کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نفلوں میں امامت کرانے کا حکم
حدیث نمبر: 9049
٩٠٤٩ - حدثنا معاوية (بن) (١) هشام قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن الأسود (أن) (٢) عبد اللَّه بن ربيعة كان يؤم أصحابه في التطوع في سوى رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ربیعہ رمضان کے علاوہ باقی دنوں میں اپنے ساتھیوں کو نفلوں کی امامت کرایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9049
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9049، ترقيم محمد عوامة 8901)
حدیث نمبر: 9050
٩٠٥٠ - حدثنا عبدا الأعلى عن معمر عن الزهري عن محمود بن ربيع عن عتبان ابن مالك أنه قال: يا رسول اللَّه إن السيول تحول بيني وبين مسجد قومي فأحب أن تأتي فتصلي في مكان من بيتي أتخذه مسجدًا فقال رسول اللَّه ﷺ: "سنفعل"، قال: فلما أصبح رسول اللَّه ﷺ غدا (إلى) (١) أبى بكر فاستتبعه فلما دخل رسول اللَّه ﷺ ⦗٤٤١⦘ قال: "أين تريد؟ " فأشرت له إلى ناحية من البيت، فقام رسول اللَّه ﷺ فصففنا خلفه فصلى بنا ركعتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عتبان بن مالک فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! بعض اوقات سیلاب مجھے اپنی قوم کی مسجد میں جانے نہیں دیتا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کسی دن میرے گھر تشریف لائیں اور کسی جگہ نماز پڑھیں میں اس جگہ کو مسجد بنا لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہم ایسا کریں گے۔ چناچہ اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر کو ساتھ لے کر میرے گھر تشریف لائے۔ آپ نے پوچھا تم کس جگہ کو مسجد بنانا چاہتے ہو میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو آپ اس جگہ کھڑے ہوئے۔ ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی اور آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 9050
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٤٢٥)، ومسلم (٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9050، ترقيم محمد عوامة 8902)