگوں کو اونٹ پر خطبہ دیا اور واپس تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9714
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9714، ترقيم محمد عوامة 9555)
حدیث نمبر: 9715
٩٧١٥ - حدثنا حفص عن حجاج عن الزهري قال: شهد (أناس) (١) عند ابن عمر أنهم رأوا الهلال فقال: أخرجوا إلى عيدكم من الغد وقد مضى من النهار ما شاء اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس گواہی دی گئی کہ لوگوں نے عیدکا چاند دیکھ لیا ہے۔ اس وقت دن کا کافی حصہ گذر چکا تھا اس لئے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کل عید کی نماز پڑھی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9715
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9715، ترقيم محمد عوامة 9556)