کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: روزے کی فضیلت اور ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 9136
٩١٣٦ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن أبي هند قال: (حدثنا) (١) مطرف بن عبد اللَّه بن الشخير قال: أتيت عثمان بن أبي (العاص) (٢) فدعا (لي) (٣) بلبن (لقحة) (٤) فقلت: إني صائم فقال: أما إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "الصيام جنة من النار كَجُنَّة أحدكم من القتال وصيامٌ حسنٌ صيام ثلاثة أيام من كل شهر" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف بن عبد اللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عثمان ابن ابی العاص کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ انہوں نے میرے لئے حاملہ اونٹنی کا دودھ منگوایا۔ میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روزہ جہنم کے مقابلے میں اس طرح ڈھال ہے جیسے تم دشمن کے مقابلے کے لئے ڈھال لیتے ہو۔ بہترین روزہ رکھنے کی صورت یہ ہے کہ ہر مہینے تین روزے رکھے جائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9136
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ صرح ابن إسحاق بالسماع وهو صدوق، أخرجه أحمد (١٦٢٧٣) وابن أبي عاصم في الآحاد (١٥٤٣) والنسائي ٤/ ١٦٧ وابن ماجه (١٦٣٩) وابن حبان (٣٦٤٩) وابن خزيمة (١٨٩١) والطبراني (٨٣٦١)، والحميدي (٩٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9136، ترقيم محمد عوامة 8984)
حدیث نمبر: 9137
٩١٣٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن هبيرة قال: قال عبد اللَّه: الصوم جنة من النار كجنة الرجل إذا حمل من السلاح ما أطاق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ روزہ جہنم کے مقابلے میں ایسے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص دشمن کے مقابلے میں ہتھیار کے طور پر اپنی بساط کے مطابق ڈھال استعمال کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9137
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هبيرة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9137، ترقيم محمد عوامة 8985)
حدیث نمبر: 9138
٩١٣٨ - حدثنا ابن فضيل عن أبي سنان عن أبي صالح عن أبي هريرة وأبي سعيد (قالا) (١): قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه يقول: إن الصوم لي وأنا أجزي به، (إن) (٢) للصائم (فرحتين) (٣): إذا أفطر فرح، وإذا لقي اللَّه فرح، والذي نفس محمد بيده لخلوف فم الصائم أطيب عند اللَّه من ريح المسك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دیتا ہوں۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک افطار کے وقت وہ خوش ہوتا ہے اور دوسری اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملے گا اور خوش ہوگا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9138
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١١٥١) وأحمد (١١٠٠٩) وبنحوه عند البخاري (٧٧٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9138، ترقيم محمد عوامة 8986)
حدیث نمبر: 9139
٩١٣٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كل عمل ابن آدم يُضاعِفُ (١) الحسنةُ عشر أمثالِها إلى سبعمائة ضعْفٍ قال اللَّه (تعالى) (٢): إلا الصوم فإنه لي وأنا أجزي به، يدع طعامه (وشرابه وشهوته) (٣) من أجلي، للصائم فرحتان، فرحة عند فطره، وفرحة عند لقاء ربه، ولخلوف (فم الصائم) (٤) أطيب عند اللَّه من ريح المسك. الصومُ جُنَّةٌ الصومُ جُنَّةٌ" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابن آدم کا ہر عمل کئی گنا بڑھایا جاتا ہے۔ ایک نیکی کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ سوائے روزے کے کیونکہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔ روزہ دار میرے لئے اپنے کھانے اور اپنی شہوت کو چھوڑتا ہے، روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک وہ خوشی جو اسے افطار کے وقت ہوتی ہے اور دوسری وہ خوشی جو اسے اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہوگی۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ روزہ ڈھال ہے روزہ ڈھال ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9139
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٩٠٤) ومسلم (١١٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9139، ترقيم محمد عوامة 8987)
