حدیث نمبر: 8519
٨٥١٩ - حدثنا أبو بكر (قال: ثنا وكيع) (١) قال: حدثنا ابن أبي خالد عن قيس بن ⦗٣٠٨⦘ أبي حازم عن (أبي) (٢) مسعود الأنصاري (٣) عقبة بن عمرو قال: (انكسفت) (٤) الشمس على عهد النبي ﷺ فقال الناس: إنما انكسفت لموت إبراهيم فقال النبي ﷺ: "إن الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته ولكنهما آيتان من آيات اللَّه فإذا (رأيتموهما) (٥) فصلوا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسعود انصاری عقبہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا۔ لوگوں نے کہا کہ سورج کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات کی وجہ سے گرہن ہوا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ چاند اور سورج کو کسی کی زندگی اور کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں، جب تم انہیں گرہن لگا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 8520
٨٥٢٠ - (حدثنا وكيع) (١) قال: ثنا سفيان عن عاصم عن أبي قلابة عن النعمان ابن (بشير) (٢) أن رسول اللَّه ﷺ صلى في كسوف (نحوًا) (٣) من صلاتكم يركع ويسجد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گرہن کی نماز تمہاری نمازجیسی پڑھی، اس میں رکوع اور سجدہ بھی فرمایا۔
حدیث نمبر: 8521
٨٥٢١ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن عطاء (بن) (٢) السائب عن أبيه عن عبد اللَّه (بن) (٣) عمرو قال: انكسفت الشمس على عهد رسول اللَّه ﷺ فقام وقمنا ⦗٣٠٩⦘ معه ثم (قال) (٤): "يا أيها الناس (إن) (٥) الشمس والقمر آيتان من آيات اللَّه، فإذا انكسفت إحداهما فافزعوا إلى المساجد" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ اور ہم کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اے لوگو ! سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں، جب ان میں سے کسی کو گرہن لگے تو مسجدوں کی طرف چل پڑو۔
حدیث نمبر: 8522
٨٥٢٢ - حدثنا ابن علية وابن نمير عن سفيان عن حبيب عن طاوس عن ابن عباس (قال) (١): (صلى بنا) (٢) رسول اللَّه ﷺ في كسوف الشمس ثماني ركعات في أربع سجدات (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں گرہن کی نماز آٹھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی۔
حدیث نمبر: 8523
٨٥٢٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن طاوس عن النبي ﷺ بمثله ولم يذكر ابن (عباس) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس کا اپناقول بھی یہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 8524
٨٥٢٤ - حدثنا عبدة عن هشام عن أبيه عن عائشة قالت: خسفت الشمس على عهد رسول اللَّه ﷺ فصلى، ففرغ من صلاته (حين) (١) تجلى عن الشمس فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: "إن الشمس والقمر (آيتان) (٢) من آيات اللَّه [لا ⦗٣١٠⦘ (يخسفان) (٣) لموت أحد ولا لحياته، ولكنهما آيتان من آيات اللَّه] (٤) فإذا رأيتموهما فصلوا وتصدقوا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوگیا۔ آپ جلدی سے نماز میں مصروف ہوگئے اور اس وقت تک نماز پڑھتے رہے جب تک سورج روشن نہ ہوگیا۔ جب سورج روشن ہوگیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی اور فرمایا ” سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں، جب تم انہیں گرہن لگا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو اور صدقہ دو ۔
حدیث نمبر: 8525
٨٥٢٥ - حدثنا ابن نمير عن هشام عن أبيه عن عائشة عن النبي ﷺ مثله إلا (أن) (١) ابن نمير قال: فكبروا وادعوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے مختلف الفاظ کے ساتھ یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 8526
