حدیث نمبر: 8684
٨٦٨٤ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): ثنا وكيع عن سفيان (عن أبي هاشم) (٢) عن مجاهد أنه سمع رجلا يرفع صوته بالدعاء فرماه بالحصى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد نے ایک آدمی کو دعا میں آواز بلند کرتے سنا تو اس کو ایک کنکر مارا۔
حدیث نمبر: 8685
٨٦٨٥ - حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز عن ابن عمر قال: أيها الناس، إنكم لا تدعون أصما ولا غائبا يعني في رفع الصوت بالدعاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما دعا میں آواز اونچی کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ تم کسی بہرے یا دور والے کو نہیں پکار رہے۔
حدیث نمبر: 8686
٨٦٨٦ - حدثنا وكيع عن الربيع عن يزيد بن أبان عن أنس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس اور حسن نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ آدمی کی دعا اس کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص سن سکے۔
حدیث نمبر: 8687
٨٦٨٧ - وعن ربيع عن الحسن أنهما كرها أن يسمع الرجل جليسه شيئًا من الدعاء.
حدیث نمبر: 8688
٨٦٨٨ - حدثنا وكيع عن مبارك عن الحسن قال: كانوا يجتهدون في الدعاء (ولا) (١) (يسمع) (٢) إلا همسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اسلاف خوب دعا کیا کرتے تھے لیکن ان کی آواز کی صرف بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی۔
حدیث نمبر: 8689
٨٦٨٩ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن صدقة عن ابن عمر عن النبي ﷺ قال: "إن المصلي إذا صلى يناجي ريه فليعلم أحدكم (بما) (١) يناجيه ولا (يجهر) (٢) بعضكم على بعض" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نمازی جب نماز پڑھتا ہے تو اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، پس تم میں سے ہر ایک کو جان لینا چاہئے کہ وہ کس سے مناجات کررہا ہے، لہٰذا نماز میں آپس کی باہمی گفتگو کی طرح آواز اونچی نہ کرو۔
حدیث نمبر: 8690
٨٦٩٠ - حدثنا ابن فضيل وأبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان عن أبي موسى (قال) (١): (كنا) (٢) مع النبي ﷺ في سفر فجعل الناس يجهرون (بالتكبير) (٣) فقال النبي ﷺ: "أيها الناس، أريعوا على أنفسكم، (إنكم) (٤) ليس تدعون أَصَمَّ ولا غائبًا إنكم (تدعونه) (٥) سميعًا قريبًا وهو معكم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگ اونچی آواز سے تکبیر کہنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنی جانوں کے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا دور والے کو نہیں بلکہ سننے والے اور قریب والے کو پکار رہے ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 8691
٨٦٩١ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه بن (نسيب) (١) قال: صليت إلى جنب سعيد بن المسيب المغرب فلما جلست في الركعة (الثانية) (٢) رفعت صوتي بالدعاء فانتهرني فلما انصرفت قلت له: ما كرهت مني؟ قال: ظننت أن اللَّه ليس بقريب (منا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ بن نسیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، جب میں دوسری رکعت میں بیٹھا تو میں نے دعا میں آواز کو بلند کیا، انہوں نے مجھے اس پر جھڑکا۔ جب میں نے نماز مکمل کرلی تو میں نے ان سے کہا کہ میرا کون سا عمل آپ کو ناپسند ہوا ؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قریب نہیں ہے ؟