کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کسی آدمی کو فجر کے بارے میں شک ہو کہ فجر طلوع ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 9305
٩٣٠٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم قال: جاء رجل إلى ابن عباس (يسأله) (١) عن السحور فقال له رجل من جلسائه: كل حتى لا تشك، فقال (له) (٢) ابن عباس: إن هذا لا يقول شيئا كل ما شككت حتى لا تشك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سحری کے بارے میں سوال کرنے کے لئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک صاحب مجلس نے ان سے کہا کہ اس وقت کھانا نہ کھاؤ جب تمہیں شک ہو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس نے کوئی بات نہیں کی، اس وقت تک کھاؤ جب تک تمہیں شک ہو یہاں تک کہ شک نہ رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9305
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9305، ترقيم محمد عوامة 9150)
حدیث نمبر: 9306
٩٣٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن الوليد قال: حدثنا عون بن عبد اللَّه قال: دخل رجلان على أبي بكر (١) [وهو يتسحر فقال أحدهما: قد طلع الفجر، وقال الآخر: لم (يطلع) (٢) بعد، قال أبو بكر: (كل) (٣) قد اختلفا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی حضرت ابوبکر کے پاس آئے اس وقت وہ سحری کھا رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ فجر طلوع ہوگئی ہے۔ دوسرے نے کہا کہ فجر ابھی تک طلوع نہیں ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ کھاؤ ، ان دونوں کا اختلاف ہوگیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9306
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9306، ترقيم محمد عوامة 9151)
حدیث نمبر: 9307
٩٣٠٧ - حدثنا وكيع عن عبد اللَّه بن الوليد عن عون بن عبد اللَّه عن أبي بكر] (١) بنحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر سے ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9307
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9307، ترقيم محمد عوامة 9152)
حدیث نمبر: 9308
٩٣٠٨ - حدثنا وكيع عن عمارة بن زاذان عن مكحول قال: رأيت ابن عمر أخذ دلوا من زمزم فقال (لرجلين) (١): أطلع الفجر فقال أحدهما: لا، وقال الآخر: نعم. قال: فشرب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے زمزم کے کنویں سے ایک ڈول پانی کالیا۔ انہوں نے دو آدمیوں سے کہا کہ کیا فجر طلوع ہوگئی ؟ ان میں سے ایک نے کہا نہیں، دوسرے نے کہا کہ ہاں۔ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پانی پی لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9308
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عمارة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9308، ترقيم محمد عوامة 9153)
حدیث نمبر: 9309
٩٣٠٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن علي بن الأقمر عن إبراهيم قال: كل حتى تراه معترضا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس وقت تک کھاؤ جب تک روشنی چوڑائی کی شکل میں ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9309
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9309، ترقيم محمد عوامة 9154)
حدیث نمبر: 9310
٩٣١٠ - حدثنا الثقفي عن خالد عن عكرمة قال: كل حتى تراه مثل شق الطيلسان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اس وقت تک کھاؤ جب تک افق پر چادر کی پھٹن جیسی صورت ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9310
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9310، ترقيم محمد عوامة 9155)
حدیث نمبر: 9311
٩٣١١ - حدثنا وكيع عن طلحة (عن عطاء) (١) عن ابن عباس قال لغلامين له وهو في دار أم هانئ في شهر رمضان وهو يتسحر فقال أحدهما: قد طلع (الفجر) (٢)، وقال الآخر: لم يطلع (فقال) (٣): اسقياني (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت ام ہانی کے گھر میں رمضان کے مہینے میں سحری کھا رہے تھے۔ آپ کے دو غلاموں میں سے ایک نے کہا کہ فجر طلوع ہوگئی ہے اور دوسرے نے کہا کہ فجر ابھی تک طلوع نہیں ہوئی۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے پانی پلاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9311
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدا؛ طلحة متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9311، ترقيم محمد عوامة 9156)
حدیث نمبر: 9312
٩٣١٢ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي (جعفر) (١) قال: كل حتى يتبين لك الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ کھاؤ یہاں تک کہ فجر ظاہر ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9312
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9312، ترقيم محمد عوامة 9157)
حدیث نمبر: 9313
٩٣١٣ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن يزيد بن زيد قال: سمعت الحسن وقال له رجل: أتسحر وأمتري (في) (١) الصبح، فقال: كل ما امتريت إنه واللَّه ليس بالصبح خفاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن زید نے کہا کہ حسن سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ جب مجھے صبح کے بارے میں شک ہو تو کیا میں سحری کھا سکتا ہوں ؟ حسن نے فرمایا کہ جب تک تمہیں شک ہو تو تم کھاتے رہو، خدا کی قسم ! صبح کے اندر کوئی خفاء نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9313
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9313، ترقيم محمد عوامة 9158)
حدیث نمبر: 9314
٩٣١٤ - حدثنا وكيع عن الفضل بن دلهم عن الحسن قال: قال عمر: إذا شك الرجلان في الفجر فليأكلا حتى يستيقنا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جب دو آدمیوں کو فجر کے بارے میں شک ہو تو اس وقت تک کھاؤ جب تک ان دونوں کو یقین نہ ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9314
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ الحسن لم يسمع من عمر، والفضل ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9314، ترقيم محمد عوامة 9159)
حدیث نمبر: 9315
٩٣١٥ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن مسلم بن صبيح قال: جاء رجل إلى ابن عباس فقال (له) (١): متى أدع السحور فقال رجل جالس عنده: كل حتى إذا شككت فدعه (فقال) (٢): كل ما (شككت) (٣) حتى لا تشك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن صبیح فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں سحری کھانا کب چھوڑوں ؟ ان کے پاس بیٹھے ایک آدمی نے کہا کہ جب تمہیں شک ہو تو اس وقت نہ کھاؤ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب تمہیں شک ہو اس وقت کھالو اور اس وقت تک کھاتے رہو جب تک شک نہ رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9315
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9315، ترقيم محمد عوامة 9160)
حدیث نمبر: 9316
٩٣١٦ - حدثنا أبو بكر حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: قال محمد: وضعت الإناء على يدي فجعلت أنظر هل طلع الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ میں نے برتن اپنے سامنے رکھا، پھر میں دیکھنے لگا کہ کیا فجر طلوع ہوگئی ہے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9316
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9316، ترقيم محمد عوامة 9161)