٨٥٢٦ - (حدثنا) (١) ابن نمير قال: أخبرنا عبد الملك عن عطاء عن جابر قال: أنكسفت الشمس على عهد رسول اللَّه ﷺ يوم مات إبراهيم بن النبي ﷺ فقال الناس: إنما انكسفت الشمس لموت إبراهيم، فقام النبي ﷺ فصلى بالناس ست ركعات وأربع سجدات، (بدأ) (٢) فكبر ثم قرأ فأطال القراءة ثم ركع نحوا مما قام ثم رفع رأسه من الركوع فقرأ قراءة دون (القراءة) (٣) (الأولى) (٤)، ثم ركع نحوًا مما قام ثم رفع رأسه من الركوع، (فقرأ قراءة دون الثانية، ثم ركع نحوًا مما قام، ثم رفع رأسه من الركوع) (٥)، ثم انحدر بالسجود فسجد سجدتين، ثم قام فركع أيضًا ثلاث ركعات ليس منها ركعة إلا التي قبلها أطول من التي بعدها وركوعه نحوا من سجوده، ثم تأخر وتأخرت الصفوف خلفه حتى انتهى إلى النساء، ثم تقدم وتقدم ⦗٣١١⦘ الناس معه حتى قام في مقامه، فانصرف حين انصرف وقد أضاءت الشمس فقال: "يا أيها الناس إنما الشمس والقمر آيتان من آيات اللَّه لا (ينكسفان) (٦) لموت بشر، فإذا رأيتم شيئا من ذلك فصلوا حتى تنجلي" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جب آپ کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو سورج کو گرہن لگ گیا، لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سے سورج کو گرہن لگ گیا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ آپ نے سب سے پہلے تکبیر کہی پھر قراءت کی اور لمبی قرائت کی، پھر قیام کے برابررکوع فرمایا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا ، پھر پہلی قراءت سے کم قراءت کی، پھر قیام کے برابر رکوع فرمایا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور دوسری قراءت سے کم قراءت کی، پھر اس قیام کے برابر رکوع فرمایا۔ پھر رکوع سے سر اٹھا کر سجدوں کے لئے جھک گئے اور دوسجدے کئے، پھر کھڑے ہوکر تین رکوع فرمائے، ہر رکوع سے پہلے رکوع اس سے زیادہ لمبا ہوتا تھا۔ اور آپ کے رکوع آپ کے سجدوں کے برابر ہوتے تھے۔ پھر آپ پیچھے آئے اور آپ کے پیچھے صفوں میں کھڑے لوگ بھی پیچھے آئے، یہاں تک کہ خواتین تک پہنچ گئیں۔ پھر آپ آگے ہوئے اور آپ کے ساتھ لوگ بھی آگے ہوئے یہاں تک کہ آپ اپنی جگہ آکھڑے ہوئے۔ پھر جب سورج روشن ہوگیا تو آپ نے نماز کو مکمل فرمالیا اور پھر ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب تم ان کو گرہن لگا ہوا دیکھو تو ان کے روشن ہونے تک نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 8527
٨٥٢٧ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي إسحاق عن السائب بن مالك عن النبي ﷺ أنه صلى في كسوف الشمس ركعتين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 8528
٨٥٢٨ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا يونس عن الحسن أن عليًا صلى في الكسوف عشر ركعات بأربع سجدات (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گرہن کی نماز دس رکوعات اور چار سجدوں کے ساتھ ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 8529
٨٥٢٩ - حدثنا غندر عن ابن جريج عن سليمان الأحول عن طاوس أن الشمس انكسفت على عهد ابن عباس فصلى على (صُفّة) (١) زمزم ركعتين في كل ركعة أربع سجدات (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے زمانے میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زمزم کے پاس دو رکعتیں پڑھائیں اور ہر رکعت میں چار سجدے کئے۔
حدیث نمبر: 8530
٨٥٣٠ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا يونس عن الحسن عن أبي بكرة قال: انكسفت الشمس (أو) (١) القمر على عهد رسول اللَّه ﷺ فقال: "إن الشمس والقمر آيتان من آيات اللَّه لا ينكسفان لموت أحد من الناس فإذا كان (ذلك) (٢) فصلوا حتى تنجلي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج یاچاند کو گرہن لگا تو آپ نے فرمایا سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب تم ان کو گرہن لگا ہوا دیکھو تو ان کے روشن ہونے تک نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 8531
٨٥٣١ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة [عن إبراهيم قال: كانوا يقولون إذا كان ذلك فصلوا صلاتكم حتى (تنجلي) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف کہا کرتے تھے کہ جب سورج گرہن ہو تو اس کے روشن ہونے تک نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 8532