حدیث نمبر: 9140
٩١٤٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن مهدي بن ميمون عن محمد بن أبي يعقوب عن رجاء بن حيوة عن أبي أمامة قال: قلت: يا رسول اللَّه (مرني) (١) بعمل أدخل به الجنة أو نحو ذلك فقال: "عليك بالصوم فإنه لا مثل له"، قال: فكان أبو أمامة لا يرى في بيته الدخان نهارًا إلا إذا نزل به ضيف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتادیجئے جو مجھے جنت میں داخل کردے۔ آپ نے فرمایا کہ تم روزے رکھا کرو کیونکہ اس کے مثل کوئی چیز نہیں۔ اس کے بعد سے حضرت ابو امامہ کا یہ حال تھا کہ ان کے گھر سے اس وقت دھواں نظر آتا تھا جب ان کے گھر میں کوئی مہمان ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9140
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الحاكم ١/ ٥٨٢ وابن حبان (٣٤٢٥) والنسائي ٤/ ١٦٥ وابن خزيمة (١٨٩٣) وأحمد (٢٢١٤١) وابنه (٢٢١٤٢) والطبراني (٧٤٦٤) وعبد الرزاق (٧٨٩٩) وابن عساكر (٢٤/ ٦٢) والحارث (٣٤٤/ بغية) وأبو نعيم في الحلية ٥/ ١٧٥ والروياني (١١٧٥) والشجري في الأمالي ١/ ٢٧٧ والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٢٣٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9140، ترقيم محمد عوامة 8988)
حدیث نمبر: 9141
٩١٤١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي حازم عن سهل بن سعد الساعدي ⦗٤٦٧⦘ قال: للجنة باب يدعى الريان يدخل (منه) (١) الصائمون (٢)، قال: فإذا دخل آخرهم أغلق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد ساعدی فرماتے ہیں کہ جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ” ریان “ کہا جاتا ہے، اس میں سے روزہ دار داخل ہوں گے۔ جب آخری روزہ دار جنت میں داخل ہوگا تو اسے بند کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9141
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه موقوفًا النسائي في الكبرى (٢٥٤٥) وفي المجتبى ٤/ ١٦٨ وأخرجه مرفوعًا البخاري (١٨٩٦) ومسلم (١١٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9141، ترقيم محمد عوامة 8989)
حدیث نمبر: 9142
٩١٤٢ - حدثنا خالد بن مخلد عن سليمان بن بلال عن أبي حازم عن سهل بن سعد الساعدي عن النبي ﷺ مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9142
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ خالد صدوق، والخبر أخرجه البخاري (٣٢٥٧) ومسلم (١١٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9142، ترقيم محمد عوامة 8990)
حدیث نمبر: 9143
٩١٤٣ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن واصل (عن) (١) (بشار) (٢) بن أبي (سيف) (٣) عن الوليد بن عبد الرحمن عن عياض بن (غطيف) (٤) قال: دخلنا على أبي عبيدة فقال: الصوم جنة ما لم (يخرقها) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیاض بن غطیف فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو عبیدہ کے پاس حاضر ہوئے انہوں نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے جب تک آدمی اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9143
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9143، ترقيم محمد عوامة 8991)
حدیث نمبر: 9144
٩١٤٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا جرير بن حازم (ثنا) (١) (بشار) (٢) بن أبي سيف عن الوليد بن عبد الرحمن عن عياض بن (غطيف) (٣) قال: دخلنا ⦗٤٦٨⦘ على أبي عبيدة بن الجراح في مرضه فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: " (الصوم) (٤) جنة ما لم (يخرقها) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیاض بن غطیف فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو عبیدہ کے پاس ان کے مرض الوفات میں حاضر ہوئے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روزہ ڈھال ہے جب تک آدمی اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9144
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9144، ترقيم محمد عوامة 8992)
حدیث نمبر: 9145
