کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 9293
٩٢٩٣ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن (جبلة) (١) بن سحيم عن علي ⦗٥٠٦⦘ ابن حنظلة عن أبيه قال: شهدت عمر بن الخطاب في رمضان وقرب إليه شراب فشرب بعض القوم وهم يرون أن الشمس قد غربت، ثم ارتقى المؤذن فقال: يا أمير المؤمنين واللَّه للشمس طالعة لم تغرب، فقال عمر: منعنا اللَّه من شرك مرتين أو (ثلاثًا) (٢)، يا هؤلاء من كان أفطر فليصم يومًا مكان يوم، ومن (لم يكن) (٣) أفطر فليتم حتى (تغرب) (٤) الشمس (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان میں میں حضرت عمر کے ساتھ تھا۔ ان کے لئے پینے کی کوئی چیز پیش کی گئی۔ بعض لوگوں نے یہ خیال کرتے ہوئے اسے پی لیا کہ سورج غروب ہوچکا ہے۔ پھر مؤذن اوپر چڑھا اور اس نے اعلان کیا کہ اے امیر المؤمنین ! خدا کی قسم ابھی سورج غروب نہیں ہوا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ اللہ ہمیں تیرے شر سے بچائے۔ یہ بات دو یاتین مرتبہ فرمائی۔ پھر آپ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے آج وقت سے پہلے افطار کیا ہے وہ اس دن کے بدلے ایک روزہ رکھے، جس نے افطار نہیں کیا وہ غروب شمس کا انتظار کرے۔
حدیث نمبر: 9294
٩٢٩٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جبلة بن سحيم عن علي بن (حنظلة) (١) عن أبيه عن عمر بنحوه إلا أن سفيان قال: إنا لم (نبعثك) (٢) راعيًا إنما (بعثناك) (٣) داعيًا وقد اجتهدنا، (و) (٤) قضاء يوم يسير (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یہ واقعہ منقول ہے۔ البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ہم نے تمہیں نگہبان نہیں بنایا، ہم نے تمہیں دعوت دینے والا بنایا تھا۔ ہم نے کوشش کرلی تھی۔ بہرحال ایک دن کی قضاء آسان ہے۔
حدیث نمبر: 9295
٩٢٩٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زياد بن علاقة عمن سمع بشر بن قيس أن عمر ﵀ (١) أمرهم بالقضاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشر بن قیس کہتے ہیں کہ غروب شمس سے پہلے افطار کرنے کی صورت میں حضرت عمر نے لوگوں کو قضاء کرنے کا حکم دیا تھا۔
حدیث نمبر: 9296
٩٢٩٦ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء أنهم أفطروا على عهد رسول اللَّه ﷺ في يوم ثم طلعت الشمس قال أبو أسامة: فقلت ⦗٥٠٧⦘ لهشام: فأمروا بالقضاء قال: ومن ذلك بد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسمائ فرماتی ہیں کہ عہد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں لوگوں نے ایک مرتبہ غروب شمس سے پہلے ایک بادلوں کے دن میں روزہ افطار کرلیا تھا اور سورج بعد میں غروب ہوا تھا۔ ابو اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ہشام سے کہا کہ کیا انہیں قضاء کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کے سوا چارہ بھی کیا تھا ؟
حدیث نمبر: 9297
٩٢٩٧ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: يقضي لأن اللَّه تعالى يقول: (ثم) (١) أتموا الصيام إلى الليل).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ وقت سے پہلے افطار کرنے والا روزہ کی قضا کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ { أَتِمُّوا الصِّیَامَ إلَی اللَّیْلِ }
حدیث نمبر: 9298
٩٢٩٨ - حدثنا إسحاق بن منصور [(حدثنا) (١) منصور] (٢) بن أبي الأسود عن الأعمش عن المسيب عن زيد بن وهب عن عمر بنحو من حديث أبي معاوية الذي يأتي (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر کی آگے آنے والی حدیث ایک اور سند سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 9299
