کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: افطار میں جلدی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 9187
٩١٨٧ - حدثنا عبدة بن سليمان ووكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن عاصم ابن عمر عن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا جاء الليل من ها هنا (وذهب النهار من ها هنا) (١) فقد أفطر الصائم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب رات اس طرف سے آجائے اور دن اس طرف کو چلا جائے تو روزہ دار افطار کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9187
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١١٠٠) وأحمد (١٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9187، ترقيم محمد عوامة 9034)
حدیث نمبر: 9188
٩١٨٨ - حدثنا عباد بن العوام عن الشيباني عن ابن أبي أوفى قال: كان رسول اللَّه ﷺ في سفر وهو صائم، فلما غابت الشمس قال: "يا فلان انزل فاجْدَحْ لنا"، قال: يا رسول اللَّه إن عليك نهارا. قال: " (١) انزل فاجْدَحْ لنا". قالها ثلاثًا فنزل فجدح فشرب رسول اللَّه ﷺ ثم قال: "إذا رأيتم الليل قد أقبل من هاهنا فقد أفطر الصائم". قلت: وأنت معه؟ قال: "نعم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوفیٰ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کا روزہ تھا۔ جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اے فلاں ! نیچے اترو اور ستو بناؤ۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! ابھی دن کا کچھ حصہ باقی ہے۔ آپ نے فرمایا نیچے اترو اور ستو بناؤ۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی تو وہ نیچے اترا اور اس نے ستو بنایا۔ آپ نے ستو کا شربت پیا اور فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ اس طرف سے رات آگئی ہے تو روزہ دار افطار کرلے۔ شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفی سے پوچھا کہ اس موقع پر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9188
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٩٥٥) ومسلم (١١٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9188، ترقيم محمد عوامة 9035)
حدیث نمبر: 9189
٩١٨٩ - حدثنا زياد بن الربيع وكان ثقة عن أبي (جمرة) (١) الضبعي أنه كان يفطر مع ابن عباس في رمضان، فكان إذا أمسى بعث (ربيبة له تصعد) (٢) ظهر الدار (فلما غربت) (٣) الشمس أذن، (فيأكل ونأكل) (٤)، فإذا (فرغ) (٥) أقيمت الصلاة، فيقوم يصلي (ونصلي) (٦) معه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جمرہ ضبعی کہتے ہیں کہ میں نے رمضان میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ افطاری کی ہے۔ جب شام ہونے لگتی تو وہ ایک بچی کو چھت پر بھیج دیتے۔ جب سورج غروب ہوتا تو وہ اعلان کردیتی، اس پر وہ کھانا کھاتے اور ہم بھی کھانا کھاتے۔ جب کھانے سے فارغ ہوتے تو نماز کھڑی ہوجاتی وہ نماز پڑھاتے اور ہم ان کے ساتھ نماز پڑھتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9189
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9189، ترقيم محمد عوامة 9036)
حدیث نمبر: 9190
٩١٩٠ - حدثنا محمد بن بشر (قال) (١): حدثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن (أبي هريرة) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يزال الدين ظاهرًا ما عجل الناس الفطر، إن اليهود والنصارى يؤخرون" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کریں گے۔ یہود و نصاریٰ افطار میں تاخیر کیا کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9190
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٩٨١٠)، وأبو داود (٢٣٥٣)، وابن ماجه (١٦٩٨)، والترمذي (٧٠١)، والنسائي في الكبرى (٣٢١٣)، وابن خزيمة (٢٠٦٠)، وابن حبان (٣٥٠٣)، والحا كم (١/ ٤٣١)، والبيهقي (٤/ ٢٣٧)، والبغوي (١٧٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9190، ترقيم محمد عوامة 9037)
حدیث نمبر: 9191
٩١٩١ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حرملة عن ابن المسيب أنه سمعه (١) يقول (٢): قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يزال الناس بخير ما عجلوا إفطارهم ولم يؤخروه تأخير أهل المشرق" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے اور اہل مشرق کی طرح اس میں تاخیر نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9191
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، أخرجه البيهقي في الشعب (٣٩١٤) وورد متصلًا كما في الذي قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9191، ترقيم محمد عوامة 9038)
حدیث نمبر: 9192
٩١٩٢ - حدثنا أبو الأحوص (عن) (١) طارق عن سعيد بن المسيب قال: كان عمر يكتب إلى (أُمرائه) (٢): (لا) (٣) (تكونوا) (٤) من (المسوفين) (٥) (بفطركم) (٦) ولا تنتظروا بصلاتكم اشتباك النجوم (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اپنے گورنروں کو یہ خط لکھا کرتے تھے کہ افطار میں تاخیرنہ کرو اور نماز پڑھنے کے لئے ستاروں کے ظاہر ہونے کا انتظار نہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9192
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9192، ترقيم محمد عوامة 9039)
حدیث نمبر: 9193
٩١٩٣ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن سماك) (١) عن ثروان بن (ملحان) (٢) التيمي قال: قال رجل لعمار (بن ياسر) (٣): إن أبا موسى (قال) (٤): لا (تفطروا) (٥) (حين) (٦) (تبدو) (٧) الكواكب (قال) (٨): فإن ذلك فعل اليهود (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ستارے ظاہر ہونے پر افطاری نہ کرو کیونکہ اس طرح تو یہود کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9193
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9193، ترقيم محمد عوامة 9040)
حدیث نمبر: 9194
٩١٩٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: أتي عبد اللَّه بجفنة فقال للقوم: ادنوا فكلوا، فاعتزل رجل منهم فقال له عبد اللَّه: ما ⦗٤٨٣⦘ لك؟ قال: إني صائم، (فقال) (١) عبد اللَّه: (هذا) (٢) والذي لا إله غيره حين (حل) (٣) الطعام لآكل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کے پاس کھانے کا ایک برتن لایا گیا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ آؤ اور کھاؤ۔ سب لوگ آگئے ایک آدمی پیچھے رہا۔ حضرت عبد اللہ نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا میرا روزہ ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ وہ وقت ہے جس میں روزہ دار کے لئے کھاناحلال ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9194
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9194، ترقيم محمد عوامة 9041)
حدیث نمبر: 9195
٩١٩٥ - حدثنا وكيع عن عبد الواحد بن (أيمن) (١) عن أبيه عن أبي سعيد قال: دخلت عليه (فأفطر) (٢) على عرق و (أنا) (٣) أرى الشمس لم تغرب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید کی خدمت میں حاضر ہوا ، جب انہوں نے افطار کیا تو مجھے محسوس ہورہا تھا کہ ابھی تک سورج غروب نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9195
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9195، ترقيم محمد عوامة 9042)
حدیث نمبر: 9196
٩١٩٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد قال: إن كانت لآتي ابن عمر (بفطره) (١) (فأغطيه) (٢) استحياء من الناس أن يروه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے افطار کے وقت آیا کرتا تھا۔ میں ان پر اس حیاء کی وجہ سے پردہ کردیتا تھا کہ کہیں لوگ انہیں دیکھ نہ لیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9196
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9196، ترقيم محمد عوامة 9043)
حدیث نمبر: 9197
٩١٩٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن الهجري عن رجل من بني سوارة قال: انطلقت إلى حذيفة فنزلت معه، فكان إذا غابت الشمس نزل حذيفة وأصحابه لم يلبث إلا قليلا حتى يفطر (١).
