حدیث نمبر: 8636
٨٦٣٦ - حدثنا شريك عن جابر عن أبي جعفر أن النبي ﷺ رأى رجلًا قصيرا يقال له (زنيم) (١) فسجد وقال: الحمد للَّه الذي لم يجعلني مثل هذا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پستہ قد آدمی کو دیکھا جسے ” زنیم “ (ناقص الخلقت) کہا جاتا تھا۔ آپ نے اسے دیکھ کر سجدہ کیا اور فرمایا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے اس جیسا نہیں بنایا۔
حدیث نمبر: 8637
٨٦٣٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن (أبي) (١) عون الثقفي (٢) محمد بن (عبيد اللَّه) (٣) عن رجل لم يسمه أن أبا بكر لما فتح اليمامة سجد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر نے جب یمامہ کو فتح کیا تو سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 8638
٨٦٣٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن أبي عون الثقفي عن يحيى بن الجزار أن النبي ﷺ مر به رجل به زمانة فسجد وأبو بكر وعمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جزار فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے اسے ایک پرانا مرض تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور حضرت ابوبکر وعمر نے اسے دیکھ کر سجدۂ شکر کیا۔
حدیث نمبر: 8639
٨٦٣٩ - [حدثنا حفص بن غياث عن موسى بن عبيدة عن زيد بن أسلم عن أبيه أن عمر أتاه (فتح) (١) من قبل اليمامة فسجد] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس یمامہ کی فتح کا پیغام آیاتو انہوں نے سجدۂ شکر کیا۔
حدیث نمبر: 8640
٨٦٤٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن محمد بن قيس الهمداني عن شيخ لهم يكنى أبا موسى قال شهدت عليا لما أوتي بالمخدج سجد (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک بزرگ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نامکمل جسمانی ساخت والا شخص آیا تو آپ نے سجدۂ شکر کیا۔
حدیث نمبر: 8641
٨٦٤١ - حدثنا شريك عن محمد بن (قيس) (١) عن أبي موسى أن عليًّا لما أوتي بالمخدج سجد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نامکمل جسمانی ساخت والا شخص لایا گیا تو آپ نے سجدۂ شکر کیا۔
حدیث نمبر: 8642
٨٦٤٢ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم أنه كره سجدة الشكر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے سجدۂ شکر کو مکروہ قرار دیا اور حضرت منصور فرماتے ہیں کہ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے سجدہ ٔ شکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 8643
٨٦٤٣ - قال منصورة وبلغني أن أبا بكر وعمر سجدا سجدة الشكر (١).
حدیث نمبر: 8644
٨٦٤٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن جابر عن أبي جعفر أن النبي ﷺ مر (بنغاشي) (١) فسجد وقال: اسألوا اللَّه العافية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسے آدمی کے پاس سے گذرے جو بہت چھوٹے قد کا، کمزور اور ناقص خلقت کا مالک تھا۔ آپ نے اسے دیکھ کر سجدۂ شکر کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو۔
حدیث نمبر: 8645
٨٦٤٥ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا الكلبي عن أبي صالح عن ابن (عباس) (١) قال: لما (نزل) (٢) نكاح زينب، انطلق زيد بن حارثة حتى استأذن على زينب قال فقالت زينب: ما لي ولزيد قال: فأرسل إليها فقال: إني رسول رسول اللَّه ﷺ إليك قال فأذنت له فبشرها أن اللَّه قد زوجها من نبيه ﷺ قال: فخرت ساجدة (للَّه شكرا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ام المؤمنین حضرت زینب کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکاح کی آیت نازل ہوئی تو حضرت زید بن حارثہ نے حضرت زینب سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ ان کی آواز سن کر حضر ت زینت نے کہا کہ میرا اور زید کا کیا واسطہ ؟ انہوں نے پیغام بھیجا اور کہا کہ میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قاصد ہوں اور آپ کے پاس ایک پیغام لے کر آیا ہوں ۔ انہوں نے حضرت زید کو اندر آنے کی اجازت دے دی تو حضرت زید نے حضرت زینب کو یہ خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نکاح اپنے نبی سے کردیا ہے۔ یہ سن کر حضرت زینب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لے سجدہ میں پڑگئیں۔
حدیث نمبر: 8646
٨٦٤٦ - حدثنا هشيم قال: أنا (مغيرة) (١) عن إبراهيم أنه كان يكره سجدة الفرح، ويقول: ليس فيها ركوع ولا سجود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے خوشی کے سجدہ کو مکروہ قرار دیا ہے اور وہ فرماتے تھے کہ خوشی کے رکوع اور سجدے نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 8647
٨٦٤٧ - (حدثنا وكيع) (١) قال: ثنا سويد بن عبيد العجلي عن أبي مؤمن (الواثلي) (٢) قال: شهدت عليا لما أُتي بالمخدج سجد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مؤمن واصلی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ناقص الخلقت شخص لایا گیا تو انہوں نے اسے دیکھ کر سجدۂ شکر کیا۔
حدیث نمبر: 8648
٨٦٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: سجدة الشكر بدعة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سجدۂ شکر بدعت ہے۔
حدیث نمبر: 8649
٨٦٤٩ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا إسماعيل بن (زربي) (١) قال: ثنا (ريان) (٢) بن صبرة الحنفي أنه شهد يوم النهروان قال: وكنت فيمن استخرج ذا الثدية فبشر به عليًّا قبل أن ينتهي إليه (٣) (فانتهينا) (٤) (إليه) (٥) وهو ساجد فرحًا به (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربان بن صبرہ حنفی کہتے ہیں کہ وہ یوم نہروان میں موجود تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ذو الثدیہ کونکالا۔ ہمارے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچنے سے پہلے انہیں اس کی اطلاع ہوگئی تھے، جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ خوشی کی وجہ سے سجدے میں پڑے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 8650
٨٦٥٠ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثنا موسى بن عبيدة عن قيس بن عبد الرحمن (بن) (١) أبي صعصعة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه عن جده عبد الرحمن بن عوف قال: انتهيت إلى النبي ﷺ وهو ساجد فلما انصرف قلت أطلت السجود قال: "إني سجدت شكرًا لربي (فيما أبلاني) (٢) في أمتي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سجدے میں تھے، جب آپ نے سجدے سے سر اٹھایا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے سجدے کو لمبا فرمایا ! آپ نے فرمایا کہ میں نے اس بات پر سجدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر میری امت کے بارے میں احسان فرمایا ہے۔