کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نماز کے بارے میں سوال کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 8861
٨٨٦١ - حدثنا أبو بكر قال: سمعت وكيعًا يقول قال: سفيان في رجل زالت الشمس وهو في الحضر ثم خرج إلى السفر كيف يصلي؟ قال: إن كان في وقت الظهر صلى ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی سورج کے زائل ہونے کے وقت حضر میں تھا، پھر سفر پر روانہ ہوگیا، وہ کیسے نماز پڑھے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر ظہر کے وقت میں پڑھے تو دو رکعتیں پڑھے گا۔ حضر ت حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ جب یہاں سورج زائل ہوجائے تو سفر مں چار رکعتیں پڑھے گا۔ حضرت سفیان اس مسافر کے بارے میں جو کسی مقیم کے ساتھ نماز میں داخل ہو اور اس کے ساتھ ایک رکعت پڑھے، پھر کچھ دیکھے اور بات کرے، اتنے میں امام نمازپڑھ لے، فرماتے ہیں کہ مسافر دو رکعتوں کا اعادہ کرے گا پھر اس اصل کی طرف لوٹ آئے گا۔ حسن فرماتے ہیں کہ وہ چار رکعتیں پڑھے گا کیونکہ اس نے اپنے اوپر چار رکعتیں فرض کرلی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8861
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8861، ترقيم محمد عوامة 8719)
حدیث نمبر: 8862
٨٨٦٢ - وقال حسن بن صالح: إذا زالت (له) (١) الشمس ها هنا صلى في السفر أربعًا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8862
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8862، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 8863
٨٨٦٣ - قال وقال سفيان في مسافر دخل مع مقيم فصلى معه ركعة ثم رأى شيئًا فتكلم فصلى الإمام فقال: يعيد المسافر ركعتين ثم (يرجع) (١) إلى الأصل الذي كان عليه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8863
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8863، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 8864
٨٨٦٤ - وقال الحسن بن صالح يصلي أربعا لأنه قد أوجبها (على) (١) نفسه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8864
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8864، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 8865
٨٨٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: في رجل دخل مع الإمام يوم الجمعة فرعف فذهب فتوضأ ثم جاء وقد صلى الإمام ولم يتكلم الرجل قال سفيان: يصلي صلاة الإمام ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی جمعہ کے دن امام کے ساتھ جماعت میں داخل ہوا، پھر اس کی نکسیر جاری ہوگئی، جب وہ وضو کرکے آیا تو امام نماز پڑھ چکا تھا، لیکن اس نے کسی سے بات نہیں کی، اب وہ کیا کرے ؟ حضرت سفیان نے فرمایا کہ وہ امام کی نماز کی طرح دو رکعتیں پڑھے۔ حضرت حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ وہ چار رکعتیں پڑھے البتہ اگر اس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لی ہو تو پھر دو رکعتیں پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8865
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8865، ترقيم محمد عوامة 8720)
حدیث نمبر: 8866
٨٨٦٦ - وقال (الحسن) (١) بن صالح: يصلي أربعًا إلا أن يكون قد صلى معه ركعة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8866
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8866، ترقيم محمد عوامة ---)