٨٥٣٢ - حدثنا ابن نمير] (١) عن هشام عن فاطمة عن أسماء قالت: خسفت الشمس على عهد رسول اللَّه ﷺ فأطال رسول اللَّه ﷺ حتى تجلاني الغشي قال: قالت: فانصرف رسول اللَّه ﷺ وقد تجلت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسمائ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو آپ نے اتنی لمبی نماز پڑھی کہ میں بےہوش ہوگئی۔ آپ نے سورج کے روشن ہونے کے بعد نماز کو مکمل فرمایا۔
حدیث نمبر: 8533
٨٥٣٣ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: حدثني فلان وفلان أن النبي ﷺ قال: "إن كسوف الشمس والقمر آيتان من آيات اللَّه فإذا رأيتم ذلك (فافزعوا) (١) إلى الصلاة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ چاند اور سورج کو گرہن لگنا اللہ کی ایک نشانی ہے، جب ایساہو تو نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 8534
٨٥٣٤ - حدثنا عبد الأعلى عن الجريري عن (حيان) (١) بن عمير عن عبد الرحمن ابن سمرة وكان من أصحاب رسول اللَّه ﷺ قال: كنت أرتمي بأسهم بالمدينة في حياة رسول اللَّه (ﷺ) (٢) إذ (٣) انكسفت الشمس، فنبذتها، فقلت: واللَّه لأنظرن إلى ما حدث لرسول اللَّه ﷺ في كسوف الشمس، قال: فأتيته وهو قائم في الصلاة رافعا يديه قال: فجعل يسبح ويحمد ويكبر ويهلل (و) (٤) يدعو حتى حسر ⦗٣١٣⦘ عنها، قال: فلما حسر عنها، قال: قرأ سورتين وصلى ركعتين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا ، اس وقت میں تیر اندازی کررہا تھا، میں نے ان تیروں کو پھینکا اور بھاگا تاکہ دیکھ سکوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گرہن کے موقع پر کیا حکم فرماتے ہیں۔ میں حاضر ہوا تو آپ نماز میں اپنے ہاتھوں کو بلند کئے کھڑے تھے۔ آپ نے اس میں اللہ کی تسبیح، تحمید، تکبیر اور تہلیل بیان کی پھر دعا کی۔ یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا۔ جب سورج روشن ہوا تو آپ نے دوسورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں پڑھیں۔
حدیث نمبر: 8535
٨٥٣٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا زهير عن الأسود بن قيس قال: حدثني ثعلبة بن عباد العبدي أنه شهد يومًا خطبة لسمرة بن جندب فذكر في خطبته حديثًا عن رسول اللَّه ﷺ قال: قال لسمرة: (بينا) (١) أنا (يومًا) (٢) وغلام من الأنصار نرمي غرضا لنا على عهد رسول اللَّه ﷺ حتى إذا كانت الشمس قيد رمحين أو ثلاثة في عين الناظر من الأفق، اسودت حتى (آضت) (٣) كأنها تنومة قال: فقال أحدنا لأصحابه انطلق بنا إلى المسجد (٤) فواللَّه لتحدثن هذه الشمس لرسول اللَّه ﷺ في أمته حدثا (٥) قال: فدفعنا إلى المسجد فإذا هو بارز محتفل، قال: ووافقنا رسول اللَّه ﷺ حين خرج إلى الناس، فاستقدم فصلى بنا كأطول ما قام بنا في صلاة قط لا نسمع له صوتًا، (ثم سجد بنا كأطول ما سجد بنا في صلاة قط لا نسمع له صوتًا) (٦)، قال: ثم فعل في الركعة الثانية مثل ذلك، قال: فوافق تجلي الشمس جلوسه في الركعة الثانية فسلم (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثعلبہ بن عباد عبدی کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت سمرہ بن جندب کے خطبے میں حاضر تھا، انہوں نے ذکر کیا کہ میں اور ایک انصاری لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک شکار کو نشانہ بنا رہے تھے کہ سورج افق سے دیکھنے والے کی آنکھ کے لئے دو یا تین نیزوں کے برابر رہ گیا۔ وہ تنومہ نامی کالی بوٹی کی طرح کالا ہوگیا۔ ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ چلو مسجد چلتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بارے میں اپنی امت سے ضرور کوئی بات فرمائیں گے۔ ہم فورا مسجد کی طرف گئے تو دیکھا کہ مسجد میں لوگوں کا رش ہے اور لوگ جمع ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد جانے کے لئے تشریف لائے تو ہمیں آپ کے ساتھ جانا نصیب ہوگیا۔ آپ آگے بڑھے اور آپ نے لوگوں کو اتنی لمبی نماز پڑھائی کہ اتنی لمبی نماز کبھی نہ پڑھائی تھی۔ ہم نے اس میں آپ کی آواز نہیں سنی۔ پھر آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ اتنا لمبا سجدہ آپ نے کبھی نہ کیا تھا۔ ہم نے آپ کی آواز نہیں سنی۔ آپ نے دوسری رکعت میں بھی یوں ہی کیا۔ جب آپ دوسری رکعت کے قعدہ میں بیٹھے ہوئے تھے تو سورج روشن ہوگیا۔ پھر آپ نے سلام پھیر دیا۔