مولانا محمد اویس سرور
بنو سوادہ کے ایک آدمی فرماتے ہیں کہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرا، جب سورج غروب ہوگیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی سورج غروب ہونے کے فورا بعد افطار کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9197
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9197، ترقيم محمد عوامة 9044)
حدیث نمبر: 9198
٩١٩٨ - حدثنا وكيع عن مسلم بن يزيد عن أبيه قال: كان علي بن أبي طالب يقول لابن (النباح) (١): غربت الشمس فيقول: لا تعجل فيقول: غربت الشمس، ⦗٤٨٤⦘ (فيقول: لا تعجل، فيقول: غربت الشمس) (٢)، فإذا قال: نعم، أفطر ثم نزل فصلى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب ابن نباح سے فرمایا کرتے تھے کہ کیا سورج غروب ہوگیا ؟ وہ عرض کرتے جلدی نہ کیجئے۔ وہ پھر پوچھتے کہ کیا سورج غروب ہوگیا ؟ اور وہ کہتے جلدی نہ کیجئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ پھر پوچھتے کہ کیا سورج غروب ہوگیا ؟ جب ابن نباح نے کہا کہ سورج غروب ہوگیا تو انہوں نے روزہ افطار کیا پھر اتر کر نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9198
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9198، ترقيم محمد عوامة 9045)
حدیث نمبر: 9199
٩١٩٩ - حدثنا عمر بن (سعد) (١) عن سفيان عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " لا (تزال) (٢) هذه الأمة بخير ما عجلوا الإفطار" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9199
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عمر هو أبو داود الحفري، أخرجه البخاري (١٩٥٧) ومسلم (١٠٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9199، ترقيم محمد عوامة 9046)
حدیث نمبر: 9200
٩٢٠٠ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حرملة عن سعيد بن المسيب قال: إذا رأيت (أن) (١) العصر قد (فاتك) (٢) فاشرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جب تم دیکھو کہ عصر کی نماز کا وقت نکل گیا تو روزہ افطار کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9200
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9200، ترقيم محمد عوامة 9047)
حدیث نمبر: 9201
٩٢٠١ - حدثنا وكيع عن أبي (العنبس) (١) عمرو بن مروان قال: سمعت إبراهيم يقول: إن من السنة تعجيل الإفطار.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ افطار میں جلدی کرنا سنت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9201
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9201، ترقيم محمد عوامة 9048)
حدیث نمبر: 9202
٩٢٠٢ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن موسى بن أنس أن أنسًا كان يُصْعِد الجارية فوق البيت فيقول: إذا استوى الأفق فأذنيني (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس ایک باندی کو گھر کے اوپر چڑھاتے اور اس سے فرماتے کہ جب افق برابر ہوجائے تو مجھے بتادینا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9202
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9202، ترقيم محمد عوامة 9049)
حدیث نمبر: 9203
٩٢٠٣ - حدثنا أبو معاوية (عن الأعمش) (١) عن مجاهد عن (مورق) (٢) ⦗٤٨٥⦘ العجلي عن أبي الدرداء قال: (ثلاث) (٣) من أخلاق النبيين: التبكير في الإفطار، والإبلاغ في السحور، ووضع اليمين على الشمال في الصلاة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ تین چیزیں نبیوں کی عادات میں سے ہیں : افطار میں جلدی کرنا، سحری میں تاخیرکرنا، نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9203
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9203، ترقيم محمد عوامة 9050)
حدیث نمبر: 9204
٩٢٠٤ - حدثنا ابن فضيل عن بيان عن قيس قال: ناول عمر رجلا إناء إلى جنبه حين غربت الشمس فقال له: اشرب ثم قال: لعلك من (المسوفين) (١) بفطره (سوف سوف) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک آدمی کے پاس پانی رکھا اور جب سورج غروب ہوگیا تو فرمایا کہ اسے پی لو۔ پھر فرمایا کہ اس طرح تم افطاری میں جلدی کرنے والے بن جاؤ گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9204
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9204، ترقيم محمد عوامة 9051)