کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 9488
٩٤٨٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا (يصم) (١) أحدكم يوم الجمعة إلا أن يصوم قبله أو يصوم بعده" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ صرف اس صورت میں رکھے کہ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں بھی روزہ رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9488
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٩٨٥) ومسلم (١١٤٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9488، ترقيم محمد عوامة 9332)
حدیث نمبر: 9489
٩٤٨٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن عبد اللَّه بن عمرو قال: دخل رسول اللَّه ﷺ على جويرية بنت الحارث يوم الجمعة ⦗٥٤٨⦘ وهي صائمة قال: (فقال) (١): "صمت أمس؟ " قالت: لا. قال: "تريدين أن (تصومي) (٢) غدًا؟ " قالت: لا. قال: "فافطري إذن" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن حضرت جویریہ بنت حارث کے پاس تشریف لائے۔ ان کا روزہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا کل تمہارا روزہ تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ نے پوچھا کہ کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9489
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٦٧٧١) وابن حبان (٣٦١١) وابن خزيمة (٢١٦٢) والنسائي في الكبرى (٢٧٥٣) وعبد الرزاق (٧٨٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9489، ترقيم محمد عوامة 9333)
حدیث نمبر: 9490
٩٤٩٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن مرثد بن عبد اللَّه اليزني عن حذيفة الأزدي عن (جنادة) (١) الأزدي (قال) (٢): (دخلت) (٣) على رسول اللَّه ﷺ في سبعة نفر من الأزد (أنا ثامنهم) (٤) يوم الجمعة ونحن صيام، فدعانا رسول اللَّه ﷺ إلى طعام بين يديه فقلنا: إنا صيام. قال: "هل صمتم أمس؟ " قلنا: لا، قال: "فهل تصومون غدًا؟ " قلنا: لا، قال: "فافطروا". ثم خرج إلى الجمعة (فلما) (٥) جلس على المنبر دعا بإناء من ماء (فشربه) (٦) والناس ينظرون (إليه) (٧) ليعلمهم أنه لا يصوم (يوم) (٨) الجمعة (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جنادہ ازدی کہتے ہیں کہ قبیلہ ازد کے ہم آٹھ لوگ جمعہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم سب کا روزہ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا منگوا کر ہمارے سامنے رکھوایا توہم نے کہا کہ ہمارا روزہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا گذشتہ کل تم نے روزہ رکھا تھا ؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ آئندہ کل تم روزہ رکھو گے ؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ روزہ توڑ دو ۔ پھر آپ جمعہ کے لئے تشریف لے گئے۔ جب آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو آپ نے پانی منگوا کر پیا۔ لوگ آپ کو دیکھ رہے تھے۔ دراصل آپ انہیں بتانا چاہتے تھے کہ جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ نہیں رکھتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9490
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9490، ترقيم محمد عوامة 9334)
حدیث نمبر: 9491
٩٤٩١ - (حدثنا) (١) ابن (عيينة) (٢) عن عمران بن ظبيان عن حكيم بن سعد عن علي بن أبي طالب ﵁ ورحمه) (٣) قال: من كان منكم متطوعًا من الشهر أيامًا فليكن صومه يوم الخميس، ولا (يصم) (٤) يوم الجمعة، فإنه يوم طعام وشراب وذكر (أ) (٥) فيجمع اللَّه يومين صالحين يوم صيامه ويوم نسكه مع المسلمين (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ تم میں سے کسی نے اگر کسی مہینے میں نفلی روزہ رکھنا ہو تو وہ جمعرات کو روزہ رکھے، جمعہ کو روزہ نہ رکھے کیونکہ جمعہ کا دن کھانے، پینے اور ذکر کا دن ہے۔ جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے آدمی دو صالح دنوں کو جمع کردیتا ہے ایک روزہ کے دن کو اور دوسرا مسلمانوں کے ساتھ کھانے پینے کے دن کو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9491
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عمران بن ظبيان.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9491، ترقيم محمد عوامة 9335)
حدیث نمبر: 9492
٩٤٩٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن شعبة عن عبد العزيز بن رفيع عن قيس بن (سكن) (١) قال: مر ناس من أصحاب عبد اللَّه على أبي ذر يوم جمعة وهم صيام فقال: أقسمت عليكم لتفطرن فإنه يوم عيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن سکن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کے کچھ شاگرد جمعہ کے دن حضرت ابو ذر کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان سب کا روزہ تھا۔ حضرت ابو ذر نے ان سے فرمایا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم روزہ توڑ دو ، کیونکہ یہ جمعہ کا دن دراصل عید کا دن ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9492
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٧٨١١) ومسدد كما في المطالب (١١٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9492، ترقيم محمد عوامة 9336)
حدیث نمبر: 9493
٩٤٩٣ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: لا (تصم) (١) يوم الجمعة متعمدًا له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن کا خاص عزم کرکے اس دن روزہ نہ رکھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9493
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف الحارث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9493، ترقيم محمد عوامة 9337)
حدیث نمبر: 9494
٩٤٩٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن مجاهد عن أبي هريرة قال: لا ⦗٥٥٠⦘ (تصم) (١) يوم الجمعة إلا أن (تصوم) (٢) يومًا قبله أو بعده (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ صرف اس صورت میں رکھے کہ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں بھی روزہ رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9494
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه النسائي في الكبرى (٢٧٥٧) وورد مرفوعًا عند البخاري (١٨٨٤) ومسلم (١١٤٤)
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9494، ترقيم محمد عوامة 9338)
حدیث نمبر: 9495
٩٤٩٥ - حدثنا وكيع عن زكريا عن الشعبي أنه كره أن يصوم يوم الجمعة (يتعمده وحده) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی نے صرف جمعہ کے دن کو خاص کرتے ہوئے اس دن روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9495
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9495، ترقيم محمد عوامة 9339)
حدیث نمبر: 9496
٩٤٩٦ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم أنهم كرهوا صوم يوم الجمعة (ليتقووا) (١) به (على) (٢) الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے تاکہ جمعہ کی نمازبھر پور قوت کے ساتھ ادا کی جاسکے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9496
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9496، ترقيم محمد عوامة 9340)
حدیث نمبر: 9497
٩٤٩٧ - حدثنا شبابة بن سوار عن شعبة عن قتادة عن (أبي) (١) أيوب (العتكي) (٢) عن جويرية أن النبي ﷺ دخل عليها وهي صائمة يوم الجمعة فقال: "أصمت أمس؟ " قالت: لا، قال: " (أ) (٣) فتصومين غدًا؟ " قالت: (لا) (٤)، قال: "فأفطري" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب عتکی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن حضرت جویریہ بنت حارث کے پاس تشریف لائے۔ ان کا روزہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا کل تمہارا روزہ تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ نے پوچھا کہ کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9497
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٩٨٦) وأحمد (٢٦٧٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9497، ترقيم محمد عوامة 9341)
حدیث نمبر: 9498
٩٤٩٨ - حدثنا شريك عن عبد الملك بن عمير عن زباد (الحارثي) (١) عن أبي هريرة قال: قال له رجل: أنت الذي تنهى عن صوم يوم الجمعة قال: لا ورب هذه ⦗٥٥١⦘ (الحرمة) (٢) أو (رب) (٣) هذه (البنية) (٤) ما أنا نهيت عنه، محمد ﷺ (قاله) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد حارثی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے حضرت ابوہریرہ سے کہا کہ کیا آپ ہیں جو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ اس حرمت کے رب کی قسم یا اس عمارت یعنی خانہ کعبہ کے رب کی قسم ! میں نے اس سے منع نہیں کیا بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9498
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9498، ترقيم محمد عوامة 9342)