٩٢٩٩ - حدثنا معاذ بن معاذ عن أشعث قال: كان الحسن يقول فيمن أفطر وهو يرى أن الشمس قد غابت ثم استبان له أنها لم تغب، قال كان يقول: أجزأ (عنه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غروب شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کا روزہ ہوگیا۔
حدیث نمبر: 9300
٩٣٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب قال: أخرجت (عساس) (١) من بيت حفصة وعلى السماء سحاب فظنوا أن الشمس قد غابت فأفطروا فلم يلبثوا أن تجلى السحاب فإذا الشمس طالعة فقال عمر: (ما تجانفنا) (٢) من إثم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت حفصہ کے گھر سے کھانے کا ایک بڑا برتن لایا گیا تو لوگ سمجھے کہ سورج غروب ہوگیا۔ اس دن بادل تھے، اس پر لوگوں نے روزہ افطار کرلیا۔ کچھ دیر بعد بادل چھٹے تو چمکتا سورج نظر آنے لگا۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ ہم گناہ سے نہیں بچ سکے۔
حدیث نمبر: 9301
٩٣٠١ - حدثنا أبو داود عن حماد بن سلمة عن سعيد بن (قطن) (١) عن أبيه (قال) (٢): كان عند معاوية في رمضان فأفطروا، ثم طلعت الشمس فأمرهم أن يقضوا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قطن فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ کے زمانے میں لوگوں نے رمضان کا روزہ غروب شمس سے پہلے افطار کرلیا تو حضرت معاویہ نے انہیں قضا کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 9302
٩٣٠٢ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عطاء قال: قلت (أفطرت) (١) في يوم مغيم في شهر رمضان وأنا أحسبه الليل، ثم بدت الشمس أفأقضي ذلك اليوم (فقط) (٢) ولا أكفر؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے عرض کیا کہ میں نے بادلوں والے دن میں رمضان کا روزہ یہ سمجھتے ہوئے افطار کرلیا کہ سورج غروب ہوچکا ہے، پھر سورج ظاہر ہوگیا تو کیا میں اس روزے کی قضا کروں اور کفارہ نہ دوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ یونہی کرو۔
حدیث نمبر: 9303
٩٣٠٣ - حدثنا أبو أسامة (حدثنا) (١) زكريا عن أبي إسحاق قال: غزوت مع زياد بن النضر أرض الروم قال، فأهللنا رمضان فصام الناس وفيهم أصحاب عبد اللَّه عامر بن سعد وسميع وأبو عبد اللَّه (و) (٢) أبو معمر و (أبو مسافع) (٣)، فأفطر الناس يومًا والسماء (مغيمة) (٤) ونحن بين جبلين الحارث والحويرث ولم أفطر أنا حتى تبين الليل، ثم إن الشمس خرجت فأبصرناها (على) (٥) الجبل، فقال زياد: أما هذا اليوم فسوف نقضيه ولم (نتعمد) (٦) فطره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں سرزمین روم میں حضرت زیاد بن نضر کے ساتھ تھا۔ ہم نے رمضان کا چاند دیکھا تو لوگوں نے روزہ رکھا جن میں حضرت عبد اللہ، عامر بن سعد، سمیع، ابوعبد اللہ، ابو معمر اور ابو مسافع تھے۔ لوگوں نے ایک دن روزہ رکھا اس دن آسمان پر بادل تھے۔ ہم حارث اور حویرث نامی دو پہاڑوں کے درمیان تھے۔ میں نے اس وقت تک افطار نہ کیا جب تک رات ظاہر نہ ہوگئی۔ پھر سورج نکلا اور ہم نے پہاڑوں پر اسے دیکھا۔ تو زیاد نے کہا کہ ہم اس دن کی قضا کریں گے اور ہم نے اس روزے کا اعتبارنہ کیا۔
حدیث نمبر: 9304
٩٣٠٤ - حدثنا ابن عيينة عن زيد بن أسلم عن أخيه عن أبيه أفطر عمر في شهر رمضان فقيل له: قد طلعت الشمس فقال: خطب يسير قد كنا جاهدين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے رمضان کے مہینے میں روزہ افطار کیا تو ان سے کہا گیا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے ! حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ معمولی غلطی ہے، ہم نے تو پوری کوشش کی ہے لہٰذا ہم پر کوئی گناہ نہیں۔