کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص نفلی روزہ رکھ کر اسے توڑ دے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 9340
٩٣٤٠ - حدثنا عبد السلام عن خصيف عن سعيد بن جبير أن عائشة وحفصة أصبحتا صائمتين فأفطرتا فأمرهما النبي ﷺ بقضائه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ نے روزہ رکھا اور پھر توڑ دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس روزے کی قضا کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 9341
٩٣٤١ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن عثمان (البتي) (١) عن أنس بن سيرين أنه صام يوم عرفة فعطش عطشًا شديدًا فأفطر فسأل عدة من أصحاب النبي ﷺ فأمروه أن يقضي يومًا مكانه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بتی فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن سیرین نے یوم عرفہ کو روزہ رکھا، لیکن انہیں شدید پیاس لگی اور انہوں نے روزہ توڑ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے بہت سے صحابہ کرام سے اس بارے میں سوال کیا تو سب نے اس کے بدلے ایک دن کی قضاء کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 9342
٩٣٤٢ - حدثنا وكيع [عن مسعر عن حبيب عن عطاء عن ابن عباس قال: يقضي يومًا مكانه] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نفلی روزہ توڑنے کے بدلے ایک دن کی قضاء کرے گا۔
حدیث نمبر: 9343
٩٣٤٣ - حدثنا ابن مبارك عن عبد الرحمن بن يزيد (بن) (١) جابر قال: سألت مكحولًا عن رجل أصبح صائمًا عزمت عليه أمه أن يفطر، قال: كأنه كره ذلك، [وقال: يقضي يوما مكانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن یزید بن جابر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مکحول سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو روزہ رکھے اور پھر اسے توڑ دے۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک دن کی قضا کرے گا۔
حدیث نمبر: 9344
٩٣٤٤ - حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن قال: إذا تسحر الرجل فقد (وجب) (١) عليه الصوم] (٢) فإن أفطر فعليه القضاء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے سحری کھائی تو اس پر روزہ واجب ہوگیا، اگر اس نے روزہ توڑا تو اس پر قضاء لازم ہے۔
حدیث نمبر: 9345
٩٣٤٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد اللَّه بن مسلم عن عطاء ومجاهد أنهما كانا إذا زارا رجلا (أو) (١) دعيا إلى طعام وهما صائمان، (إن) (٢) سألهما أن يفطرا أفطرا (٣) كانا يقولان: (نقضي) (٤) يوما مكانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء اور حضرت مجاہد اگر کسی آدمی سے ملاقات کے لئے جاتے اور ان حضرات کا روزہ ہوتا۔ اس حالت میں انہیں کھانے کی دعوت دی جاتی تو یہ روزہ توڑ دیتے اور فرماتے کہ ہم اس کے بدلے ایک دن کی قضا کرلیں گے۔