٩١٤٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن ثابت عن عبد اللَّه بن رباح قال: خرجنا وفدًا إلى معاوية، فمررنا براهب (فجيء) (١) بالطعام فأكل القوم ولم آكل؛ فقال لي: ما لك لا تأكل؟ (فقلت) (٢): إني صائم، قال: ألا (ألشمك) (٣) على صومك، توضع الموائد فأول من يأكل منها الصائمون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن رباح فرماتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں حضرت معاویہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک راہب سے ہماری ملاقات ہوئی۔ ہم اس کے پاس تھے کہ کھانا لایا گیا۔ لوگوں نے کھانا کھایا لیکن میں نے کھانا نہیں کھایا۔ اس راہب نے مجھ سے پوچھا کہ تم کھانا کیوں نہیں کھاتے ؟ میں نے کہا کہ میرا روزہ ہے۔ اس نے کہا کہ میں تمہیں روزے رکھنے کی تلقین کرتا ہوں کیونکہ ایک وقت دستر خوان بچھائے جائیں گے اور ان سے سب سے پہلے کھانے والے روزہ دار ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9145
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9145، ترقيم محمد عوامة 8993)
حدیث نمبر: 9146
٩١٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون وأبو أسامة قال: أخبرنا هشام بن حسان عن واصل (مولى) (١) أبي (عيينة) (٢) قال: حدثني لقيط عن أبي بردة عن أبي موسى قال: كنا في البحر فبينا نحن نسير وقد رفعنا الشراع ولا نرى جريرة ولا شيئا إذ سمعنا مناديا ينادي: يا أهل السفينة قفوا (أخبركم) (٣)، فقمنا ننظر فلم (نر) (٤) ⦗٤٦٩⦘ شيئا، فنادى سبعا فلما كانت السابعة قمت فقلت: يا هذا أخبرنا ما تريد أن تخبرنا به فإنك ترى حالنا ولا نستطيع أن نقف (عليك) (٥)، قال: ألا أخبركم بقضاء قضاه اللَّه على نفسه: أيما عبد أظمأ نفسه في اللَّه في يوم حار أرواه اللَّه يوم القيامة، (زاد) (٦) أبو أسامة فكنت (لا تشاء) (٧) أن ترى أبا موسى صائما في يوم بعيد ما بين الطرفين إلا رأيته (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سمندر میں سفر کررہے تھے، ہم نے اپنے بادبان بلند کر رکھے تھے۔ ہمیں کوئی جزیرہ دکھائی نہ دے رہا تھا اور نہ کوئی دوسری چیز ہمیں نظر آرہی تھی۔ اتنے میں ہمیں آواز آئی اے کشتی والو ! ٹھہر جاؤ میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں۔ ہم کھڑے ہو کر دیکھنے لگے لیکن ہم کو کچھ نظر نہ آیا۔ اس پکارنے والے نے سات مرتبہ آواز دی۔ ساتویں مرتبہ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا کہ تو جو کوئی بھی ہے ہمیں وہ بات بتادے جو بتانا چاہتا ہے، تو ہماری حالت کو دیکھ رہا ہے اور جانتا ہے کہ ہم تیرے پاس کھڑے نہں ہوسکتے۔ اس نے کہا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے ایک فیصلے سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جو اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے ! وہ یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے لئے خود کو ایک گرم دن میں پیاسا رکھے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سیراب فرمائیں گے۔ ابو اسامہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد آپ کبھی حضرت ابو موسیٰ کو بغیر روزے کے نہ دیکھ سکتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9146
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9146، ترقيم محمد عوامة 8994)
حدیث نمبر: 9147
٩١٤٧ - حدثنا وكيع عن (سعدان الجهني) (١) عن سعد أبي مجاهد (الطائي) (٢) عن أبي مدلة عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "الصائم لا تُردُّ دعوتهُ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9147
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أخرجه أحمد (٩٧٤٣)، والترمذي (٣٥٩٨)، وابن ماجه (١٧٥٢)، وابن خزيمة (١٩٠١)، والبغوي (١٣٩٥)، والطيالسي (١٥٨٦)، والمزي (٣٤/ ٢٦٦)، والحميدي (١١٥١)، والدارمي (٢٨٢٤)، وعبد بن حميد (١٤١٨)، والطبراني في الدعاء (١٣٦٥)، والبيهقي (٣/ ٢٤٥)، وابن المبارك في الزهد (١٠٧٥)، وابن أبي الدنيا في صفة الجنة (٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9147، ترقيم محمد عوامة 8995)
حدیث نمبر: 9148
٩١٤٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن إسحاق عن (الزهري) (١) عن حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة (قال: قال رسول اللَّه) (٢) ﷺ: "لكل ⦗٤٧٠⦘ أهل عمل باب من أبواب الجنة يدعون منه بذلك العمل ولأهل الصيام باب يقال له الريان" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں ہر عمل کے لئے ایک مخصوص دروازہ ہے ، اس عمل والوں کو اس دروازے سے پکارا جائے گا۔ روزہ داروں کے دروازے کا نام ” ریان “ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9148
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9148، ترقيم محمد عوامة 8996)