حدیث نمبر: 9516
٩٥١٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء قال: لا بأس (بالكحل) (١) للصائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ روزے کی حالت میں سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 9517
٩٥١٧ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: لا بأس بالكحل للصائم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ روزے کی حالت میں سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 9518
٩٥١٨ - (حدثنا حفص عن عمرو عن الحسن قال: لا بأس بالكحل للصائم) (١) ما لم يجد طعمه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ روزے کی حالت میں سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کا ذائقہ محسوس نہ ہو۔
حدیث نمبر: 9519
٩٥١٩ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر ومحمد بن علي وعطاء أنهم كانوا يكتحلون بالإثمد وهم صيام لا يرون (به) (١) بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر، حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عطاء روزے کی حالت میں اثمد سرمہ لگاتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 9520
٩٥٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن خالد عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ روزہ دار کے لئے سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 9521
٩٥٢١ - وعن ليث عن عطاء قال: لا بأس بالكحل للصائم.
حدیث نمبر: 9522
٩٥٢٢ - حدثنا أبو معاوية عن أبي معاذ عن عبيد اللَّه بن أبي (بكر) (١) عن أنس أنه كان يكتحل وهو صائم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس روزہ کی حالت میں سرمہ لگایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 9523
٩٥٢٣ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) عن حماد بن سلمة (و) (٢) أبي هلال وقتادة (أنهم) (٣) (كرهوا) (٤) الكحل (للصائم) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد بن سلمہ، حضرت ابو ہلال اور حضرت قتادہ نے روزے کی حالت میں سرمہ لگانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 9524
٩٥٢٤ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن (الحسن) (١) قال: كان لا يرى بأسًا أن يكتحل الرجل وهو صائم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ روزے کی حالت میں سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 9525
٩٥٢٥ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: لا بأس بالكحل للصائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ روزے کی حالت میں سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں۔