کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی آدمی نے ماہِ رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرلیا تو کیا وہ کچھ کھا لے یا کھانے سے رکا رہے؟
حدیث نمبر: 9598
٩٥٩٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة أن النبي ﷺ قال: لرجل وقع على أهله في رمضان: "إن كان فجر ظهرك فلا يفجر (بطنك) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے جس نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرلیا تھا، فرمایا کہ اگر تیری کمر نے گناہ کیا ہے تو تیرے پیٹ کو گناہ نہیں کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 9599
٩٥٩٩ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج عن عطاء في الذي (يصيب) (٢) أهله يعني في شهر رمضان قال: إن شاء أكل وشرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس شخص کے بارے میں جو ماہ رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرلے فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو کھا پی لے۔
حدیث نمبر: 9600
٩٦٠٠ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج قال: قلت لعمرو بن دينار ⦗١٨⦘ أليس كذا يقال في الذي يصيب أهله في رمضان ليتم ذلك اليوم ويقضيه؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ اگر کسی شخص نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرلیا تو وہ اس دن کو بھی پورا کرے اور اس کی قضا بھی کرے، کیا یہ صحیح بات ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔
حدیث نمبر: 9601
٩٦٠١ - حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن قال: كان يقول: إذا غشي لا يبالي أكل أو لم يأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی سے جماع کیا تو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ کچھ کھائے یا نہ کھائے۔