حدیث نمبر: 8564
٨٥٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن عيسى بن حفص بن عاصم عن عطاء ابن أبي مروان الأسلمي عن أبيه قال: خرجنا مع عمر بن الخطاب نستسقي فما زاد على (الاستغفار) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مروان اسلمی کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ بارش کی دعا کرنے نکلے، انہوں نے صرف استغفار کی دعا کی۔
حدیث نمبر: 8565
٨٥٦٥ - (حدثنا وكيع) (١) قال: ثنا سفيان عن مطرف عن الشعبي أن عمر بن الخطاب خرج يستسقي فصعد المنبر فقال: ﴿فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (١٠) يُرْسِلِ ⦗٣٢٣⦘ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (١١) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا﴾ [نوح: ١٠ - ١٢]، ﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا﴾، ثم نزل فقالوا: يا أمير المؤمنين لو استسقيت فقال: لقد طلبته (بمجاديح) (٢) السماء التي يستنزل بها (القطر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب بارش کی دعا کے لئے نکلے اور آپ نے منبر پر چڑھ کر یہ آیات پڑھیں : اپنے رب سے استغفار کرو، سورة نوح ١٠ سے ١٢ پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ لوگوں نے کہا کہ اے امیر المؤمنین اگر آپ بارش کے لئے دعا کرتے تو اچھا ہوتا ! حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے اسے اس جگہ سے طلب کیا جہاں سے بارش برستی ہے۔
حدیث نمبر: 8566
٨٥٦٦ - حدثنا جرير عن مغيرة عن أسلم العجلي قال: خرج (الناس) (١) مرة يستسقون (فخرج) (٢) [(معهم) (٣) إبراهيم] (٤) فلما فرغوا قاموا يصلون فرجع إبراهيم ولم يصل معهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم عجلی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ ایک مرتبہ بارش کی دعا کرنے نکلے، ابراہیم بھی ان کے ساتھ تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو نماز پڑھنے لگے۔ ابراہیم نے ان کے ساتھ نما ز نہیں پڑھی بلکہ واپس آگئے۔
حدیث نمبر: 8567
٨٥٦٧ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه خرج (مع) (١) المغيرة بن عبد اللَّه الثقفي يستسقي قال: فصلى المغيرة (فرجع) (٢) إبراهيم حيث رآه صلى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ ابراہیم ، حضرت مغیرہ بن عبد اللہ ثقفی کے ساتھ بارش کی دعا کرنے نکلے۔ حضرت مغیرہ نماز پڑھنے لگے تو ابراہیم انہیں نماز پڑھتا دیکھ کر واپس آگئے۔