حدیث نمبر: 9353
٩٣٥٣ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن عبد اللَّه عن مجاهد عن عائشة قالت: ربما دعا رسول اللَّه ﷺ بغدائه فلا يجده فيفرض عليه (الصوم) (١) ذلك اليوم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت کھانا منگواتے، نہ ہوتا تو آپ اس دن روزہ رکھ لیتے۔
حدیث نمبر: 9354
٩٣٥٤ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء (عن أبي الدرداء) (١) أنه كان ربما دعا بالغداء فلا يجده فيفرض الصوم عليه ذلك اليوم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام دردائ فرماتی ہیں کہ کبھی حضرت ابو الدرداء صبح کے وقت کھانا منگواتے، نہ ہوتا تو آپ اس دن روزہ رکھ لیتے۔
حدیث نمبر: 9355
٩٣٥٥ - حدثنا الثقفي ويزيد عن حميد عن أنس أن أبا طلحة كان يأتي أهله فيقول: هل عندكم من غداء؟ فإن قالوا: لا، قال: فإني صائم، زاد الثقفي: (و) (١) إن كان عندهم أفطر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ اپنے گھر والوں سے پوچھتے کہ کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز ہے ؟ وہ جواب دیتے نہیں۔ تو آپ روزہ رکھ لیتے۔ ثقفی کی روایت میں اضافہ ہے کہ اگر ان کے پاس کچھ ہوتا تو روزہ نہ رکھتے۔
حدیث نمبر: 9356
٩٣٥٦ - حدثنا حماد بن خالد عن معاوية بن صالح عن العلاء بن الحارث عن معاذ أنه كان يأتي أهله بعد الزوال فيقول: عندكم (غداء) (١)، فيعتذرون إليه، ⦗٥٢١⦘ فيقول: إني صائم بقية يومي، فيقال له: تصوم آخر النهار؟ فيقول: من لم يصم آخره لم يصم أوله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ زوال کے بعد اپنے گھر والوں کے پاس آتے اور ان سے پوچھتے کہ کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے ؟ وہ معذرت کرتے تو حضرت معاذ فرماتے کہ باقی دن میرا روزہ ہے۔ ان سے کہا جاتا کہ آپ دن کے آخری حصہ میں روزہ رکھیں گے۔ وہ فرماتے کہ جس نے دن کے آخری حصہ میں روزہ نہیں رکھا اس نے اول حصہ میں روزہ نہیں رکھا۔
حدیث نمبر: 9357
٩٣٥٧ - حدثنا عبد الوهاب عن أيوب عن أبي قلابة عن أم الدرداء قالت: كان (أبو الدرداء) (١) يغدو أحيانًا فيجيء فيسأل الغداء، فربما لم يوافقه عندنا، فيقول: إني إذن صائم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام دردائ فرماتی ہیں کہ بعض اوقات حضرت ابو دردائ دوپہر کو کھانا طلب کرتے، اگر ہمارے پاس کھانا نہ ہوتا تو وہ روزہ رکھ لیتے۔
حدیث نمبر: 9358
٩٣٥٨ - حدثنا الفضل عن أبي (قحذم) (١) عن أبي قلابة عن أبي الأشعث قال: كان معاذ يأتي أهله بعد ما يضحي فيسألهم فيقول: عندكم شيء؟ فإذا قالوا: لا، صام ذلك اليوم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اشعث کہتے ہیں کہ حضرت معاذ چاشت کے بعد اپنے گھر والوں کے پاس آتے اور ان سے کھانا طلب کرتے، اگر کھانا نہ ہوتا تو وہ اس دن روزہ رکھ لیتے۔