کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی آدمی لوگوں کو دکھا کر اچھی نماز پڑھے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 8627
٨٦٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو خالد الأحمر عن (سعد) (١) بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (إياكم) (٢) و (شرك) (٣) السرائر"، قالوا وما شرك السرائر؟ قال: "أن يقوم أحدكم يزين (صلاته) (٤) جاهدًا لينظر الناس إليه فذلك شرك السرائر" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمود بن لبید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ چھپے ہوئے شرک سے بچو، چھپے ہوئے شرک سے بچو۔ لوگوں نے عرض کیا کہ چھپا ہوا شرک کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ کوئی آدمی نماز کو اس وجہ سے مزین کرے تاکہ لوگ اسے دیکھیں تو یہ چھپا ہوا شرک ہے۔
حدیث نمبر: 8628
٨٦٢٨ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: من صلى صلاة والناس يرونه فليصل إذا (خلا) (١) مثلها وإلا فإنما هي استهانة يستهين بها ربه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے لوگوں کے دیکھنے کی صورت میں نماز پڑھی تو اسے چاہئے کہ وہ اکیلے میں بھی ایسی نماز پڑھے، وگرنہ اس نے اپنے رب کی توہین کی۔
حدیث نمبر: 8629
٨٦٢٩ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن رجل عن حذيفة مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی یونہی منقول ہے۔