حدیث نمبر: 9526
٩٥٢٦ - حدثنا عبد السلام عن ليث عن مجاهد أو عطاء قال: لا بأس أن يتطعم الصائم من القدر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد یا حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ روزہ دار ہانڈی میں سے کچھ چکھ لے۔
حدیث نمبر: 9527
٩٥٢٧ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عطاء عن ابن عباس قال: لا بأس أن يذوق الخل أو الشيء ما لم يدخل حلقه وهو صائم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ روزہ دا رکے لئے سرکہ وغیرہ چکھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ حلق میں نہ جائے۔
حدیث نمبر: 9528
٩٥٢٨ - حدثنا شريك عن سليمان عن عكرمة عن ابن عباس قال: لا بأس أن (يتطاعم) (١) الصائم (من) (٢) القدر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ روزہ دار ہانڈی میں سے کچھ چکھ لے۔
حدیث نمبر: 9529
٩٥٢٩ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه كان لا يرى بأسًا أن يتطاعم الصائم العسل (والسمن) (١) ونحوه (ثم) (٢) يمجه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ روزہ دار گھی یا شہد وغیرہ کو چکھ کر منہ سے باہر پھینک دے۔
حدیث نمبر: 9530
٩٥٣٠ - [حدثنا أبو بكر الحنفي عن الضحاك بن عثمان قال: رأيت عروة بن الزبير صائما أيام منى وهو يذوق عسلًا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک بن عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے منی کے دنوں میں حضرت عروہ بن زبیر کو دیکھا کہ وہ روزے کی حالت میں شہد چکھ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 9531
٩٥٣١ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم عن الصائم يلحس (الأنقاس) (١) قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے سوال کیا کہ کیا روزہ دار سیاہی چاٹ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 9532
٩٥٣٢ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن أبي إسحاق عن مسروق قال: أتيت عائشة أنا ورجل معي وذلك يوم عرفة فدعت لنا بشراب ثم قالت: لولا أني صائمة لذقته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ عرفہ کے دن میں ایک آدمی کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہمارے لئے پینے کی چیز منگوائی اور فرمایا کہ اگر میرا روزہ نہ ہوتا تو میں اسے چکھ لیتی۔