حدیث نمبر: 8964
٨٩٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم عن علقمة قال: قرأت على عبد اللَّه فقال: رتل فداك أبي وأمي فإنه (زين) (١) القرآن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کی تو انہوں نے فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، ترتیل سے پڑھو کیونکہ یہ قرآن کی زینت ہے۔
حدیث نمبر: 8965
٨٩٦٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي ليلى عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس: ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾ [المزمل: ٤]، قال: بينه (تبيينًا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیلاً } کا معنی یہ بیان فرماتے ہیں کہ قرآن کو خوب واضح کرکے پڑھو۔
حدیث نمبر: 8966
٨٩٦٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن مجاهد (ورتل القرآن ترتيلًا) قال: بعضه على إثر بعض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیلاً } کا معنی یہ بیان فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کو ترتیب سے پڑھو۔
حدیث نمبر: 8967
٨٩٦٧ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي وائل قال: جاء رجل من بني (يحيلة) (١) يقال له نهيك بن (سنان) (٢) إلى ابن مسعود فقال: يا أبا عبد الرحمن كيف تقرأ هذا الحرف أياء تجده أم الفًا (من ماء غير ياسن) (٣) أو (من (ماء) (٤) غير آسن) (قال) (٥): فقال له عبد اللَّه: وكل القرآن أحصيت غير هذا قال: فقال له: إني لأقرأ المفصل في ركعة قال: هذًا (كهذِّ) (٦) الشعر، إن قومًا يقرؤون القرآن لا (يجاور) (٧) تراقيهم، ولكن القرآن إذا وقع في القلب فرسخ (نفع) (٨) إن أفضل الصلاة الركوع والسجود، قال: وقال عبد اللَّه: إني لأعرف النظائر التي كان يقرأ بهن رسول اللَّه ﷺ (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل کہتے ہیں کہ بنو بجیلہ کا ایک آدمی جس کا نام نہیک بن سنان تھا وہ حضرت ابن مسعود کے پاس آیا، اس نے کہا کہ اے ابو عبدا لرحمن ! آپ اس لفظ کو کیسے پڑھیں گے یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ یعنی { مِنْ مَائٍ غَیْرِ یَاسِنٍ } پڑھیں گے یا { مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ } حضرت عبد اللہ نے اس سے فرمایا کہ کیا تم نے اس مقام کے علاوہ باقی سارا قرآن مجید یاد کرلیا اور سمجھ لیا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں ایک رکعت میں مفصل کی تلاوت کرتا ہوں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ تم اشعار کی طرح قرآن کو بھی بغیر سوچے سمجھے پڑھتے ہو ! بعض لوگ ایسے ہیں جو قرآن کی تلاوت تو کرتے ہیں لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا، قرآن نفع تب دے گا جب دل میں اتر کر راسخ ہوجائے۔ افضل نماز وہ ہے جس میں ر کو ع اور سجدے زیادہ ہوں۔ حضرت عبداللہ نے یہ بھی فرمایا کہ میں ان سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8968
٨٩٦٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا جرير بن حازم الأزدي عن قتادة قال: سئل أنس عن قراءة رسول اللَّه ﷺ فقال: كان يمد (بها) (١) صوته مدًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الفاظ کی آواز کو بہت لمبا کرکے پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 8969
٨٩٦٩ - حدثنا حفص بن غياث عن ابن (جريج) (١) عن ابن أبي مليكة عن أم سلمة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يقرأ بسم اللَّه الرحمن الرحيم، الحمد للَّه رب العالمين يعني حرفًا حرفًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کو ایک ایک حرف کرکے پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 8970
٨٩٧٠ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب قال: كان محمد إذا قرأ مضى في قراءته.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ محمد جب قراءت کرتے تو قراءت کرتے جاتے۔
حدیث نمبر: 8971
٨٩٧١ - حدثنا الضحاك بن (مخلد) (١) عن عثمان بن الأسود قال: كان عطاء ومجاهد (يقرآن) (٢) القرآن هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضرت مجاہد قرآن کو تیز تیز پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8972
٨٩٧٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن عبد الرحمن بن موهب قال: سمعت محمد بن كعب القرظي (٢) يقول: لأن أقرأ (إذا زلزلت) (والقارعة) ليلة أرددهما وأتفكر فيهما أحب إلي من (أن) (٣) أبيت أهذ القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ میں ساری رات سورة الزلزال اور سورة القارعۃ کی بار بار تلاوت کرتا رہوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایک رات میں پورا قرآن تیزی سے پڑھ لوں۔
حدیث نمبر: 8973
٨٩٧٣ - حدثنا وكيع قال ثنا عيسى الخياط عن الشعبي قال: قال عبد اللَّه: لا ⦗٤٢١⦘ تهذوا القرآن كهذّ الشعر ولا تنثروه نثر الدقل وقفوا عند عجائبه وحركوا به القلوب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کو اشعار کی طرح تیزی سے اور بلا سوچے سمجھے نہ پڑھو، اسے خراب کھجوروں کی طرح ادھر ادھر مت کرو، اس کے عجائب پر ٹھہر کر غور کرو اور اس کی تلاوت کے دوران دلوں کو حرکت دو ۔
حدیث نمبر: 8974
٨٩٧٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا نافع بن عمر الجمحي عن ابن أبي مليكة عن (بعض) (١) أزواج النبي ﷺ أنها سئلت عن قراءة النبي ﷺ فقالت: إنكم لا تستطيعونها، فقيل لها: أخبرينا (بها) (٢)، فقرأت قراءة ترسلت فيها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک زوجہ ٔ مطہرہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاوت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ بتادیجئے۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت آہستہ آہستہ تلاوت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8975
٨٩٧٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عبيد المكتب قال: سئل مجاهد عن رجلين (قرأ) (١) أحدهما البقرة وقرأ الآخر البقرة وآل عمران فكان ركوعهما وسجودهما وجلوسهما سواء أيهما أفضل قال: الذي قرأ البقرة ثم قرأ مجاهد: ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا﴾ [الإسراء: ١٠٦].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے دو آدمیوں کے بارے میں سوال کیا گیا جن میں سے ایک نے سورة البقرۃ کی تلاوت کی اور دوسرے نے سورة البقرۃ اور سورة آل عمران کی تلاوت کی۔ ان دونوں کے رکوع، سجود اور جلوس برابر تھے، ان میں سے کس نے افضل عمل کیا ؟ حضرت مجاہد نے فرمایا کہ جس نے سورة البقرۃ کی تلاوت کی۔ پھر حضرت مجاہد نے یہ آیت پڑھی { وَقُرْآنًا فَرَقْنَاہُ لِتَقْرَأَہُ عَلَی النَّاسِ عَلَی مُکْثٍ وَنَزَّلْنَاہُ تَنْزِیلاً } [الاسرائ : ١٠٦]
حدیث نمبر: 8976
٨٩٧٦ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل قال: ثنا (بيان) (١) عن حكيم بن جابر قال: قال حذيفة: إن من أقرأ الناس (منافقًا) (٢) لا يترك واوًا ولا ألفًا (يلفته) (٣) بلسانه كما (تلفت) (٤) البقرة الخلا بلسانها لا (يجاوز) (٥) ترقوته (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات قرآن کا سب سے زیادہ تلاوت کرنے والا وہ منافق ہوتا ہے جو نہ کوئی الف چھوڑتا ہے اور نہ کوئی واؤ، اس کی زبان ایسے چلتی ہے جیسے گائے کی زبان جگالی میں چلتی ہے لیکن قرآن اس کے حلق سے آگے نہیں بڑھتا۔