حدیث نمبر: 8536
٨٥٣٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام الدستوائي عن قتادة عن عطاء عن عبيد بن (عمير) (١) عن عائشة قالت: صلاة الآيات ست ركعات في أربع سجدات (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سورج اور چاند گرہن میں چھ رکوع اور چار سجدے ہیں۔
حدیث نمبر: 8537
٨٥٣٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عاصم بن عبيد اللَّه قال: رأيت ابن عمر يهرول إلى المسجد (في كسوف الشمس) (١) ومعه نعلاه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سورج گرہن کے وقت مسجد کی طرف بھاگ کر جا رہے تھے، آپ کے ساتھ آپ کی جوتیاں بھی تھیں۔
حدیث نمبر: 8538
٨٥٣٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا ربيع عن الحسن قال: يصلي ركعتين (ركعتين) (١) في الكسوف.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ گرہن کی نماز میں دو دو رکعتیں پڑھی جائیں گی۔
حدیث نمبر: 8539
٨٥٣٩ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن أبي الخير (بن) (١) تميم بن (حذلم) (٢) قال: كانت بالكوفة ظلمة فجاء (هني) (٣) بن نويرة (٤) معه صاحب له حتى دخلا على تميم بن (حذلم) (٥) وكان من أصحاب عبد اللَّه فوجداه يصلي قال: فقال لهما ارجعا إلى بيوتكما وصليا حتى ينجلي ما ترون فإنه كان يؤمر بذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں اندھیرا ہوگیا، اس پر حضرت ھنی بن نویرہ آئے ان کے ساتھ ان کے ایک ساتھی بھی تھے۔ وہ دونوں حضرات حضرت تمیم بن حذلم کے پاس گئے۔ حضرت تمیم بن حذلم حضرت عبد اللہ کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ ان دونوں حضرات نے تمیم بن حذلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو ان سے فرمایا کہ اپنے گھر چلے جاؤ اور اس وقت تک نماز پڑھو جب تک سورج روشن نہ ہوجائے۔ کیونکہ اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 8540
٨٥٤٠ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: إذا (فزعتم) (١) من أفق من آفاق السماء فافزعوا إلى الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ جب آسمان کے افق میں کچھ تبدیلی نظر آئے تو فورا نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 8541
٨٥٤١ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن عيسى بن (أبي) (١) عزة قال: فزع الناس في انكساف (الشمس) (٢) أو (القمر) (٣) أو شيء فقال الشعبي: عليكم بالمسجد فإنه من السنة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن ابی عزہ کہتے ہیں کہ لوگ سورج گرہن، چاند گرہن یا ایسی کسی صورت میں گھبراگئے تو حضرت شعبی نے فرمایا کہ مسجد میں جاؤ کیونکہ اس موقع پر مسجد میں جانا سنت ہے۔
حدیث نمبر: 8542
٨٥٤٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: يصلي ركعتين في الكسوف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہم گرہن میں دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8543
