حدیث نمبر: 9111
٩١١١ - (قال) (١) حدثنا عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة قال: حدثنا معتمر بن سليمان قال: سمعت أيوب يحدث عن أبي قلابة عن أبي هريرة قال: قال نبي اللَّه ﷺ وهو يبشر أصحابه، "قد جاءكلم رمضان شهر مبارك افترض عليكم صيامه (تفتح) (٢) فيه أبواب الجنة [و (تغلق) (٣) فيه أبواب الجحيم وتغل فيه الشياطين فيه ليلة القدر خير من ألف (شهر) (٤) من حرم خيرها فقد حرم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو رمضان کی خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے اوپر رمضان کا مہینہ آگیا ہے، جو کہ ایک برکت والا مہینہ ہے۔ اس کے روزے کو تم پر فرض کیا گیا ہے۔ اس میں جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ اس میں شیطانوں کو ہتھکڑیاں لگادی جاتی ہیں، اس مہینے میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، جو اس کی خیر سے محروم رہا وہ حقیقی محروم ہے۔
حدیث نمبر: 9112
٩١١٢ - (حدثنا محمد) (١) بن فضيل عن عطاء بن السائب عن عرفجة قال: كنت عند (عتبة) (٢) بن فرقد وهو يحدثنا عن فضل رمضان، فدخل علينا رجل من أصحاب النبي ﷺ، [فسكت (عتبة) (٣) وكأنه هابه فلما جلس قال له عتبة: يا (أبا) (٤) فلان ⦗٤٥٨⦘ حدثنا بما سمعت من رسول اللَّه ﷺ] (٥) في رمضان، قال: سمعت رسول اللَّه يقول: " (تفتح) (٦) فيه أبواب الجنة (وتغلق) (٧) فيه أبواب النار، و (تصفد) (٨) فيه الشياطين وينادي (مناد) (٩) (في) (١٠) كل ليلة يا [باغي الخير هلم ويا] (١١) باغي الشر أقصر) " (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عرفجہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عتبہ بن فرقد کے پاس تھا، وہ رمضان کی فضیلت بیان کررہے تھے، اتنے میں ایک صحابی تشریف لائے تو وہ خاموش ہوگئے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ان کے رعب کی وجہ سے خاموش ہوئے ہیں۔ جب وہ بیٹھ گئے تو حضرت عتبہ نے ان سے کہا کہ اے ابو فلاں ! آپ ہمیں وہ حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، اس میں شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے اور رمضان کی ہر رات ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے اے خیر کو تلاش کرنے والے آگے بڑھ، اے شر کو تلاش کرنے والے بس کردے۔
حدیث نمبر: 9113
٩١١٣ - حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة (قال) (١) قال: إن النبي ﷺ كان يرغب في قيام رمضان من غير عزيمة وقال: "إذا دخل رمضان فتحت أبواب الجنة وغلّقت أبواب الجحيم وسلسلت الشَّياطين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں قیام کی خصوصی ترغیب دیا کرتے تھے ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9114
٩١١٤ - حدثنا وكيع عن (نصر) (١) بن (علي) (٢) عن (نضر) (٣) بن شيبان ⦗٤٥٩⦘ قال: سألت أبا سلمة بن عبد الرحمن [فذكر عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من صامه أيمانًا واحتسابًا غفر له ما تقدم من ذنبه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن عبدا لرحمن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گذشتہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9115
٩١١٥ - حدثنا عبد الرحمن] (١) بن محمد المحاربي عن محمد بن إسحاق عن (الفضل) (٢) الرقاشي عن عمه عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "هذا رمضان قد جاء (تفتح) (٣) فيه أبواب الجنان (وتغلق) (٤) فيه أبواب النار (وتغل) (٥) فيه الشياطين بعدا (لمن) (٦) أدرك رمضان لم يُغفر له (فيه) (٧) إذا لم يُغفر له (فيه) (٨) فمتى" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کا مہینہ آگیا ہے، اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، اس میں شیطانوں کو قید کردیا جاتا ہے، اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی، اگر رمضان میں بھی وہ اپنی مغفرت نہ کرواسکا تو کب کرائے گا ؟
حدیث نمبر: 9116
٩١١٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا (مجالد) (١) عن الشعبي عن علي أنه كان يخطب إذا (حضر) (٢) رمضان يقول: هذا الشهر المبارك (الذي) (٣) افترض اللَّه ⦗٤٦٠⦘ عليكم صيامه ولم يفترض عليكم قيامه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ خطبہ دیتے اور اس میں ارشاد فرماتے : یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے روزے کو فرض فرمایا ہے، اس کے قیام کو فرض نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 9117
٩١١٧ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا (مجالد) (١) عن الشعبي عن مسروق أن عمر كان يقول مثل ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بھی یونہی فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 9118
٩١١٨ - حدثنا عبد الأعلى عن الجريري عن (مسلم) (١) بن (العلاء) (٢) عن رجل من قريش عن أبي (هريرة) (٣) قال: أول ما يصيب (صاحب) (٤) رمضان الذي يحسن قيامه وصيامه أن يفرغ منه وهو كيوم ولدته أمه من الذنوب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جو شخص رمضان کے قیام اور صیام کی پابندی کرے اسے سب سے پہلے جو انعام ملتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے گناہ اس طرح معاف ہوجاتے ہیں جیسے وہ آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔
حدیث نمبر: 9119
٩١١٩ - حدثنا ابن فضيل عن يحيى (عن) (١) أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ (٢): "من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم (من) (٣) ذنبه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گذشتہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9120
٩١٢٠ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي (قال: حدثنا) (١) كثير بن زيد عن ⦗٤٦١⦘ عمرو بن تميم عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (أظلكم) (٢) شهركم هذا بمحلوف رسول اللَّه ﷺ ما دخل على المسلمين شهر خير لهم منه ولا دخل على المنافقين شهر شر لهم منه، (بمحلوف) (٣) رسول اللَّه ﷺ إن اللَّه يكتب أجره ونوافله من قبل أن يوجبه، ويكتب وزره وشقاءه قبل أن يُدخله، وذلك أن المؤمن يُعِدُّ له من النفقة في القوة والعبادة، ويعد (له) (٤) المنافق اتباع غفلات المسلمين واتباع عوراتهم، فهو (غنم) (٥) للمؤمن ونقمة للفاجر، أو قال (يغتم) (٦) (به) (٧) الفاجر" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم پر یہ مہینہ آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم کے ساتھ سن لو کہ مسلمانوں پر اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں آیا اور منافقین پر اس سے بدتر مہینہ کوئی نہیں آیا۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس مہینے کے اجر اور نوافل کو اس کے آنے سے پہلے لکھ دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ اور عذاب کو اس کے آنے سے پہلے لکھ لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے مومن کے لئے عبادات اور نیکیوں کی توفیق اور قوت بڑھا دی جاتی ہے اور منافقین کے لئے مسلمانوں کے عیبوں کو تلاش کرنا اور انہیں پھیلانا آسان کردیا جاتا ہے۔ یہ مہینہ مومن کے لئے غنیمت اور فاجر کے لئے مصیبت ہے۔
حدیث نمبر: 9121
٩١٢١ - حدثنا جعفر بن عون قال: (أخبرنا) (١) إبراهيم بن إسماعيل عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "من صام رمضان إيمانًا واحتسابًا غفر له ما مضى (من عمله) " (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