حدیث نمبر: 9562
٩٥٦٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن يزيد (عن) (١) مقسم عن ابن عباس أن النبي ﷺ احتجم بين مكة (إلى) (٢) المدينة محرما صائمًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ سے مدینہ کے سفر کے دوران روزہ اور احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حدیث نمبر: 9563
٩٥٦٣ - حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس أن النبي ﷺ احتجم وهو صائم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حدیث نمبر: 9564
٩٥٦٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس أن النبي ﷺ احتجم صائمًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حدیث نمبر: 9565
٩٥٦٥ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن عكرمة أن النبي ﷺ احتجم (وهو صائم) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حدیث نمبر: 9566
٩٥٦٦ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن يحيى بن سعيد عن زيد بن الأسلم عن عطاء بن يسار (يرفعه) (١) قال: " (ثلاث) (٢) لا (يفطرن) (٣) الصائمَ الحجامةُ والقيءُ والاحتلامُ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں روزے کو نہیں توڑتیں : پچھنے لگوانا، قے کرنا اور احتلام ہوجانا۔
حدیث نمبر: 9567
٩٥٦٧ - حدثنا ابن إدريس عن الشيباني عن أبان بن صالح عن مسلم بن سعيد قال: سئل ابن مسعود عن الحجامة للصائم فقال: لا بأس بها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن سعید کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود سے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 9568
٩٥٦٨ - حدثنا ابن علية عن حميد قال: سئل أنس عن الحجامة للصائم (فقال) (١) (٢): (ما) (٣) كنا نحسب (يكره من ذلك) (٤) إلا جهده (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید کہتے ہیں کہ حضرت انس سے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ ہم پچھنے لگوانے میں مبالغہ کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 9569
٩٥٦٩ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي ظبيان عن (ابن) (١) عباس في الحجامة للصائم قال: الفطر مما دخل وليس مما يخرج (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ روزہ کسی چیز کے داخل ہونے سے ٹوٹتا ہے خارج ہونے سے نہیں۔
حدیث نمبر: 9570
٩٥٧٠ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع (أن) (١) ابن عمر كان يحتجم وهو ⦗١٢⦘ صائم ثم تركها بعد فكان يحتجم ليلًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلے روزے کی حالت میں پچھنے لگوایا کرتے تھے پھر آپ نے ایسا کرنا چھوڑ دیا پھر آپ رات کو پچھنے لگوایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 9571
٩٥٧١ - حدثنا وكيع عن (هشام) (١) بن (الغاز) (٢) عن نافع عن ابن عمر أنه كان يحتجم عند الليل وهو صائم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روزے کی حالت میں رات کے وقت پچھنے لگوایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 9572
٩٥٧٢ - حدثنا أبو خالد عن حميد [عن أبي المتوكل عن أبي سعيد قال: لا بأس بالحجامة للصائم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ روزہ دار کے پچھنے لگوانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 9573
٩٥٧٣ - حدثنا وكيع عن شعبة عن قتادة] (١) عن أبي المتوكل عن أبي سعيد (٢) أنه كره الحجامة للصائم من أجل الضعف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید نے کمزوری کے بہ سبب روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 9574
٩٥٧٤ - حدثنا يعلى بن عبيد عن يونس بن عبد اللَّه الجرمي عن دينار قال: حجمت زيد بن أرقم وهو صائم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت دینار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پچھنے لگوائے حالانکہ ان کا روزہ تھا۔
حدیث نمبر: 9575
٩٥٧٥ - حدثنا مروان بن معاوية عن أبي أسامة عن الشعبي قال: احتجم الحسين بن علي وهو صائم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت حسین بن عیر نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حدیث نمبر: 9576
٩٥٧٦ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن مجاهد وطاوس أنهما لم يكونا يريان بالحجامة للصائم بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضر ت طاوس روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 9577