٨٥٤٣ - حدثنا معتمر عن إسحاق بن سويد عن العلاء بن زياد في صلاة الكسوف قال: يقوم (فيقرأ) (١) ويركع فإذا قال: سمع اللَّه لمن حمده نظر إلى القمر فإن (كان) (٢) لم (يتجل) (٣) قرأ ثم (ركع) (٤)، ثم رفع رأسه فإذا قال: سمع اللَّه لمن حمده نظر إلى القمر فإن كان [لم (يتجل) (٥) قرأ ثم ركع ثم رفع رأسه، فإذا قال: سمع اللَّه لمن حمده، نظر إلى القمر فإن كان] (٦) انجلى سجد ثم قام (فشفعها) (٧) ⦗٣١٦⦘ بركعة، وإدن لم (يتجل) (٨) لم يسجد أبدًا حتى (يتجلى) (٩) متى ما تجلى، ثم إدن كان كسوف (بعد) (١٠) لم يصل هذه الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن زیاد چاند گرہن کی نماز کے بارے میں فرماتے ہیں کہ امام قیامت میں قراءت کرے گا اور رکوع کرے گا۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو چاند کی طرف دیکھے۔ اگر چاند روشن نہ ہوا تو قراءت کرے پھر رکوع کرے پھر سر اٹھائے۔ جب سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو چاند کی طرف دیکھے، اگر روشن نہ ہوا ہو تو قراءت کرے پھر رکوع کرے پھر سر اٹھائے ، جب سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو چاند کی طرف دیکھے۔ اگر وہ روشن ہوگیا ہو تو سجدہ کرے، پھر کھڑا ہوکر اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملائے۔ اگر چاند روشن نہ ہوا ہو تو اس وقت تک سجدہ نہ کرے جب تک چاند کا کچھ حصہ روشن نہ ہوجائے۔ پھر اگر اس کے بعد دوبارہ گرہن ہوجائے تو یہ نماز نہ پڑھے۔
حدیث نمبر: 8544
٨٥٤٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسحاق بن عثمان (الكلابي) (١) عن أبي أيوب الهجري قال: انكسفت الشمس بالبصرة وابن عباس أمير عليها، فقام يصلي بالناس فقرأ (فأطال) (٢) القراءة، ثم ركع فأطال الركوع، ثم رفع رأسه ثم سجد، (ثم) (٣) فعل مثل ذلك في الثانية، فلما فرغ قال: هكذا صلاة الآيات، قال: فقلت: بأي شيء قرأ فيهما؟ قال: بالبقرة وآل عمران (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب ہجری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بصرہ میں سورج گرہن ہوگیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما وہاں کے امیر تھے۔ انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں طویل قراءت فرمائی۔ پھر لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی یونہی کیا، جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ گرہن کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یونہی نماز پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا ان رکعتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کون سی سورتوں کی قراءت کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ سورة البقرۃ اور سورة آل عمران کی۔
حدیث نمبر: 8545
٨٥٤٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى (قال) (١): أخبرنا شيبان عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن عبد اللَّه بن عمرو بن (العاص) (٢) أنه لما انكسفت الشمس على عهد رسول اللَّه ﷺ نودي بالصلاة جامعة، فركع رسول اللَّه ﷺ ركعتين في سجدة ثم قام فركع ركعتين في سجدة ثم جلي عن الشمس، قال قالت عائشة: ما سجدت سجودًا قط ولا ركعت ركوعا قط كان أطول منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوگیا تو اعلان ہوا کہ نماز کھڑی ہوگئی ہے۔ اس نماز میں آپ نے ایک سجدے کے ساتھ دو رکوع کئے، پھر کھڑے ہوئے اور ایک سجدے کے ساتھ دو رکوع کئے۔ پھر سورج روشن ہوگیا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے اس سے لمبے سجدے اور اس سے لمبے رکوع کبھی نہیں کئے۔
حدیث نمبر: 8546
٨٥٤٦ - حدثنا مصعب بن المقدام قال: أخبرنا زائدة قال: قال (زياد) (١) بن (علاقة) (٢): سمعت المغيرة بن شعبة يقول: انكسفت الشمس في عهد رسول اللَّه ﷺ يوم مات إبراهيم فقال الناس: انكسفت لموت إبراهيم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن الشمس والقمر (آيتان) (٣) من آيات اللَّه لا (ينكسفان) (٤) لموت أحد ولا لحياته، فإذا رأيتموهما فادعوا اللَّه وصلوا حتى تنكشف" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ جس دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو لوگوں نے کہا کہ سورج کو ابراہیم کے وصال کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ چاند اور سورج اللہ کی نشانیاں ہیں۔ انہیں کسی کی زندگی اور موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم ان کو گرہن لگا دیکھو تو اس وقت تک دعا اور نماز میں مصروف رہو جب تک یہ روشن نہ ہوجائیں۔