حدیث نمبر: 8955
٨٩٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا هشيم قال: ثنا عثمان بن (حكيم) (١) عن عكرمة عن ابن عباس قال: ما أعلم الصلاة تنبغي من أحد على أحد إلا على النبي ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی پر درود پڑھنا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 8956
٨٩٥٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأسود بن قيس عن (نبيح) (١) عن جابر قال: أتيت النبي ﷺ استعينه في دين كان على أبي قال: انصرف (٢) أنا آتيكم فأتانا وقد قلت للمرأة لا (تكلمن) (٣) رسول اللَّه ولا تؤذينه فلما خرج قالت المرأة: يا رسول اللَّه صل عليّ وعلى زوجي فقال: "صلى اللَّه عليك وعلى زوجك"، قالت: (يا) (٤) رسول اللَّه: تأتينا ولا (تدعو) (٥) لنا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ایک قرضے کے سلسلے میں مدد حاصل کرنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ تم چلے جاؤ، میں خود تمہارے گھر آتا ہوں۔ میں نے گھر آکر اپنی بیوی سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات نہ کرنا اور آپ کو تکلیف نہ دینا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے لئے اور میرے خاوند کے لئے رحمت کی دعا کردیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تجھ پر اور تیرے خاوند پر رحمت نازل فرمائے۔ اس عورت نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ہمیں کیوں نہیں بلالیا۔
حدیث نمبر: 8957
٨٩٥٧ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن ابن أبي أوفى قال: أتيت ⦗٤١٧⦘ النبي ﷺ بصدقة (أبي) (١) (فقبلها) (٢) وقال: "اللهم صل على آل أبي أوفى" (٣)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوفیٰ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنے والد کی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اے اللہ ! ابو اوفیٰ کی آل پر رحمت نازل فرما۔