حدیث نمبر: 9154
٩١٥٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (شقيق) (١) قال: قيل لعبد اللَّه: إنك تقل الصوم فقال: إني أخاف أن يمنعني من قراءةِ القرآن (و) (٢) قراءةُ القرآن أحب إليَّ من الصوم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ سے سوال کیا گیا کہ آپ کم روزے کیوں رکھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس لئے کہ روزہ مجھے تلاوت سے روک لے گا اور تلاوت کرنا مجھے روزہ رکھنے سے زیادہ پسند ہے۔
حدیث نمبر: 9155
٩١٥٥ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن) (١) مهاجر قال: كانوا يرون أن الصوم (أقلُّ) (٢) الأنواع (أجرًا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان بن مہاجر فرماتے ہیں کہ اسلاف کا خیال یہ تھا کہ روزہ اجر کے اعتبار سے کم محسوس ہونے والے اعمال میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 9156
٩١٥٦ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: ثنا (٢) عمرو بن ميمون عن أبيه أن رجلًا قال لأبي ذر: الصيام لا (أسمعك) (٣) (ذكرت) (٤) (فيه شيئا) (٥) فقال أبو ذر: (قربة) (٦) (و) (٧) ليس هنالك (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابوذر سے کہا کہ میں نے آپ کو روزہ کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ روزہ یقینا ثواب کی چیز ہے لیکن یہاں نہیں۔ یعنی بعض مقامات پر روزہ کے مقابلے میں دوسرے اعمال کا ثواب زیادہ ہوتا ہے جیسے جہاد وغیرہ۔ اسی طرح سفر میں روزہ نہ رکھنا بھی بعض اوقات افضل ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9157
٩١٥٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن الحكم قال: كان من أقل أعمالهم الصوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اسلاف کے کم کئے جانے والے اعمال میں سے ایک روزہ تھا۔