کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: فجر کی حقیقت
حدیث نمبر: 9317
٩٣١٧ - حدثنا ملازم بن عمرو عن عبد اللَّه بن النعمان عن قيس بن (طلق) (١) قال: (حدثني) (٢) أبي طلق بن علي أن رسول اللَّه ﷺ قال: "كلوا واشربوا ولا (يَهِيدنّكم) (٣) الساطع المصعد، كلوا واشربوا حتى يعترض لكم الأحمر". ⦗٥١٢⦘ وقال: هكذا بيده (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اس وقت تک کھاؤ اور پیو ، اوپر کو اٹھنے والی روشنی تمہیں پریشان نہ کرے، اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک سرخ روشنی عرض کی شکل میں ظاہر نہ ہوجائے۔ آپ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9317
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ قيس بن طلحة صدوق، أخرجه أحمد (١٦٢٩١) وأبو داود (٢٣٤٨) والترمذي (٧٠٥) وابن خزيمة (١٩٣٠) والطبراني (٨٢٥٧) والدارقطني ٢/ ١٦٦، والطحاوي ٢/ ٥٤، والضياء (١٦٨)، والمزي ١٦/ ٢٢٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9317، ترقيم محمد عوامة 9162)
حدیث نمبر: 9318
٩٣١٨ - حدثنا أبو اسامة عن أبي هلال قال حدثنا سوادة بن حنظلة الهلالي عن سمرة بن جندب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يمنعنكم أذان بلال من السحور ولا الصبح المستطيل ولكن الصبح المستطير في الأفق" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روک دے اور نہ ہی طول کی صورت میں پھیلنے والی صبح تمہیں سحری سے منع کرے۔ البتہ افق میں عرض کی صورت میں پھیلنے والی صبح کے بعد سحری سے رک جاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9318
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو هلال وسوادة صدوقان، أخرجه مسلم (١٠٩٤) وأحمد (٢٠١٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9318، ترقيم محمد عوامة 9163)
حدیث نمبر: 9319
٩٣١٩ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن (خاله) (١) عن ثوبان قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الفجر فجران فأما الذي كأنه (ذنب) (٢) السرحان فإنه لا يحل شيئا ولا يحرمه ولكن (المستطير) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فجر کی دو قسمیں ہیں، جو صبح بھیڑیئے کی دم کی طرح ہو وہ کسی چیز کو حلال و حرام نہیں کرتی، البتہ عرض کی صورت میں پھیلنے والی صبح کھانے پینے کو حرام کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9319
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9319، ترقيم محمد عوامة 9164)
حدیث نمبر: 9320
٩٣٢٠ - حدثنا وكيع عن ثابت (بن) (١) عمارة عن غنيم بن قيس عن أبي موسى ⦗٥١٣⦘ قال: ليس الفجر الذي هكذا يعني المستطيل ولكن الفجر الذي هكذا يعني المعترض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ لمبائی کی صورت میں پھیلنے والی روشنی صبح نہیں ہوتی بلکہ چوڑائی کی صورت میں پھیلنے والی روشنی صبح ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9320
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ثابت بن عمارة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9320، ترقيم محمد عوامة 9165)
حدیث نمبر: 9321
٩٣٢١ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حوشب بن عقيل عن جعفر (بن نهار) (١) قال: سألت القاسم أهو الساطع أم المعترض، قال: المعترض والساطع الصبح الكاذب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن نہار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے سوال کیا کہ فجر لمبائی کی صورت میں ہوتی ہے یا چوڑائی کی صورت میں ؟ انہوں نے فرمایا کہ فجر چوڑائی کی صورت میں ہوتی ہے، لمبائی کی صورت میں تو صبح کاذب ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9321
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9321، ترقيم محمد عوامة 9166)
حدیث نمبر: 9322
٩٣٢٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن عمران عن أبي مجلز قال: الساطع ذلك الصبح الكاذب ولكن إذا (انفضح) (١) الصبح في الأفق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ لمبی روشنی صبح نہیں ہوتی بلکہ افق سے اٹھنے والی روشنی صبح ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9322
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9322، ترقيم محمد عوامة 9167)
حدیث نمبر: 9323
٩٣٢٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم قال: لم يكونوا (يعدون) (١) الفجر فجركم، (إنما كانوا) (٢) يعدون الفجر الذي يملأ البيوت والطرق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ اسلاف تمہاری صبح کو فجر نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ اس روشنی کو فجر سمجھتے تھے جو راستوں اور گھروں کو روشن کردے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9323
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9323، ترقيم محمد عوامة 9168)
حدیث نمبر: 9324
٩٣٢٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن عدي بن ثابت قال: اختلفنا في الفجر فأتينا إبراهيم فقال: الفجر فجران: فأما أحدهما فالفجر الساطع (فلا يحل) (١) الصلاة ولا يحرم الطعام، وأما الفجر المعترض الأحمر فإنه يحل الصلاة ويحرم الطعام والشراب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن ثابت فرماتے ہیں کہ ہمارا فجر کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔ ہم ابراہیم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ فجر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک فجرِ ساطع یعنی لمبائی میں پھیلنے والی فجر ہے یہ فجر کی نماز کو حلال اور کھانے کو حرام نہیں کرتی۔ اور ایک سرخ چوڑائی میں پھیلنے والی فجر ہے یہ نماز کو حلال اور کھانے پینے کو حرام کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9324
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9324، ترقيم محمد عوامة 9169)
حدیث نمبر: 9325
٩٣٢٥ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر وعطاء قالا: الفجر المعترض الذي إلى جنبه حمرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ فجر چوڑائی میں پھیلتی ہے اور اس کے ساتھ روشنی ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9325
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9325، ترقيم محمد عوامة 9170)
حدیث نمبر: 9326
٩٣٢٦ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: سألت الزهري وميمونا فقلت: أريد الصوم فأرى عمود الصبح الساطع، فقالا جميعا: كل واشرب حتى تراه في أفق السماء معترضا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری اور حضرت میمون سے سوال کیا کہ میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، میں صبح کی روشنی کو ستون کی شکل میں دیکھتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم اس وقت تک کھا اور پی سکتے ہو جب تک آسمان کے افق میں چوڑائی کی صورت میں روشنی نظر نہ آنے لگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9326
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9326، ترقيم محمد عوامة 9171)
حدیث نمبر: 9327
٩٣٢٧ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن الشعبي عن عدي بن حاتم قال: لما نزلت: ﴿حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ﴾ [البقرة: ١٨٧]، قال: (قال) (١) عدي: يا رسول اللَّه إني أجعل تحت (وسادتي) (٢) عقالين: عقالًا أسود وعقالًا أبيض فأعرف الليل من النهار فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن وسادك لطويل (عريض) (٣) إنما هو سواد الليل وبياض النهار" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ جب قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی { حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَد } تو میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنے تکیے کے نیچے دو دھاگے رکھے۔ ایک کالا دھاگا اور ایک سفید دھاگا۔ میں رات اور دن کو الگ الگ پہچاننے کی کوشش کرتاہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا تکیہ بڑا لمبا چوڑا ہے، اس آیت میں مراد رات کی تاریکی اور دن کی سفیدی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9327
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٤٥٠٩) ومسلم (١٠٩٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9327، ترقيم محمد عوامة 9172)