کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر ایک آدمی رمضان کا روزہ رکھے اور پھر اسے سفر پیش آجائے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 9246
٩٢٤٦ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن ابن سيرين عن عبيدة قال: سألته (١) عن قوله تعالى: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ [البقرة: ١٨٥]، قال: من ⦗٤٩٥⦘ (شهد) (٢) أوله فليصم آخره، ألا (يرى) (٣) إلى قوله تعالى: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے قرآن مجید کی اس آیت { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ } کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جس نے اس مہینے کے شروع میں روزے رکھے وہ اس کے آخر میں بھی روزے رکھے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ }
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9246
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9246، ترقيم محمد عوامة 9092)
حدیث نمبر: 9247
٩٢٤٧ - حدثنا سهل بن يوسف عن (التيمي عن) (١) أبي مجلز قال: إذا دخل شهر رمضان فلا يخرج فإن (أبى) (٢) (إلا أن يخرج) (٣) فليتم صومه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ داخل ہوجائے تو آدمی سفر پر نہ نکلے، اگر نکلنا ضروری ہی ہو تو روزے پورے رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9247
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9247، ترقيم محمد عوامة 9093)
حدیث نمبر: 9248
٩٢٤٨ - حدثنا عبدة (عن سعيد) (١) عن قتادة عن علي ﵀ قال: إذا أدركه رمضان وهو مقيم ثم سافر فليصم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رمضان شروع ہونے کے بعد سفر اختیار کرے تو اسے روزے رکھنے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9248
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9248، ترقيم محمد عوامة 9094)
حدیث نمبر: 9249
٩٢٤٩ - حدثنا غندر عن شعبة (أخبرنا) (١) عمرو بن مرة قال: سمعت أبا (البختري) (٢) يحدث عن عبيدة أنه قال في الرجل يصوم من رمضان أياما ثم يخرج قال: يصوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رمضان کے کچھ روزے حالت حضر میں رکھتا رہا پھر اسے سفر پیش آگیا تو وہ روزے رکھے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر چاہے تو روزے رکھے اور اگر چاہے تو نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9249
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9249، ترقيم محمد عوامة 9095)
حدیث نمبر: 9250
٩٢٥٠ - وقال ابن (عباس) (١) إن شاء صام وإن شاء أفطر (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9250
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9250، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 9251
٩٢٥١ - حدثنا ابن علية عن الحجاج عن نافع عن ابن عمر أنه خرج في رمضان فأفطر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان میں ایک سفر پر نکلے اور انہوں نے روزے رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9251
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9251، ترقيم محمد عوامة 9096)
حدیث نمبر: 9252
٩٢٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن عاصم عن الحسن أنه قال: لا بأس بالسفر في رمضان ويفطر إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رمضان میں سفر کا آغاز کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور وہ چاہے تو روزہ چھوڑ بھی سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9252
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9252، ترقيم محمد عوامة 9097)
حدیث نمبر: 9253
٩٢٥٣ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن (عبيد اللَّه) (١) عن ابن عباس أن النبي ﷺ صام عام الفتح حتى بلغ الكديد ثم أفطر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے سال روزے رکھے اور مقام کدید پہنچنے کے بعد آپ نے روزے نہیں رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9253
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٩٥٣) ومسلم (١١١٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9253، ترقيم محمد عوامة 9098)
حدیث نمبر: 9254
٩٢٥٤ - حدثنا يزيد بن هارون (عن عاصم) (١) عن ابن سيرين قال: سألت عبيدة أسافر في رمضان؟ فقال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے سوال کیا کہ کیا میں رمضان میں روزے رکھوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9254
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9254، ترقيم محمد عوامة 9099)
حدیث نمبر: 9255
٩٢٥٥ - حدثنا (زيد) (١) بن الحباب عن سفيان عن يزيد بن أبي زياد عن علي ابن حسين أنه سئل عن قوم سافروا في رمضان قال: يصومون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین سے سوال کیا گیا کہ اگر کچھ لوگ رمضان میں سفر شروع کریں تو کیا وہ روزے رکھیں گے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، وہ روزے رکھیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9255
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9255، ترقيم محمد عوامة 9100)
حدیث نمبر: 9256
٩٢٥٦ - حدثنا ابن إدريس عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة في قوله تعالى: ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ (١) فِدْيَةٌ طَعَامُ (مِسْكِينٍ) (٢)﴾ [البقرة: ١٨٤]، قال: نسختها: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ [البقرة: ١٨٥].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت { وَعَلَی الَّذِینَ یُطِیقُونَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِینٍ } کو دوسری آیت { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمَ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ } نے منسوخ کردیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9256
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9256، ترقيم محمد عوامة 9101)
حدیث نمبر: 9257
٩٢٥٧ - [حدثنا عبد الوهاب (الثقفي) (١) عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: إنها قد نسخت هذه الآية: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ (٢) [البقرة: ١٨٥] الآية التي بعدها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آیت { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ } نے اپنے بعد والی آیت کو منسوخ کردیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9257
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9257، ترقيم محمد عوامة 9102)
حدیث نمبر: 9258
٩٢٥٨ - حدثنا عبد الوهاب عن أيوب (عن أبي يزيد) (١) عن أم (ذوة) (٢) قالت: أتيت عائشة فقالت: من أين جئت فقلت: من عند (أخي) (٣) فقالت: ما شأنه قلت: ودعته (يريد) (٤) أن يرتحل قالت: (فاقرئيه) (٥) مني السلام (ومريه) (٦) به فليقم فلو أدركني وأنا (ببعض) (٧) الطريق لأقمت يعني رمضان (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام ذرہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئی انہوں نے کہا کہ تم کہاں سے آرہی ہو ؟ میں نے کہا میں اپنے بھائی کے پاس سے آرہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا کیا حال ہے ؟ میں نے کہا میں اسے رخصت کرکے آئی ہوں وہ سفر پر جانا چاہتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اسے میری طرف سے سلام کہنا اور اس کو حکم دینا کہ ابھی مقیم رہے جب تک رمضان ہے۔ اگر وہ مجھے کہیں مل گیا تو میں اسے روکوں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9258
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أم ذرة صدوقة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9258، ترقيم محمد عوامة 9103)
حدیث نمبر: 9259
٩٢٥٩ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: خرج أبو ميسرة في رمضان مسافرًا فمر بالفرات وهو صائم فأخذ منه (حسوة) (١) فشربه وأفطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو میسرہ رمضان میں سفر کی غرض سے نکلے۔ وہ روزے کی حالت میں دریائے فرات کے پاس سے گذرے اور افطاری کے لئے اس میں سے ایک چلو پانی لے کر پانی پیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9259
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9259، ترقيم محمد عوامة 9104)
حدیث نمبر: 9260
٩٢٦٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن قالا: يفطر إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب اور حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رمضان میں سفر شروع کرے تو اگر وہ چاہے تو روزہ نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9260
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9260، ترقيم محمد عوامة 9105)