کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کیا آدمی ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہے جن میں جماع کیا ہو؟
حدیث نمبر: 8630
٨٦٣٠ - حدثنا أبو بكر قال ثنا بن علية عن برد عن سليمان بن (١) موسى عن ⦗٣٣٨⦘ عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يصلي في الثوب الذي يجامع فيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کپڑوں میں نماز پڑھا کرتے تھے جن میں جماع کیا ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8630
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8630، ترقيم محمد عوامة 8492)
حدیث نمبر: 8631
٨٦٣١ - حدثنا أسباط بن محمد عن عبد الملك بن عمير قال: سأل رجل جابر بن سمرة أصلي في الثوب وأجامع فيه؟ قال: إن أصابه شيء (فأغسله، وإن لم يصبه شيءٌ) (١) فلا بأس أن تصلي فيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن عمیر کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت جابر بن سمرہ سے سوال کیا کہ کیا میں ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہوں جن میں جماع کیا ہو ؟ فرمایا کہ اگر کپڑوں پر کچھ لگ جائے تو اسے دھو لے اور اگر کچھ نہ لگا ہو تو ان کپڑوں میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8631
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الطحاوي ١/ ٥٣، وابن المنذر في الأوسط ٢/ ١٥٧، ورواه مرفوعًا أحمد (٢٠٨٢٥)، وابن ماجة (٥٤٢)، وابن حبان (٢٣٣٣)، وأبو يعلى (٧٤٧٩)، وابن أبي حاتم في العلل ١/ ١٩٢، والطبراني (١٨٨١)، والخطيب ١١/ ١١١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8631، ترقيم محمد عوامة 8493)
حدیث نمبر: 8632
٨٦٣٢ - حدثنا وكيع عن بشير عن أبي حازم عن ابن عمر قال: إن هذه (لتعلم) (١) أنا نجامع فيه ونصلي فيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ جانتی ہے کہ جن کپڑوں میں ہم جماع کرتے ہیں انہی میں نماز پڑھتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8632
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8632، ترقيم محمد عوامة 8494)
حدیث نمبر: 8633
٨٦٣٣ - حدثنا (١) محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن الشعبي قال: سئل عن الثوب الذي يجامع فيه (أنصلي) (٢) فيه؟ قال قلت: نعم، قلت فأنضحه بالماء؟ قال: لا (تزيده) (٣) إلا نتنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے سوال کیا گیا کہ آدمی نے جن کپڑوں میں جماع کیا ہو ان میں نما زپڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس پر پانی چھڑک لیا جائے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس سے بدبو ہی پیدا ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8633
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8633، ترقيم محمد عوامة 8495)
حدیث نمبر: 8634
٨٦٣٤ - حدثنا زيد بن حباب عن معاوية بن صالح قال: حدثني ضمرة بن حبيب قال: حدثني محمد بن أبي سفيان الثقفي أن أم حبيبة زوج النبي ﷺ ⦗٣٣٩⦘ (قالت) (١): رأيت رسول اللَّه ﷺ يصلي في ثوب علي وعليه كان فيه ما كان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابی سفیان کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کپڑے میں نما ز پڑھتے دیکھا جو مجھ پر اور آپ پر تھا اور اس میں جو ہوا تھا سو ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8634
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8634، ترقيم محمد عوامة 8496)
حدیث نمبر: 8635
٨٦٣٥ - حدثنا شبابة عن ليث (بن سعد) (١) عن يزيد بن أبي (حبيب) (٢) عن سويد ابن قيس عن معاوية بن (حُدَيج) (٣) عن معاوية بن أبي سفيان أنه سأل أم حبيبة (أخته) (٤) ابنة أبي سفيان هل كان النبي ﷺ يصلي في الثوب الذي كان يجامعها فيه قالت: نعم إذا لم ير فيه أذى (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن ابی سفیان نے ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کپڑوں میں نما زپڑھا کرتے تھے جن میں آپ نے جماع کیا ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں، اگر اس میں گندگی نہ لگی ہو تو آپ ان کپڑوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8635
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٢٧٤٠٤)، وأبو داود (٣٦٦)، وابن ماجة (٥٤٠)، والنسائي ١/ ١٥٥، وابن خزيمة (٧٧٦)، وعبد بن حميد (١٥٥٥)، والدارمي (١٣٧٦)، وأبو يعلى (٧١٢٦)، وابن المنذر في الأوسط (٧٢١)، والطحاوي ١/ ٥٠، وابن حبان (٢٣٣١)، والبيهقي ٢/ ٤١٠، والبغوي (٥٢٢)، والخطيب ٧/ ٤٠٧، والدارمي (١٣٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8635، ترقيم محمد عوامة 8497)