کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک تشہد یا قعدۂ اخیرہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی
٨٧٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن قال: إذا رعف ⦗٣٥٥⦘ بعد ما يفرغ من السجدة (الأخيرة) (١) فلينصرف (فليتوضأ) (٢) وليرجع (فليتشهد) (٣) ما لم يتكلم فإن تكلم استأنف الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر آخری سجدہ کرنے کے بعد کسی کی نکسیر پھوٹ گئی تو وہ جائے اور وضو کرکے آئے، پھر آکر اگر اس نے کسی سے بات نہ کی ہو تو تشہد پڑھے اور اگر کسی سے بات کرلی تو دوبارہ نماز پڑھے۔
٨٧٠٣ - حدثنا هشيم عن عبد الملك عن عطاء مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بھی یونہی فرماتے ہیں۔
٨٧٠٤ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا (يونس) (١) عن ابن سيرين أنه كان يقول: حتى يسلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر سلام پھیرنے سے پہلے وضو ٹوٹ گیا تو نماز مکمل نہیں ہوئی۔
٨٧٠٥ - حدثنا وكيع عن (معقل) (١) عن عطاء في الرجل يحدث قال: إذا قال السلام علينا وعلى عباد اللَّه الصالحين أجزأه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر تشہد میں ” السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ “ کہنے کے بعد وضو ٹوٹا تو اس کی نماز ہوگئی۔
٨٧٠٦ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم وحماد قالا: حتى يتشهد أو يقعد مقدار التشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ جب تک آدمی تشہد نہ پڑھ لے یا تشہد کی مقدار بیٹھ نہ جائے اس وقت تک نماز مکمل نہیں ہوتی۔
٨٧٠٧ - حدثنا معتمر عن برد عن مكحول في الرجل يتشهد ثم يحدث قال: هذا قد تمت صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جس شخص کو تشہد پڑھنے کے بعد حدث لاحق ہوگا اس کی نماز مکمل ہوگی۔