حدیث نمبر: 9168
٩١٦٨ - حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن بلالًا يؤذن بليل فكلوا واشربوا حتى يؤذن ابن أم مكتوم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بلال رات کو اذان دے دیتے ہیں تم ان کی اذان کے بعد کھاتے پیتے رہا کرو۔ جب ابن ام مکتوم اذان دیں تو اس وقت کھانا پینا بند کرو۔
حدیث نمبر: 9169
٩١٦٩ - حدثنا معتمر بن سليمان عن التيمي عن أبي عثمان عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يمنعنَّ أحدكم أذان بلال من سحوره فإنه ينادي أو يؤذن بليل (فينبه) (١) نائمكم ويرجع قائمكم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روک دے۔ کیونکہ وہ تو رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں تاکہ سویا ہوا جاگ جائے اور رات کا قیام کرنے والا واپس چلا جائے۔
حدیث نمبر: 9170
٩١٧٠ - حدثنا أبو أسامة عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت بلال رات کو اذان دے دیا کرتے تھے۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں اس وقت تک کھاتے پیتے رہو۔
حدیث نمبر: 9171
٩١٧١ - (و) (١) عن القاسم بن محمد عن عائشة أن بلالا كان يؤذن بليل فقال ⦗٤٧٦⦘ رسول اللَّه ﷺ: "كلوا واشوبوا حتى يؤذن ابن أم مكتوم" (٢).
حدیث نمبر: 9172
٩١٧٢ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: ثنا سعيد عن قتادة عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا (يمنعنكم) (٢) أذان بلال من سحوركم فإن في (بصره) (٣) (شيئا) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری سے نہ روک دے کیونکہ ان کی بینائی کمزور ہے۔
حدیث نمبر: 9173
٩١٧٣ - حدثنا أبو أسامة عن أبي هلال قال: ثنا سوادة بن حنظلة الهلالي عن سمرة بن جندب (قال) (١): قال رسول اللَّه ﷺ: "لا (يمنعنكم) (٢) من السحور أذان بلال ولا الصبح المستطيل ولكن الصبح المستطير في الأفق" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بلال کی اذان اور طول کی صورت میں پھیلنے والی صبح تمہیں سحری سے نہ روکے، البتہ جب صبح افق سے چوڑائی میں ظاہر ہو تو کھانا پینا چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 9174
٩١٧٤ - حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن أنس عن زيد بن ثابت قال: تسحرنا مع رسول اللَّه ﷺ ثم قمنا إلى الصلاة قلنا: كم كان بينهما؟ قال: "قراءة خمسين آية" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر ہم نماز کے لئے اٹھے۔ ان سے پوچھا گیا سحری اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ تقریباً پچاس آیات پڑھنے کے برابر۔
حدیث نمبر: 9175
٩١٧٥ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن هلال بن (يساف) (١) عن ⦗٤٧٧⦘ سالم بن عبيد الأشجعي قال: كنت مع أبي بكر فقال: قم فاسترني من الفجر ثم أكل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبید اشجعی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکر کے ساتھ تھا۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ صبح کا خیال رکھنا ۔ پھر انہوں نے سحری کا کھانا تناول فرمایا۔
حدیث نمبر: 9176
٩١٧٦ - حدثنا جرير عن منصور عن شبيب (بن) (١) (غرقدة) (٢) عن أبي (عقيل) (٣) قال: تسحرت مع علي ثم أمر المؤذن أن يقيم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عقیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی ، سحری کھانے کے بعد انہوں نے اپنے مؤذن کو اذان کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 9177
٩١٧٧ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني [عن (جبلة) (١) بن سحيم عن عامر بن مطر قال: أتيت عبد اللَّه في داره فأخرج لنا فضل سحوره فتسحرنا معه، فأقيمت الصلاة، فخرجنا، فصلينا معه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن مطر کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ کے گھر آیا، انہوں نے ہمارے لئے اپنی سحری کا بچا ہواکھانا رکھا۔ ہم نے ان کے ساتھ سحری کی، پھر نماز کھڑی ہوگئی اور ہم نے جاکران کے ساتھ نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 9178
٩١٧٨ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق] (١) عن عمرو -يعني ابن (حريث) (٢) - قال: كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ أعجل الناس إفطارًا وابطأهم سحورًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن حریث کہتے ہیں کہ صحابہ کرام افطاری میں جلدی کرنے والے اور سحری میں تاخیر کرنے والے تھے۔
حدیث نمبر: 9179
