کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے بارے میں روزہ دار کو اختیار ہے
حدیث نمبر: 9328
٩٣٢٨ - [حدثنا معتمر بن (سليمان) (١) عن ليث عن طاوس عن ابن عباس قال: الصائم بالخيار ما بينه وبين نصف النهار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نصفِ نہار تک روزہ دار کو اختیار ہے۔
حدیث نمبر: 9329
٩٣٢٩ - حدثنا أبو معاوية عن أبي مالك الأشجعي عن سعد بن (عبيدة) (١) عن ⦗٥١٥⦘ ابن عمر: الصائم بالخيار ما (بينه) (٢) وبين نصف النهار] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نصفِ نہار تک روزہ دار کو اختیار ہے۔
حدیث نمبر: 9330
٩٣٣٠ - حدثنا معتمر بن سليمان عن حميد عن أنس قال: من حدث نفسه بالصيام فهو بالخيار ما لم يتكلم حتى يمتد النهار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنے دل میں روزے کا ارادہ کیا اسے اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ بات نہ کرے۔ یہ اختیار دن کے اکثر حصے کے گذر جانے تک باقی رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 9331
٩٣٣١ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: إذا أصبحت وأنت تريد الصوم فأنت بالخيار إن شئت صمت وإن شئت أفطرت، إلا أن تفرض على نفسك الصوم من الليل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم روزے کے ارادے سے صبح کرو تو تمہیں اختیار ہے، اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔ البتہ اگر تم نے رات کو اپنے اوپر روزہ فرض کرلیا تو اب روزہ رکھنا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 9332
٩٣٣٢ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن عمارة عن أبي الأحوص قال: قال عبد اللَّه: أحدكم (بأحد) (١) النظرين ما لم يأكل أو يشرب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک تم کھا پی نہ لو اس وقت تک تمہیں اختیار ہے۔
حدیث نمبر: 9333
٩٣٣٣ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: قلت لإبراهيم: الرجل في صيام التطوع بالخيار ما بينه وبين نصف النهار. قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ کیا نفلی روزے کے بارے میں آدمی کو نصفِ نہار تک اختیار ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔
حدیث نمبر: 9334
٩٣٣٤ - حدثنا جرير عن ليث عن مجاهد قال: الصائم بالخيار ما بينه وبين نصف النهار، فإذا جاوز ذلك فإنما له (بقدر) (١) ما بقي من النهار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نصفِ نہار تک روزہ دار کو اختیار ہے۔ جب نصفِ نہار سے آگے گذر جائے تو اس کے لئے دن کا باقی ماندہ حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 9335
٩٣٣٥ - حدثنا معتمر عن يونس عن الحسن في الصوم: يتخير ما لم يصبح صائما فإذا أصبح صائما صام.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر آدمی روزے کی نیت سے صبح نہ کرے تو اسے روزے کے بارے میں اختیار ہے، اگر روزے کی حالت میں صبح کرے تو روزہ پورا کرے۔
حدیث نمبر: 9336
٩٣٣٦ - حدثنا ابن فضيل عن (أبي) (١) مالك عن (سعد) (٢) بن عبيدة عن ابن عمر قال: الرجل بالخيار ما لم يطعم إلى نصف النهار، فإن بدا له أن يطعم طعم، كان بدا له أن يجعله صوما كان (صائما) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تک آدمی کوئی چیز کھا نہ لے نصفِ نہار تک روزہ دار کو اختیار ہے۔ اگر اسے کھانے کا خیال ٹھہرے تو وہ کھانا کھالے اگر اس کے لئے روزہ رکھنے کا فیصلہ ٹھہرے تو روزہ رکھ لے۔
حدیث نمبر: 9337
٩٣٣٧ - حدثنا ابن فضيل عن الشيباني عن الشعبي في الرجل يريد الصوم قال: هو بالخيار إلى نصف النهار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نصفِ نہار تک روزہ دار کو اختیار ہے۔
حدیث نمبر: 9338
٩٣٣٨ - حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن قال: إذا تسحر الرجل فقد وجب عليه الصوم فإن أفطر فعليه القضاء، (وإن) (١) هم بالصوم فهو بالخيار (فإن) (٢) شاء صام وإن شاء أفطر، وإن مسألة إنسان فقال: أصائم أنت؟ فقال: نعم، فقد وجب عليه الصوم إلا أن يقول: إن شاء اللَّه؛ فإن قال فهو بالخيار إن شاء (صام) (٣) وإن شاء أفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے سحری کھالی تو اس پر روزہ واجب ہوگیا۔ اگر اس نے روزہ توڑ دیا تو اس پر قضاء واجب ہے۔ اگر اس نے روزے کا محض ارادہ کیا توا سے اختیار ہے۔ اگر چاہے توروزہ رکھے اور اگر چاہے تو روزہ نہ رکھے۔ اگر کسی نے اس سے سوال کیا کہ کیا تمہارا روزہ ہے ؟ اس نے جواب میں ہاں کہا تو اس پر روزہ واجب ہوگیا۔ البتہ اگر اس نے ان شاء اللہ کہا تو پھر روزہ واجب نہیں ہوا۔ اس صورت میں اسے اختیار ہے چاہے توروزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 9339
٩٣٣٩ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن سفيان عن الأعمش عن طلحة عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن أن حذيفة بدا له في الصوم بعد ما زالت الشمس فصام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو زوال شمس کے بعد روزہ رکھنے کا خیال آیا اور انہوں نے روزہ رکھ لیا۔