٩٥٧٧ - حدثنا أبو الأحوص عن عبد الأعلى قال: رأيت أبا عبد الرحمن السلمي احتجم وهو صائم عند غروب الشمس نحوا مما يوافق شرطه فطره فقلت له: يا أبا عبد الرحمن (أما) (١) (تكره) (٢) (الحجامة للصائم) (٣) قال: إنما تكره له مخافة الضعف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الاعلیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد الرحمن سلمی کو دیکھا، انہوں نے غروب شمس سے پہلے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے۔ میں نے ان سے کہا کہ اے ابو عبدا لرحمن ! آپ تو روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانے کو مکروہ قرار دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ روزہ دار کے پچھنوں کو کمزور ی پیدا ہونے کے خوف سے مکروہ قرار دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 9578
٩٥٧٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن [عبد الرحمن بن (عابس) (١) عن] (٢) عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أصحاب محمد ﷺ قالوا: (إنما) (٣) نهى رسول اللَّه ﷺ عن الحجامة للصائم والوصال في (الصيام) (٤) إبقاء على أصحابه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کی آسانی کے لئے ان پر شفقت کرتے ہوئے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوانے اور صوم وصال رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 9579
٩٥٧٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن مسعر عن بزيع قال: سألت أبا وائل عن الحجامة للصائم فقال: إنما يكره ذلك للضعف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بزیع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو وائل سے روزہ کے دوران پچھنے لگوانے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی کراہت کمزوری کے اندیشے کی وجہ سے ہے۔
حدیث نمبر: 9580
٩٥٨٠ - حدثنا أبو أسامة عن (١) الأحوص بن حكيم عن أبي الزاهرية عن جبير ابن (نفير) (٢) أن معاذًا احتجم وهو صائم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حدیث نمبر: 9581
٩٥٨١ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد اللَّه بن عثمان عن عطاء وسعيد بن جبير قالا: لا بأس بالحجامة (للصائم) (١) ما لم يخف ضعفًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضر ت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار کو کمزوری کا خوف نہ ہو تو پچھنے لگوانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 9582
٩٥٨٢ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن يحيى بن سعيد عن القاسم و (سالم) (١) مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اور حضرت سالم سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 9583
٩٥٨٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب قال: سأل رجل عكرمة عن الحجامة للصائم فقال: لا بأس بها، إنما هي مثل كذا وكذا يخرج (منك) (١) ذكر الحاجة.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عکرمہ سے روزے کی حالت میں پچھنے لگوانے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، یہ تمہارے جسم سے نکلنے والے پاخانے کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 9584
٩٥٨٤ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى وأبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه أنه كان يحتجم وهو صائم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ روزے کی حالت میں پچھنے لگوایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 9585
٩٥٨٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان عن فرات (عن) (١) (قيس) (٢) مولى لأم سلمة أنه رأى أم سلمة تحتجم وهي صائمة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حدیث نمبر: 9586
٩٥٨٦ - حدثنا ابن إدريس عن يزيد وعبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر أنه كان يحتجم وهو صائم ثم (ترك) (١) (ذلك) (٢)، فلا أدري لأي شيء تركه؛ ⦗١٥⦘ كرهه أو للضعف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روزے کی حالت میں پچھنے لگوایا کرتے تھے، پھر انہوں نے ایسا کرنا چھوڑدیا۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے ایسا کرنا کیوں چھوڑا، کسی کراہت کی وجہ سے چھوڑا یا کمزوری کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 9587
٩٥٨٧ - [حدثنا وكيع عن شريك عن ليث عن (عبد الوهاب) (١) عن أنس قال: مر بنا أبو (طيبة) (٢) فقال: حجمت النبي ﷺ وهو صائم] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طیبہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں تھے اور میں نے آپ کے پچھنے لگائے۔
حدیث نمبر: 9588
٩٥٨٨ - حدثنا وكيع عن معمر عن أبي جعفر: إنما كره الحجامة للصائم مخافة الضعف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ روزہ دار کے کمزوری کے اندیشہ کے پیش نظر پچھنے لگوانے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے۔