کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: صف کی ابتداء کہاں سے ہوگی؟
حدیث نمبر: 9104
٩١٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا هشيم عن العوام عن عبد الملك التيمي عن إبراهيم قال: مبتدأ الصف قصد الإمام، فإن لم يكن مع الإمام إلا (واحد) (١) أقامه خلفه ما بينه وبين أن يركع (فإن) (٢) جاء أحد يصلي به وإن لم يأت أحد حتى يركع لحق الإمام فقام عن يمينه وإن (جاء) (٣) والصف (تام) (٤) فليقم قصد الإمام فإن جاء أحد يصلي به وإن لم يجئ أحد فليدخل في الصف ثم (كذاك) (٥) وكذاك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صف کی ابتداء امام کی جانب سے ہوگی۔ اگر امام کے ساتھ صرف ایک آدمی ہو تو وہ اسے اپنے پیچھے اتنے فاصلے پر کھڑا کرے گا کہ وہ رکوع کرسکے۔ اگر ایک اور آجائے تو امام اسے بھی نماز پڑھائے گا۔ اگر امام کے رکوع کرنے تک کوئی نہ آئے تو پیچھے کھڑا شخص امام کے ساتھ مل جائے اور اس کے دائیں جانب کھڑا ہو۔ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنے آئے اور صف مکمل ہو تو وہ امام کی جہت میں کھڑا ہوجائے، اگر ایک اور آئے تو وہ اس کے ساتھ نماز پڑھے۔ اگر کوئی اور شخص نہ آئے تو یہ صف میں داخل ہوجائے۔ پھر اسی طرح سارا سلسلہ چلتا چلا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9104
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9104، ترقيم محمد عوامة 8954)
حدیث نمبر: 9105
٩١٠٥ - حدثنا هشيم قال: ثنا يونس عن الحسن قال: إذا جاء وقد تم الصف فليقم بحذاء الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص آئے اور صف مکمل ہوچکی ہو تو وہ امام کی سیدھ میں کھڑا ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9105
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9105، ترقيم محمد عوامة 8955)