٩١٧٩ - حدثنا ابن نمير عن أبي يعفور قال: سمعت أبا الشعثاء جابر بن زيد ⦗٤٧٨⦘ يقول: كانوا يتسحرون حين. . . . . (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ اسلاف آخری وقت میں سحری کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 9180
٩١٨٠ - حدثنا وكيع عن عمرو بن (مروان) (١) أبي (العنبس) (٢) قال: سمعت إبراهيم يقول: من السنة تأخير السحور (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سحری کو مؤخر کرنا سنت ہے۔
حدیث نمبر: 9181
٩١٨١ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا الوليد بن (جميع) (١) قال: ثنا أبو الطفيل أنه تسحر (في) (٢) أهله في الجبانة ثم جاء إلى حذيفة وهو في دار الحارث بن أبي ربيعة فوجده فحلب له ناقة فناوله فقال: إني أريد الصوم، فقال: وأنا أريد الصوم، فشرب حذيفة وأخذ بيده فدفع إلى المسجد حين أقيمت الصلاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ میں نے جبانہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سحری کی، پھر میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ حارث بن ابی ربیعہ کے گھر تھے۔ اس وقت حارث بن ابی ربیعہ نے اپنی اونٹنی کا دودھ دوہا اور اسے پی لیا اور کہا کہ میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ پس حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بھی دودھ پیا۔ پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حارث کا ہاتھ پکڑا اور انہیں مسجدلے گئے جہاں نماز کھڑی ہوگئی تھی۔
حدیث نمبر: 9182
٩١٨٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن التيمي عن ابن سيرين قال: يكون بين سحور الرجل وبين إقامة المؤذن قدر ما (يقرأ) (١) سورة يوسف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ آدمی کی سحری اور مؤذن کی اقامت کے درمیان اتنا فاصلہ ہونا چاہئے جتنی دیر میں سورة یوسف کی تلاوت کی جاسکے۔
حدیث نمبر: 9183
٩١٨٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال: خرجت مع حذيفة إلى المدائن في رمضان، فلما طلع الفجر قال: هل كان أحد منكم ⦗٤٧٩⦘ (آكلا) (١) (أو) (٢) شاربًا؟ قلنا: (أما) (٣) رجل (يريد) (٤) الصوم فلا، (ثم) (٥) سرنا حتى استبطأناه في الصلاة (ثم نزل) (٦) فصلى (٧).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی کے والد کہتے ہیں کہ میں رمضان میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر پر نکلا، جب فجر طلوع ہوئی تو انہوں نے کہا کہ کیا تم میں سے کسی نے کچھ کھایا یاپیا ہے ؟ ہم نے کہا کہ جو لوگ روزہ کا ارادہ رکھتے ہیں انہوں نے کچھ نہیں کھایا پیا۔ پھر ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں نماز کا کہا اور وہ سواری سے اترے اور نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 9184
٩١٨٤ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: من أخلاق الأنبياء تأخير السحور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ سحری کو مؤخر کرنا انبیاء کے اخلاق میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 9185
٩١٨٥ - حدثنا ابن فضيل عن ابن أبي خالد عن الشعبي قال: كان حذيفة يعجل بعض سحوره ليدرك الصلاة مع رسول اللَّه ﷺ، فبلغ ذلك النبي ﷺ، (فكان يرسل إليه) (١) فيأكل معه حتى يخرجا إلى الصلاة جميعا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جماعت کی نماز میں شریک ہونے کے لئے جلدی سحری کھالیتے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ کسی کو بھیج کر انہیں بلا لیا کرتے تھے اور ان کے ساتھ سحری کھاتے تھے، پھر دونوں حضرات اکٹھے جماعت کے لئے جاتے تھے۔
حدیث نمبر: 9186
٩١٨٦ - حدثنا عفان (قال) (١) حدثنا شعبة عن (خبيب) (٢) بن عبد الرحمن قال: سمعت (عمتي) (٣) تقول: وكانت حجت مع النبي ﷺ قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن ابن أم مكتوم ينادي بليل فكلوا واشربوا حتى ينادي بلال وإن بلالا ⦗٤٨٠⦘ يؤذن بليل فكلوا واشربوا حتى ينادي ابن أم مكتوم". (قالت) (٤): وكان يصعد هذا وينزل هذا، فكنا نتعلق به فنقول: كما أنت حتى نتسحر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خبیب بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی ایک پھوپھی جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا تھا سے فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابن ام مکتوم رات کو اذان دے تو تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ بلال اذان دے دے۔ اگر بلال رات کو اذان دے دے تو تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے دے۔ وہ فرماتی ہیں کہ ان دونوں مؤذنین میں سے ایک منارے پر چڑھتا تھا اور دوسرا اترتا تھا۔ ہم ان سے کہتے تھے کہ تم جو بھی کرو ہم سحری کھائیں گے۔