حدیث نمبر: 8958
٨٩٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبدة (بن سليمان) (١) عن (سعيد) (٢) عن أبي معشر عن إبراهيم في الرجل (يسترخي) (٣) إزاره (٤) في الصلاة قال: لا يحله ولا يفرجه ولكنه (يدرجه و) (٥) يرفعه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے نماز میں ازار کو ڈھیلا کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نہ اسے کھولے گا نہ کشادہ کرے گا بلکہ اسے لپیٹے گا اور اسے اوپر کرے گا۔
حدیث نمبر: 8959
٨٩٥٩ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: ثنا محمد بن مسلم عن إبراهيم بن ميسرة عن مجاهد قال: إذا أردت أن تتزر وعليك إزار ورداء وأنت في الصلاة فأرخ رداءك وأتزر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب نماز میں تم پر ازار اور چادر ہو اور تم ازار باندھنا چاہو تو اپنی چاد ر کو ڈھیلا کرکے ازار باندھ لو۔ ابراہیم بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طاوس سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 8960
٨٩٦٠ - (قال) (١) فذكرته لطاوس فقال: هو خير أو (ذا) (٢) خير.
حدیث نمبر: 8961
٨٩٦١ - حدثنا وكيع عن ربيع بن صبيح عن أبي معشر عن إبراهيم أنه كره أن يحدث الرجل في الصلاة شيئًا حتى زر القميص قال: وكان إبراهيم لا يرى بأسًا إذا استرخى إزاره في الصلاة أن يرفعه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے نماز میں کسی بھی عمل کے کرنے یہاں تک کہ قمیص کے بٹن لگانے کو بھی مکروہ قرار دیا ہے۔ ابراہیم اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ نماز میں ازار کو ڈھیلا کرنے کے لئے اسے اوپر کرے۔
حدیث نمبر: 8962
٨٩٦٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا (عبد السلام) (١) بن شداد أبو طالوت الجريري عن غزوان بن جرير الضبي عن أبيه قال: كان علي إذا قام في الصلاة وضع يمينه على (رسغه) (٢) فلا يزال كذلك حتى يركع متى ما ركع إلا أن يصلح ثوبه أو يحك جسده (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر ضبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی کلائی پر رکھتے اور رکوع کرنے تک اسی حالت میں رہتے۔ البتہ کپڑا درست کرنے یاخارش کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 8963
٨٩٦٣ - حدثنا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم أنه كره ان يتوشح أو يرتدي وهو في الصلاة.